سوال
(۱)کوئی انویسٹر (بلڈر) زمین خرید کر اس کا عارضی نقشہ بناتا ہے اور اس نقشہ کی بناء پر انویسٹر آگے فلیٹ فروخت کرتا ہے کہ فرسٹ فلور ایک پارٹی کا ہوا، سیکنڈ فلورا ایک پارٹی کا ہوا ۔اس کی قیمت طے کر لیتا ہے کہ اس فلور کی یہ قیمت ہے۔ اس مد میں ڈاؤن پیمنٹ یا ٹوکن دینا ہوتا ہے اور اسی طرح سے بلڈنگ خریداروں کو ٹوکن یا ڈاؤن پیمنٹ لے کر پوری بلڈنگ فروخت کر دیتا ہے اور ایک ٹائم لمیٹڈ ہوتا ہے کہ 6 ماہ بعد جب اس زمین کا کھڈا کھو دیں گے جب تک ہم آپ کا مال بیچ دیں گے یا پھر آپ کو اس کی ڈاؤن پیمنٹ 25 فیصد دینی ہوگی اس کے بعد آپ کو اس کی قسط دینا ہوں گی تو آیایہ سب جائز ہے یا نا جائز اس کی رہنمائی فرما دیں۔
(۲)بلڈ نگ کمپلیٹ ہونے کے بعد اقساط کی بھی مکمل ادائیگی ہو جاتی ہے اور فل پیمنٹ کے بعد رجسٹری کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے تو بلڈر 20 سے 25 لاکھ روپے رجسٹری کے مانگتا ہے لیکن فوری طور پر رجسٹری نہیں دیتا اور رجسٹری کیلئے 6 سے 8 ماہ کا وقت لیتا ہے لیکن اس کے پیسے پہلے ہی لے لیتا ہے یعنی رجسٹری ہوتی نہیں ہے لیکن رجسٹری کے پہلے سے ہی پیسے لے لیتا ہے تو آیا یہ جائز ہے یانا جائز ہے اس بارے میں رہنمائی فرما دیں ۔
(۳)بلڈنگ مکمل ہونے کے بعد کوئی شخص اس میں رہائش اختیار کرتا ہے تو اس سے قبل اس بلڈ نگ کی کمیٹی رہائش اختیار کرنے سے پہلے 10 ہزار روپے طلب کرتی ہے تو آیا یہ جائز ہے یا نا جائز ہے اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔
سائل:محمد جمشید۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(۱)اصلِ مذہب میں مذکورہ طریقے سے فلیٹ کی خریدوفروخت ناجائز تھی کہ یہ معدوم کی بیع ہے،لیکن عرف و تعامل کی وجہ سے صاحبین رحمہما اللہ کے قول پر فتوی دیتے ہوئے’’عقد استصناع‘‘ کے طور پر اسے جائز قرار دیا جاتا ہے۔
عقد استصناع میں اصلاً مال کا وقت ِعقد پایا جانا ضروری نہیں ہے ، لہٰذا بلڈر کے پاس پلاٹ تک نہ ہو، جب بھی عقد استصناع ہو جانا چاہیے تھا،لیکن لوگوں کو دھوکا دہیسے بچانے کیلئے پاکستانی قانون میں اس بات کی اجازت نہیں کہ کسی کے پاس پلاٹ نہ ہو اور وہ پروجیکٹ لاؤنچ کرے،بلکہ پلاٹ خریدنے کے بعد متعلقہ محکموں سے نقشہ پاس کروانے کے بعد ہی بلڈر کو قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ پروجیکٹ لاؤنچ کر کے بکنگ شروع کرے ۔لہذا جب بلڈر قانونی تقاضے پورا کرلے تو فلیٹ کی خرید جائز ہوگی۔
ہماری معلومات کے مطابق یہاں بلڈر کی طرف سے خریدار پر وقت کی قید لگانا (کہ یا تو 6 ماہ بعد ڈاؤن پیمنٹ ادا کریں یا پھر آپ کا بک کیا ہوا فلیٹ بیچ دیا جائے گا) وکالت بالبیع ہےیعنی خریدار بلڈر کو اس بات کا وکیل بناتا ہے کہ جب زمین کا کھڈا کھودا جائے گا اور مزید خریدار آئیں گے تو آپ میرا یہ بک کیا ہوا فلیٹ آگے اچھے داموں بیچ دیجئے گالیکن اگر اچھے دام نہ ملے یا خریدار نہ آیا تو بقیہ ثمن (قیمت) کی ادائیگی مجھ پر لازم ہوگی جو پہلے ڈاؤن پیمنٹ اور پھر قسطیں ادا کرکے پوری کی جائے گی،ایسا کرنا جائز ہے کہ شریعت مطہرہ میں خریدو فروخت کی درستگی کیلئے ثمن کی فوری ادائیگی لازم نہیں۔نیز مذکورہ صورت ’’بیع الحق‘‘ (حق کی بیع)کے قبیل سے ہے کہ جب بلڈر نے فلیٹ بیچا تو اس میں خریدار کا حق ثابت ہوگیا اور ہمارے عرف کی وجہ سے حق کی بیع کو جائز قرار دیا گیا ،اسکی کئی مثالیں ہیں: کاپی رائٹ،رجسٹرڈ ٹریڈ مارک کی بیع اورحق اجارہ کی بیع جس کو پگڑی سے تعبیر کیاجاتاہے۔
