ویلفئیر کا وصولی زکوة کے وکیل بننے کی حیثیت اور شرعی حکم
    تاریخ: 27 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 38
    حوالہ: 451

    سوال

    ہیلپ انٹرنیشنل ویلفیئر ٹرسٹ ایک خالصتاً سماجی ادارہ ہے جو کہ پاکستان میں مقیم مسلمان چلارہے ہیں تھیلیسیمیا کے مریضوں کا %100مفت اور معیاری علاج کرتا ہے۔اس کے علاوہ غریب بچوں کی تعلیم، بیواؤں کی امداد، غریب بچیوں کی شادی میں معاونت اور دیگر سماجی کام بھی کرتا ہے۔اس ادارہ کی %80 آمدنی زکوۃ سے حاصل ہوتی ہے جبکہ% 20 عطیہ وخیرات سے حاصل ہوتی ہے ۔چونکہ ہمارا کام %100مفت ہے لہذا ہم کو درجہ ذیل اخراجات% 80 زکوۃ فنڈ سے ہی کرنے ہوتے ہیں۔آپ سے گزارش ہے کہ آپ قرآن اور حدیث کی روشنی میں یہ بتائیں کہ کیا ہم زکوۃ فنڈ سے درجہ ذیل اخراجات کرسکتے ہیں؟

    تمام عملہ کی تنخواہیں، بونس، عیدی، اور ٹائم، تمام یوٹیلی بلز، ادویات، لیبارٹری کے ٹیسٹ، بچوں کے لیے کھانا اور مہمانوں کے لیے چائے وغیرہ ،مارکیٹنگ،پرنٹنگ، آگاہی اور بچاؤ کے پروگرام، ایمبولینس، ہسپتال کے استعمال کے لیے گاڑی ،دفاتر میں استعمال ہونے والا فرنیچر، کمپیوٹر، پنکھے، لیبارٹری میں استعمال ہونے والی مشین ادارے کو وسعت دینے کے لیے پلاٹ اور عمارت کی تعمیر اور اس عمارت کے استعمال میں تمام فرنیچر، مشینری و دیگر ضروری اشیاء ۔نیز کیا ہم زکاۃ کی رقم اسلامک بینک یا کسی اور جگہ انویسٹ کرسکتے ہیں یا نہیں؟کیا ہم ضرورت و مجبوری میں سٹاف کو قرض دے سکتے ہیں یا نہیں ؟ وہ ہمیں اپنی سیلری سے وہ قرض ادا کرتے ہیں۔اور ان معاملات کو چلانے کیلیے FBR اور دیگر گورمنٹ اداروں کو رشوت بھی دینا پڑتی ہے۔

    ان تمام معاملات کا طریقہ کار یہ ہے ہم مستحق افراد سے وصولِ زکاۃ اور انکے اور مستحق افراد کے علاج و دیگر ضروریات میں خرچ کرنے کا وکالت نامہ لیتے ہیں۔ اور ہم ان مستحق افراد کی طرف سے زکاۃ وصول کرتے ہی وکیل بن جاتے ہیں۔ لہذا اس وکالت نامہ کے مطابق مذکورہ مسائل کر سکتے ہیں یا نہیں؟وکالت نامہ سوال کے ساتھ منسلک ہے۔آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس سلسلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں اور اپنے ادارے کے لیٹر ہیڈ پر اس کا تحریری جواب ارسال فرمائیں۔

    سائل: عادل احمد خان،صدرہیلپ انٹرنیشنل ویلفیئر ٹرسٹ

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مسؤولہ کے دو اجزاء ہیں:

    (۱)زکوۃ اور عطیہ و خیرات کی مد میں آنے والے آمدنی کو منسلک کردہ وکالت نامہ کے مطابق مذکورہ مصارف میں خرچ کرنا۔

