سوال
ایک عالم صاحب نے ٹی وی چینل پر ایک مسئلہ بیان کیا کہ کسی اور زبان کے ڈراموں (جو کہ ہر طرح کے ہوتے ہیں ، اچھے ، برے رومینٹک و غیر ہا) کو اردو میں منتقل کرنا یعنی (voice over) کا کام فتوی کی روشنی میں دیکھیں تو جائز ہے اور اس کی کمائی بلکل طیب و حلال ہے۔
یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے ہم کوئی ناول پڑھتے ہیں تو اس میں کوئی رومینٹک بات لکھی ہوئی ہو ، تو اسے ادا کرنا گناہ نہیں ہوتا۔ اسی طریقے سے آپ اگر ڈبنگ کرتے ہیں تو آپ کی آواز کو استعمال کرنے اور وقت دینے کا آپ پیسہ لے رہے ہیں تو یہ آپ کے لیے طیب و حلال ہو گا، کوئی اسے کہاں استعمال کر رہا ہے اور کیا استعمال کر رہا ہے یہ اس کا عمل ہے۔
اس پر انھوں نے د لیلیں بھی دی ہیں کہ جیسے باہر کے ملک میں جو لوگ ٹیکسی چلاتے ہیں تو سواری کو کبھی وہ چرچ چھوڑتے ہیں، کبھی کلب چھوڑتے ہیں تو ان کا ایسی سواری کو سروس دے کر پیسے کمانا جائز ہے۔
اسی طرح سے جو لوگ تعمیرات کا کام کرتے ہیں انہیں پتہ کہ اس میں زنا ہو گا شرابیں پی جائیں گی تو فقہاء نے آج کل کے دور کے لحاظ سے یہی مسئلہ بتایا ہے کہ اگر آپ برائی میں تعاون کی نیت نہ کریں تو وہ تعمیر کرنا آپ کے لیے بلکل صحیح ہے۔
اور ان ڈراموں میں ایسا نہیں کہ ہر سین میں خراب بات ہو بلکہ بہت سے سین ہوتے ہیں جس میں گھر کی بات چل رہی ہے آفس کی بات چل رہی ہے ، اور یہ بلکل مباح چیزیں ہیں ان کی ڈبنگ میں تو کوئی مسئلہ نہیں !!!
سائل: طارق رضا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ڈراموں کی ڈبنگ جائز نہیں، اور اس سے حاصل شدہ کمائی حلال و طیب تو کجا، بلکہ اس کے حق میں وہ مال خبیث ہے جسے آجر کو لوٹانا یا اسے صدقہ کرنا واجب ہے۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ فقہی لحاظ سے اس شخص کی حیثیت اجیر اور کام لینے والے ادارے کی حیثیت آجر (مالک) کی ہے ۔ اور ان دونوں کے مابین جو معاملہ ہوا اسے اصطلاح فقہ میں عقد اجارہ کہتے ہیں۔آجر اور اجیر کے مابین جس کام پر عقد ہو وہ معقود علیہ ایسا ہو ناضر روی ہے کہ اسے حقیقی اور شرعی لحاظ سے پورا کرنا ممکن ہو۔ اگر وہ اس نوعیت کا نہیں، تو اس معقود علیہ پر اجارہ صحیح نہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے : وَمِنْهَا أَنْ يَكُونَ مَقْدُورَ الِاسْتِيفَاءِ حَقِيقَةً وَ شَرْعًا .ترجمہ : معقود علیہ کی شرائط میں سے ہے کہ وہ حقیقی و شرعی لحاظ سے مقدور الاستيفاء ہو۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع جلد 4 صفحه 187 دار الكتب العلمية)
فقہائے کرام نے اس شرط کی جو تفریعات ذکر فرمائی ہیں ان میں سے چند ملاحظہ ہوں :
1 :- آبق ( بھگوڑے غلام) کو اجارے پر لینا جائز نہیں، اس لیے کہ جب تک وہ ہاتھ نہیں آجاتا اس سے منفعت حاصل کرنا ممکن نہیں۔
2: مالک کا اپنی مغصوبہ چیز ، غاصب کے علاوہ کسی اور کو اجارہ پر دینا اس لیے کہ وہ جب تک غاصب کے قبضہ میں ہے اس سے نفع حاصل کرنا ممکن نہیں۔
3:۔ کسی انسان کو لہو و لعب چیز کے لیے اجارے پر رکھنا جیسے کھلاڑیوں کو کھیل کود کے لیے اجارے پر رکھنا۔
4:۔ مغنیہ اور گائکہ کو گانے کے لیے اجرت پر رکھنا۔ اسی طرح طائفہ کو ناچنے کے لیے اجرت پر رکھنا۔
آخر الذکر دونوں مثالوں میں معقود علیہ (لہو و لعب ، گانا، ناچنا ) کو شرعی لحاظ سے پورا کرنا ممکن نہیں کہ ان سے منع فرمایا گیا ہے۔