(۲)رجسٹریشن ایسا حق ہے جو ہمارے عرف میں قیمتی مال شمار کیا جاتا ہے،اسی لئے اس رجسٹرڈ حق کو مروجہ عرف کی بناء پر اموال کے حکم میں اس کی بیع کو جائز قرار دیا جاتا ہے،کیونکہ احکام شرع میں بہرحال عرف معتبر ہے۔
پھر سوال کا جواب یہ ہے کہ بلڈر کے رجسٹری کروانے کی دو صورتیں ہیں:
(۱) رجسٹری کی وکالت۔ (۲)رجسٹری کا اجارہ۔
یعنی یا تو بلڈر خریدار کی رقم سے ہی رجسٹری کروائے تو یہ وکالت کی صورت بنے گی، کہ یہاں بلڈر رجسٹری کے واسطے خریدار کا وکیل بنا۔یا پھر بلڈر اپنی رقم سے رجسٹری کروائے تو یہ اجارہ شمار کیا جائے گا۔
پہلیصورت (وکالت)میں ایڈوانس رقم لینے میں اصلا کوئی حرج نہیں کہ یہاں رقم مؤکل ہی کی استعمال ہوتی ہے۔
رہی دوسری صورت (اجارہ) تو اگر ایڈوانس رقم لینے کی شرط لگائی جائے تو یہ بھی جائز ہوگا اگرچہ ابھی رجسٹری نہ ہوئی ہو۔کیونکہ اجارہ میں پیشگی اجرت کی شرط لگانا جائز ہے۔
(۳)ہماری معلومات کے مطابق بلڈنگ کمیٹی کا 10 ہزار روپے لینا ممبر شپ فیس ہوتی ہے،جس میں رنگ روغن اور بلڈنگ کے بڑے بڑے اخراجات جو ماہانہ منٹینس فیس سے پورے نہیں ہوپاتے شامل ہوتے ہیں۔اس ممبر شپ سے خریدار یا کرایہ دار کوایسے منافع حاصل ہوتے ہیں جو اس کے گھر کی قیمت میں بھی مؤثر ہوتے ہیں اور شریعت مطہرہ نے منافع کے عوض مال دینے کو جائز قرار دیا ہے جِسے ’’اجارہ ‘‘کہا جاتا ہے،لہذا ان اخراجات کے عوض رقم لینا جائز ہے ۔
دلائل و جزئیات:
مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے:’’مذہب امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ جو خود مفتیٰ بہ ہے اس کی رو سے اس وقت بیع استصناع نہیں ہو سکتی جب کہ ایک ماہ یا زیادہ دنوں کی مدت بیع میں مذکور ہو۔لیکن صاحبین رحمہما اللہ کا مذہب یہ ہے کہ تعامل کی صورت میں ذکرِ مدت کے ساتھ بھی استصناع جائز ہے، اور مدت کا ذکر تعجیل پر محمول ہو گا۔اب یہ دیکھا جاتا ہے کہ شہروں میں مکان بہت گراں قیمت ہوتے ہیں، بیک وقت ان کی مکمل تعمیر میں کثیر سرمایہ لگانا اور کثیر سرمایہ دے کر خریدنا دونوں مشکل ہے ، اس لیے یہ رواج ہوا کہ کچھ لوگ فلیٹوں کا نقشہ بنا کر بکنگ شروع کر دیتے ہیں اور خریدنے والے بھی قسطوں پر خریداری شروع کر دیتے ہیں، انہیں اگر تکمیل عمارت کے بعد یک مشت خریداری کا پابند کیا جائے تو سخت دشواری میں مبتلا ہوں گے۔اولاً : ان کے پاس بیک وقت اتنا سرمایہ جمع ہونا مشکل ہو گا۔ثانیا:جب قسط وار خرید نے والے فلیٹ کا ہر حصہ خرید چکے ہوں گے تو یک مشت سرمایہ دے کر بھی بلڈروں سے ان کو مکان نہ مل سکے گا۔جب کہ مکان کی ضرورت ہر شخص کو ہے۔
الحاصل ان حالات میں ان کیلئے مذہبِ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے عدول کے لیے حاجت شرعیہ متفق ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ بہت سے شہروں میں اس طریقہِ خرید و فروخت پر عوام و خواص کا عمل درآمد ہے۔ایسی صورت میں صاحبین علیہما الرحمہ کے نزدیک ایک ماہ یا زیادہ مدت ذکر ہونے کے باوجود استصناع جائز ہے اور قول صاحبین بھی باقوت ہے، اس لیے اس صورت کو استصناع کے دائرے میں رکھتے ہوئے قول صاحبین پر جائز ہونے کا حکم دیا جاتا ہے۔(مجلس شرعی کے فیصلے،فیصلہ:22،ص:238-239،مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور ہند)