    (۲)ویلفیئر کے معاملات کو چلانے کیلئے گورمنٹ اداروں کو رشوت دینا۔

    پہلا جزءعملی لحاظ سے پیچیدگیوں سے خالی نہیں،کیونکہ ویلفیئر کا منسلک کردہ وکالت نامہ کے مطابق مذکورہ مصارف میں خرچ چند صورتوں میں خرابی لاتا ہے،البتہ ان کا شرعی حل آئندہ سطور میں بیان ہے لہذا شرعی حل کے مطابق ہی مذکورہ مصارف میں خرچ شرعاً جائز ہوگا۔

    دوسرے جزء کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر FBR اور دیگر گورمنٹ اداروں کو رشوت دیے بغیر ویلفیئر کے معاملات کو چلانا ممکن نہ ہو تو آپ پر کوئی شرعی گرفت نہ ہوگی لیکن لینے والے کیلئے یہ مال حرام ہی رہے گا۔البتہ اداروں کو دی جانے والی رشوت وہ مال ہو جو ویلفیئر کو ڈونر کی جانب سے سود کی صورت میں ملی ،جس کا حکم شرعی یہ ہے کہ بغیر نیت ثواب کے کسی فقیر کو دے دی جائے پھر فقیر قبضہ کے بعد وہ رقم ویلفیئر کو مطلوبہ مد میں خرچ کرنے کی اجازت دے دے۔

    پہلے جزء کی تفصیل:

    کسی شخص کا دوسرے شخص کو اپنی جگہ کسی جائز اور متعین تصرف میں قائم مقام بنانا وکالت کہلاتاہے۔عقد وکالت میں وکیل مؤکل کاتابع ہوتاہے یعنی وکیل اتنے ہی تصرف کااختیار رکھتاہے جتنا مؤکل نے اسے دیا ہو ۔باقی معاملات کی طرح وصولی زکوۃ کے لیے بھی کسی شخص کو وکیل بنانا جائز ہےجس میں وہ مؤکل کے قول کا پابند ہوگا۔وکیل کی حیثیت امین کی ہوتی ہے،یعنی تعدّی کی صورت میں تاوان لازم آئے گا وگرنہ نہیں۔

    ویلفیئر کو زکوۃ وصول کرنے کا وکیل اس جملے سے بنایا گیا کہ :’’میرے لئے زکوۃ و صدقات کی رقم اور دیگر امدادی چیزیں وصول کریں‘‘ لہذا جب ویلفیئر شرعی فقیر کی جانب سے مالِ زکوۃ کی وصولی کرتا ہے تو فقیر شرعی اس زکوۃ کا مالک ہوگیا ،اسکے بعد اس مال کی حیثیت عام مال کی سی ہوگئی کہ زکوۃ ادا ہوگئی۔پھرفقیر شرعی کی جانب سے اس مال کے خرچ کا وکیل ان جملوں سے بنایا گیا:’’حاصل ہونے والی رقم اور چیزوں کو میرے علاج اور دیگر مستحقین کے علاج معالجہ اور متعلقہ تمام ضروریات پر خرچ کیا جائے‘‘۔’’حاصل ہونے والی رقم اور امداد کو ادارہ کے رفاہی کاموں میں خرچ کرنے کی بھی وکالت دیتا یا دیتی ہوں‘‘۔

    خلاصہ یہ کہ وکالت نامے میں اوّلا شرعی فقیر کی جانب سے ویلفیئر وصولی زکوۃ کا وکیل بنتا ہے پھر اس مال کے خرچ کا وکیل کا بنتا ہے۔

    وکالت نامے میں حاصل ہونے والی رقم اور چیزوں کو مؤکل (فقیر شرعی) کے علاج اور دیگر مستحقین کے علاج معالجہ اور متعلقہ ضروریات اور ادارہ کے رفاہی کاموں میں خرچ کرنے کی وکالتثابت ہے،جبکہ سوال میں مذکور مصارف نہ تو علاج معالجہ میں شامل ہیں نہ ہی ادارہ کے رفاہی کاموں میں ۔اس کا شرعی حل یہ ہے کہ اس مال کوخرچ کرنے کیلئے وکالت نامے میں مزید ایک سطر لازمی شامل کریں اور وہ یہ کہ حاصل ہونے والی رقم اور امداد کو ادارہ کے معاملات کو چلانے کیلئے ہر جائز کام میں خرچ کی وکالت دیتا یا دیتی ہوں۔