در مختار میں ہے ( لَا تَصِحُ الْإِجَارَةُ لِعَرْبِ التَيْسِ) وَهُوَ نَزْوُهُ عَلَى الْإِنَاثِ (وَ) لَا لِأَجْلِ الْمَعَاصِي مِثْلُ الْغِنَاءِ وَالنَّوْحِ وَالْمَلَاهِي)۔ ترجمہ : بکرے کو افزائش نسل کے لیے اجارے پر لینا جائز نہیں یعنی (جفتی کے لیے) اسے بکریوں پر چھوڑنا، اور معاصی کے لیے اجارہ کرنا جائز نہیں جیسے غنا، نوحہ ، اور مزامیر ۔ (الدر المختار جلد 6 صفحه 55 دار الفکر بيروت)
ھدایہ میں ہے: ولا يجوز الاستيجار على الغناء والنوح وكذا سائر الملاهى لانه استيجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد۔ ترجمہ : اور گانے، نوحے اور اسی طرح تمام لہو و لعب کے کاموں پر اجارہ ناجائز ہے، کیونکہ یہ معصیت (یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے کام ہیں اور معصیت کا استحقاق کسی عقد سے نہیں ہوتا۔ (ہدایہ باب الاجارة الفاسدة، جلد 3، صفحه 306 مطبوعه لاهور)
معقود علیہ ( ڈبنگ) کے کام میں ناجائز امور کا ارتکاب:
ڈبنگ کے لیے پورے ڈرامہ کا ہر ہر سین دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اور ہر ڈرامہ درج ذیل خرابیوں پر تو مشتمل ہوتا ہی ہے:
1 : فحاشہ عورتوں کی بے ہودگی دیکھنا۔
2:- اللہ کے اوامر کی خلاف ورزیوں کو اچھے انداز میں دیکھانا۔
3: اللہ کے نواہی کا ارتکاب آسان بنانا۔
4:۔ دو غیر شادی شدہ لڑکا لڑکی کے مراسم اس طرح دیکھانا جیسے وہ شادی شدہ ہوں۔
5 نوجوان لڑکا لڑکی کے معاشقے دیکھانا، جس سے نوجوان نسل میں اس عنصر کی تحریک پیدا کرنا مقصود ہوتی ہے اور یہ آج کل کےڈراموں کا جز لا ینفک ہوتا ہے۔
اللہ عزوجل فرماتا ہے : إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ - ترجمه کنز الایمان : جو یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات کا چرچا پھیلے ان کے لئے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔ (النور:19)
یہ معقود علیہ ( ڈبنگ کا کام ) درج بالا غیر شرعی امور پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعی لحاظ سے غیر مقدور الاستیفاء ہے۔
ان تمام امور کے ساتھ ساتھ اس میں گناہ پر معاونت بھی ہے ، اس لیے کہ جس ڈرامے میں درج بالا نا جائز امور ہوں اس ڈرامے کی ترویج و اشاعت اس کا ابلاغ کیوں کر جائز ہو سکتا ہے ؟ لہذا یہ کام تعاون علی الاثم پر مبنی ہے اور جس اجارے میں تعاون علی الاثم لازم آئے وہ ملازمت درست نہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ - ترجمہ کنز الایمان : اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔ (المائدہ:2)
امام ابو بکر احمد الجصاص علیہ الرحمہ مذکورہ بالا آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں : نَهْي عَنْ مُعَاوَنَةِ غَيْرِنَا عَلَى مَعَاصِي اللَّهِ تَعَالَی . ترجمہ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں میں دوسروں کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 381 دار الكتب العلمية بيروت)
سوال میں مذکور مثالوں کی صحیح توضیح
فاسد جہت متعین ہونے یا نہ ہونے کے لحاظ سے اس کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت:
مسلمان نے اپنی زمین یا مکان غیر مسلم کو رہائش یا زراعت کی نیت سے دیا، کرایہ دار نے اس میں گناہ کے کام شروع کر دیے یوں کہ اسے فحاشی کا اڈا بناڈالا یا اسے اپنی عبادت گاہ کے طور پر استعمال کرنے لگا تو اس کا وبال اسی (غیر مسلم) پر ہو گا، مسلمان پر نہیں اور مسلمان کے لیے اپنی زمین و مکان کا اجارہ لینا جائز ہے ۔
امام اہلسنت علیہ الرحمہ اس صورت کو بیان فرماتے ہیں: اس نے تو سکونت وزراعت پر اجارہ دیا ہے نہ کسی معصیت پر اور رہنا، بونا، فی نفسم معصیت نہیں۔ اگر چہ وہ جہاں رہیں معصیت کریں گے ، جو رزق حاصل کریں معصیت میں اٹھائیں گے ، یہ ان کا فعل ہے جس کا اس شخص پر الزام نہیں۔ (فتاوی رضویہ جلد 19 صفحه 440 رضا فاؤنڈیشن لاهور)