بیع میں ثمن کا نقدو ادھار دونوں جائز ہے، امام ابو البركات عبد الله بن احمد حافظ الدين النسفی(المتوفی:710) فرماتے ہیں:"وَصَحَّ بِثَمَنٍ حَالٍّ وَبِأَجَلٍ مَعْلُومٍ".ترجمہ:اور خریدو فروخت نقد اور ادھار (جس کی مدت معلوم ہو ) دونوں طرح سے جائز ہے۔(کنز الدقائق مع البحر الرائق،کتاب البیع،الاعواض فی البیع،5/301،دار الکتاب الاسلامی)
ثابت شدہ حق کے عوض مال لینے پر عرف کی وجہ سے فتوی جواز پر ہے،علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"فَيُفْتَى بِجَوَازِ النُّزُولِ عَنْ الْوَظَائِفِ بِمَالٍ".ترجمہ:فتوی اس بات پر ہے کہ ملازمت سے مال کے عوض معزول ہونا جائز ہے۔(الدرالمختار،کتاب البیوع،4/519،دار الفکر بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:’’ اب یہ کلام مسئلہ اعتیاض عن الوظائف کے طرف منجر ہو گا وہاں ہر چند علماء کو اختلاف ہے۔اور یہ مبحث معرکۃ الآ راء ہے مگر مرضی ومختار جماہیر فحول ونحار یر عدول ،صحت وقبول ہے اور وہی ہنگام اعتبار وملاحظہ نظائر ان شاء اللہ تعالی اظہر ‘‘(خلاصہ عبارت:اپنی ملازمت سے رقم کے عوض معزول ہونے کے معاملہ میں علماء نے بہت بحثیں کی ہیں مگر ان میں جس بحث کو جمہور علماء نے اختیار اور پسند فرمایاوہ یہی ہے کہ مال کے عوض معزول ہونا جائز ہے یہ علماء کے دلائل سے روز روشن کی طرح واضح ہے)۔(فتاوی رضویہ،17/110،رضافاؤنڈیشن لاہور)
علامہ شامی رحمہ اللہ شرح عقود میں فرماتے ہیں:"والعرف فی الشرع لہ اعتبار.. .لذا علیہ الحکم قد یدار".ترجمہ: شریعت میں عرف کا اعتبار ہے.. .اسی لیے اس پر حکم کا مدار ہے ۔(شرح عقود رسم المفتی،ص: 212)
پیشگی اجارہ کی شرط جائز ہے،صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’پیشگی لینا شرط کرلیا ہواب اُجرت کا مطالبہ پہلے ہی سے درست ہے‘‘۔(بہار شریعت،اجارہ کا بیان،3/110،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
منافع کی بیع اجارہ کہلاتی ہے،علامہ ابرہیم بن محمد الحلبی (المتوفی:956ھ) فرماتے ہیں:"(كتاب الْإِجَارَة) هِيَ بيع مَنْفَعَة مَعْلُومَة بعوض مَعْلُوم دين أَو عين".ترجمہ:اجارہ یہ منفعتِ معلومہ کو عوضِ معلوم کے بدلے بیچنا ہے خواہ عوض دین ہو یا عین۔(ملتقی الابحر،کتاب الاجارۃ،1/511،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اجارہ عمل و عین دونوں پر کیا جاتا ہے،الفتاوی الہندیۃمیں ہے:"فَنَقُولُ إنَّهَا نَوْعَانِ: نَوْعٌ يَرِدُ عَلَى مَنَافِعِ الْأَعْيَانِ كَاسْتِئْجَارِ الدُّورِ وَالْأَرَاضِي وَالدَّوَابِّ وَالثِّيَابِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ وَنَوْعٌ يَرِدُ عَلَى الْعَمَلِ كَاسْتِئْجَارِ الْمُحْتَرِفِينَ لِلْأَعْمَالِ كَالْقِصَارَةِ وَالْخِيَاطَةِ وَالْكِتَابَةِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ".ترجمہ: ہم کہتے ہیں کہ اجارہ کی دو اقسام ہیں۔پہلی قسم عین اشیاء کے منافع پر ہےجیسا کہ مکانوں، زمینوں، جانوروں، کپڑوں اور اسکے مثل اشیاء کو اجارہ پر لینا۔ اور دوسری قسم عمل پر اجارہ ہے جیسے پیشہ ور افراد کا کام کرنے پر اجارہ کرنا مثلاً دھوبی کا پیشہ، کپڑا سلائی کا پیشہ، کتابت کا پیشہ اور اس کے مثل دیگر پیشے۔ایسا ہی المحیط میں ہے۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الاجارة،الباب الاول،4/411،دار الفکر)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:6 ذو القعدہ 1445 ھ/15مئی 2024ء