    متعدد شرعی فقراء سے وکالتیں لیناعملی لحاظ سے قدرِ مشکل ہے ، پیچیدگیوں سے خالی نہیں:

    اسکی مثال:دس شرعی فقیروں کی جانب سے ایک کروڑ روپے زکوۃ کی مد میں وصول کیے گئے،چند لمحوں بعد ایک اور ڈونر آیا جس نے پچاس لاکھ روپے زکوۃ کی مد دیے۔تو یہاں پر پہلے ڈونر سے زکوۃ وصول کرنے کے بعد وہ دس مؤکلین شرعی فقیر نہ رہے جن کی وکالت میں زکوۃ وصولی کی جاتی تھی،تو اب ان پچاس لاکھ روپوں کا کیا ہو گا؟جو کہ ایسے لوگوں کی جانب سے بطور وکیل وصول کیے گئے جو فی الحال شرعی فقیر نہیں۔اس صورت میں ڈونر کی زکوۃ ہر گز ادا نہیں ہو گی۔

    شرعی حل:

    متعدد فقراء ِشرعی سے وکالتیں لینا جائز ہے۔البتہ ذکر کردہ صورت کا حل یہ ہے کہ ان وکالتوں کا شرعی لحاظ سے وقتا فوقتاً جائزہ لیا جائے کہ ان میں سے کوئی مؤکل(یعنی فقیر شرعی) غنی تو نہیں ہو گیا؟ کیوں کہ ویلفیئر کے پاس اگر اتنی رقم آگئی جس نے تمام مؤکلوں کو صاحبِ نصاب بنا دیا تو ابنئی زکوۃ وصول کرنے کے لیے شرعی حل یہ ہے کہ نئے شرعی فقیروں سے وکالتیں لے لیں ۔

    اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ اگر ویلفیئر کے پاس اتنا مال آیا کہ اسے تمام فقراء شرعی پر تقسیم کیا جائے تو تمام صاحبِ نصاب غنی ہوجائیں تو ایسی صورت میں وکالت کالعدم ہوجائے گی،پھر مزید ڈونیشن حاصل کرنے کی اجازت شرعًا نہ ہوگی۔

    اشکال: جب فقراءشرعی غنی (یعنی صاحب ِنصاب)ہوگئے تو جیسا کہ وکالت نامے میں موجود ہے کہ ’’میرے صاحب نصاب ہونے یا انتقال کی صورت میں میرے وکالت نامے کو کالعدم سمجھا جائے‘‘ اس شق کے مطابق یہ وکالت نامہ کالعدم ہوجائے گا جسکے نتیجے میں اس مال کا مذکورہ مصارف میں خرچ نا جائز ہوگا کہ مال کا مالک وہ شرعی فقیر ہے جو اس مال کی وجہ سے غنی ہوچکا اور اسکی ویلفیئر کو دی گئی خرچ کی وکالت کالعدم ہوچکی لہذا ویلفیئر اس مال کو کسی بھی مد میں خرچ کرنے کی شرعاً اجازت نہیں رکھے گا۔

    جواب: وکالت نامے میں موجود ذکر کردہ جملے سے مراد یہ ہے کہ آئندہ نہ تو میری طرف سے زکوۃ وصول کی جائے نہ ہی انہیں خرچ کیا جائے،ابھی کے خرچ کی وکالت کالعدم نہیں۔اور احتیاطاً اس جملے کو یوں لکھ لیا جائے کہ’’ میرے صاحب نصاب ہونے یا انتقال کی صورت میں میرے وکالت نامے کو آئندہ کالعدم سمجھا جائے‘‘۔