دوسری صورت:
مالک کو معلوم ہے کہ کرایہ دار ، مکان کسی فاسد غرض ( غیر مسلم عبادت گاہ بنانے) کے طور پر لے رہا ہے جو کہ بلکل واضح ہے۔ صاحبین کے نزدیک یہ صورت جائز نہیں جبکہ امام صاحب کے نزدیک جائز ہے۔
امام صاحب کے موقف کی تعلیل:
فقہاء نے امام صاحب کے موقف کے جواز کی علت یہ بیان کی کہ اجارے کا تعلق تو نفس مکان کو سپرد کرنے سے ہے ، کرایہ دار اس میں رہے یا نہ رہے، استعمال کرے نہ کرے بہر حال مالک مکان اجرت کا مستحق ٹھہرے گا اور اس تسلیم مکان میں اصلا کوئی گناہ نہیں، گناہ کا تعلق تو مستاجر کے فعل سے ہے ۔ جیسا کہ علامہ شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وَلِهَذَا يَجِبُ الْأَجْرُ بِمُجَرَّدِ التَّسْلِيمِ، وَلَا مَعْصِيَةَ فِيهِ وَإِنَّمَا الْمَعْصِيَةً بِفِعْلِ الْمُسْتَأْجِرِ .ترجمہ : اس لیے کہ اجرت تو صرف تسلیم (سپرد کرنے) سے لازم ہو جائے گی، اور نفس تسلیم میں کوئی معصیت نہیں، معصیت کا تعلق تو کرایہ دار کے فعل سے ہے۔
اسی طرح کنیسہ ، گردوارے اور مندر کی جو تعمیر کا مسئلہ ہے اس میں بھی عین عمل ( عمارت تعمیر کرنے) میں معصیت نہیں کہ عمارت بنانے کو شریعت نے کہیں بھی ناجائز و حرام قرار نہیں دیا۔
سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: وَ لَوْ آجَرَ نَفْسَهُ لِيَعْمَلَ فِي الْكَنِيسَةِ وَيُعَمِّرَهَا لَا بَأْسَ بِهِ لِأَنَّهُ لَا مَعْصِيَةَ فِي عَيْنِ الْعَمَلِ۔ ترجمہ : اور اگر اپنے آپ کو اجرت پر پیش کیا تا کہ گرجہ گرمین کام کرے اس کی عمارت تعمیر کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں اس لیے کہ عین عمل میں کوئی معصیت نہیں۔ (رد المحتار جلد 6 صفحه 391 دار الفکر بيروت)
امام صاحب کا موقف مقید ہے:
امام صاحب کے موقف پر جو اجازت ہے اس اجازت کا تعلق ان شہروں کے ساتھ خاص ہے جہاں غیر مسلم آبادی اکثریت میں ہو جیسے اس دور میں شہر کوفہ تھا کہ اس میں بسنے والوں میں ذمی کثرت میں تھے ، وہ علاقے جہاں مسلمان آبادی اکثریت میں ہے وہاں پر اصح قول عدم جواز کا ہی ہے کما فی الدر المختار جَازَ إِجَارَةُ بَيْتٍ بِسَوَادِ الْكُوفَةِ) أَيْ قُرَاهَا لَا بِغَيْرِهَا عَلَى الْأَصَحَ) وَأَمَّا الْأَمْصَارُ وَقْرَى غَيْرِ الْكُوفَةِ فَلَا يُمَكِّنُونَ لِظُهُورِ شِعَارِ الْإِسْلَامِ فِيهَا وَ خَصَّ سَوَادُ الْكُوفَةِ، لِأَنَّ غَالِبَ أَهْلِهَا أَهْلُ الذِّمَّةِ (الدر المختار جلد 6، صفحه 391 دار الفکر بيروت)
مقیس و مقیس علیہ میں فرق:
سوال میں جتنی بھی مقیس علیہ مثالیں ذکر کی ہیں سب کا تعلق ان امور سے جہاں پر عین عمل میں معصیت نہیں بلکہ معصیت کا تعلق مستاجر کے فعل سے ہے جبکہ سوال میں مذکور صورت کا تعلق عین عمل میں معصیت سے ہے اس لیے کہ مجموعی طور یہ کام نا جائز امور پر مشتمل ہے اور یہ اپنے مقصود حقیقی کے اعتبار سے بھی جائز نہیں۔
علامہ زین الدین ابن نجیم مصری حنفی علیہ الرحمہ اس طرح کی اجرت کے متعلق لکھتے ہیں: وان اعطاه الاجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده علی صاحبہ۔ ترجمہ : اگر اس ( آجر ) نے اس (اجیر) کو اجرت دی اور اس نے اس پر قبضہ بھی کر لیا، تو اس کے لیے یہ اجرت لینا حلال نہیں اور اس پر واجب ہے کہ مالک کو لوٹا دے۔ (البحر الرائق، کتاب الاجارة، جلد 8 ، صفحه 35، مطبوعہ کوئٹه)واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 6جمادی الاخری 1444ھ30/دسمبر202