    یہ مدِ نظر رہے کہ متعدد فقیروں سے وکالتلینے کی صورت میں سب سے صراحت یا دلالت کے ساتھ اجازت لینا ہو گی کہ آپ سب لوگوں کی زکوۃ ایک ہی جگہ بلا امتیاز رکھی جائے گی۔ البتہ اگر وہاں کا عرف ہو کہ زکوۃ ایک ہی پول میں بلا تمییزِ غیر رکھی جاتی ہے ،اور شرعی فقیر بھی اسے جانتے ہوںتو یہ بھی اجازت سمجھی جائے گی ۔

    دلائل و جزئیات:

    مجلۃ الأحكام العدليۃ میں ہے: "المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان".ترجمہ:وہ مال جسے خرید و فروخت یا دین کی ادائیگی و وصولی یا عین شے کے قبضے کے وکیل نے قبضہ کیا ہو وہ مال اسکے پاس ودیعت کے حکم میں ہے کہ جب بغیر غفلت و کوتاہی کے مال ضائع ہوا تو کوئی تاوان لازم نہیں آئے گا۔(مجلۃ الأحكام العدليۃ ،1 / 284،المادۃ:1463،نور محمد کتب خانہ کراچی)

    رد المحتار میں ہے:"فَلَوْ كَانُوا مُتَعَدِّدِينَ لَا بُدَّ أَنْ يَبْلُغَ لِكُلِّ وَاحِدٍ نِصَابًا لِأَنَّ مَا فِي يَدِ الْوَكِيلِ مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُمْ، فَإِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، وَمَا فِي يَدِ الْوَكِيلِ بَلَغَ نِصَابَيْنِ لَمْ يَصِيرُوا أَغْنِيَاءَ فَتُجْزِي الزَّكَاةُ عَنْ الدَّفْعِ بَعْدَهُ إلَى أَنْ يَبْلُغَ ثَلَاثَةَ أَنْصِبَاءَ إلَّا إذَا كَانَ وَكِيلًا عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ بِانْفِرَادِهِ، فَحِينَئِذٍ يُعْتَبَرُ لِكُلِّ وَاحِدٍ نِصَابُهُ عَلَى حِدَةٍ، وَلَيْسَ لَهُ الْخَلْطُ بِلَا إذْنِهِمْ؛ فَلَوْ خَلَطَ أَجْزَأَ عَنْ الدَّافِعِينَ وَضَمِنَ لِلْمُوَكِّلِينَ". ترجمہ:پس اگر متعدد فقیر ہوں تو ضروری ہے کہ ہر ایک کا حصہ مکمل نصاب کو پہنچے کیوں کہ جو کچھ وکیل کے ہاتھ میں ہے ان مؤکلوں کے مابین مشترک ہے۔پس اگر مؤکلین تین ہوں اور وکیل کے پاس جو زکوۃ ہے وہ دو نصابوں کو پہنچتی ہے تو وہ سب اغنیا نہیں ہوں گے،پس اس کے بعداگر( کسی نے مزید زکوۃ دی تو )ادا ہو جائے گی جب تک کہ کل رقم تین نصابوں کو نہ پہنچ جائے۔ مگر جب ہر کی جانب سے الگ الگ طور پر وکیل بنا تو اس صورت میں ہر ایک کے نصاب کا الگ الگ اعتبار کیا جائے گا ۔اور ان کی اجازت کے بغیر مالِ زکوۃ کو ملانا جائز نہیں ہو گا ۔پس اگر خلط ملط کر دیا تو مزکین (زکوۃ دینے والوں) زکوۃ ادا ہو جائے گی ۔اور یہ وکیل مؤکلین کو ضمان دے گا ۔(رد المحتار کتاب الزکوۃ ، 2/269،دار الفکر بیروت)

    مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہفرماتے ہیں :’’اگر مؤکلوں نے صراحۃً ملانے کی اجازت نہ دی مگر عرف ایسا جاری ہوگیا کہ وکیل ملا دیا کرتے ہیں تو یہ بھی اجازت سمجھی جائے گی، جب کہ مؤکل اس عرف سے واقف ہو، مگر دلال کو خلط کی اجازت نہیں کہ اس میں عرف نہیں‘‘۔ (بہار شریعت حصہ05 صفحہ888 ،مکتبۃ المدینہ )

    اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :’’زکوٰۃ دہندہ نے اگر زرِ زکوٰۃ مصرف زکوٰۃ کو دے کر اس کی تملیک کردی تواب اُسے اختیار ہے جہاں چاہے صرف کرے کہ زکوٰۃ اس کی تملیک سے ادا ہوگئی ‘‘۔ (فتاوی رضویہ ،10/267،مسئلہ124،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    رشوت کے متعلق علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن ہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں: "أَخَذَ الْمَالَ لِيُسَوِّيَ أَمْرَهُ عِنْدَ السُّلْطَانِ دَفْعًا لِلضَّرَرِ أَوْ جَلْبًا لِلنَّفْعِ وَهُوَ حَرَامٌ عَلَى الْآخَرِ لَا الدَّافِعِ".ترجمہ: ضر ر دور کر نے یا نفع حاصل کرنے کیلئےکسی سے مال لے تا کہ حاکم کے یہاں اس رشوت دینے والے کا کام بنا دے اور رشوت کی یہ قسم لینے والے کیلئے حرام ہے ،دینے والے والے کیلئے نہیں۔(فتح القدیر،7/255،دار الفکر،رد المحتار،5/362،دار الفکر)

    علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز عابدین شامی (المتوفی:1252ھ) فرماتے ہیں: "دَفْعُ الْمَالِ لِلسُّلْطَانِ الْجَائِرِ لِدَفْعِ الظُّلْمِ عَنْ نَفْسِهِ وَمَالِهِ وَلِاسْتِخْرَاجِ حَقٍّ لَهُ لَيْسَ بِرِشْوَةٍ يَعْنِي فِي حَقِّ الدَّافِعِ".ترجمہ:ظالم بادشاہ کو اس لئے مال دینا کہ اپنی جان و مال کو اِسکے ظلم سے بچائے اور اپنا حق حاصل کرسکے تو یہ مال رشوت نہیں یعنی دینے والے کیلئے یہ رشوت نہیں۔(رد المحتار،6/423،424،دار الفکر)

    علامہ علی بن سلطان ملا علی قاری (المتوفی:1014ھ) حدیث مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: "الرِّشْوَةُ مَا يُعْطَى لِإِبْطَالِ حَقٍّ، أَوْ لِإِحْقَاقِ بَاطِلٍ، أَمَّا إِذَا أَعْطَى لِيَتَوَصَّلَ بِهِ إِلَى حَقٍّ، أَوْ لِيدْفَعَ بِهِ عَنْ نَفْسِهِ ظُلْمًا فَلَا بَأْسَ بِهِ".ترجمہ:رشوت وہ ہے جوکسی کاحق باطل کرنے یا باطل کو حق دلانے کیلئے دی جائے، لیکن اگر اس لئے دی جائے کہ اسکے ذریعے حق وصول ہو یا اپنے سے ظلم کو روکنے کیلئے ہو تو کوئی حرج نہیں۔(مرقاۃ المفاتیح،6/2437،رقم الحدیث:3753،دار الفکر)

    نوٹ :

    آپ کا ادارہ فلاحیادارہ ہے ،جس میں زکوۃ کے ساتھ ساتھ ،صدقاتِ واجبہ و نافلہ کے مسائل آئے روز آئیں گے،جن کو سمجھنا، اور ان کا حل نکالنا ہر کس و ناکس کی بات نہیں ۔ آپ کوادارے کے تمام تر شرعی معاملات میں رہنمائی کے لیے ایک مستند ،سنی مفتی کو بطور شرعی ایڈوائزر رکھنا ضروری ہو گا۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 21 رجب المرجب 1444 ھ/13 فروری 2023ء