عمل کثیر کی جامع مانع تعریف،نیز ایک رکن میں تین بار ہاتھ اٹھانے سے نماز کب فاسد ہو گی
    تاریخ: 27 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 42
    حوالہ: 454

    سوال

    عمل کثیر کی تعریف میں متعدد اقوال ہیں نیز فقہاء کی عبارات و جزئیات سے کسی ایک تعریف کو متعین کرنا ایک مشکل امر ہے سواس حوالے سے عمل کثیر کی ایسی جامع تعریف کر دی جائے جسکی روشنی میں نماز میں کسی بھی عمل کے کثیر یا قلیل ہونے کا حکم لگایا جا سکے ۔ بالخصوص یہ ارشاد فرمائیں کہ ایک رکن میں تین دفعہ ہاتھ اٹھانے سے نماز کب فاسد ہو گی ؟۔ بینوا وتوجروا !

    سائل : علی داد / کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جواب طلب امر کا تعلق ان مسائل سے ہے جن میں فقہائے کرام کی عبارات میں بظاہر تفاوت پایا جاتا ہے، جس بنا پر کوئی واضح مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ اس بابت عہدِ عصر کے مفتیان کرام کے درمیان کئی طرح کی آرا پائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالی کی بارگاہ بے کس پناہ میں ملتجی ہیں کہ وہ اس مسئلہ کی تنقیح ہمارے لیے آسان فرمائے۔ آمین

    تنقیحی امور:

    عمل کثیر کی جامع و مانع تعریف

    راجح و مرجوح اقوال کا بیان نیز راجح اقوال میں تطبیق

    عمل کثیر کی مختار تعریف کے تناظر میں مسئلہ مذکورہ کی تنقیح

    نقول و جزئیات میں توالی کی قید کا اعتبار ۔

    تراويح يا طويل القیام نمازوں کی ادائیگی میں مسائل

    مقدار رکن کی قید کا اعتبار ، اور مفاد

    صاحب خلاصہ کا توالی کی قید صراحتاذ کر نہ کرنے کی وجہ

    عمل کثیر کی جامع و مانع تعریف

    بلا عذر سر زد ہونے والا وہ فعل جس کے فاعل کو دور سے دیکھنے والا شخص غالب گمان کرے کہ وہ نماز میں نہیں عمل کثیر ہے ، وہ فعل ایسا ہو جسے عادت دو ہاتھ سے کیا جاتا ہو ، اگرچہ کرنے والا ایک ہاتھ سے کرے جیسے عمامہ باندھنا، قمیص پہننا، جیکٹ، جرسی پہننا۔ یا وہ فعل تو قلیل ہو مگر ایک کن میں تین بار پے در پے کیا جائے ، جیسے سر یا داڑھی کے بال اکھیڑنا، جسم کھجانا، پسینہ پونچھنا اور دامن سیدھا کر ناوغیرہ۔ یاوہ عمل تو قلیل ہو مگر کسی معنی کثیر کے ساتھ جمع ہو جائے، جیسے نمازی کا دوران نماز بیوی کو بوسہ دینا، کسی انسان کو کنکری مارنا۔ یا پھر نمازی کی جانب سے تو کوئی عمل نہ پایا جائے مگر کسی دوسرے کے فعل کی وجہ سے عمل کثیر کا معنی پایا جارہا ہو جیسے عورت کا مرد کو نماز کی حالت میں شہوت کے ساتھ چھونا یا بوسہ دینا، کہ اس میں جماع کا معنی پایا جا رہا ہے ، یوں ہی بچے کو دودھ پینے کی قدرت دینا، اس میں ارضاع کا معنی پایا جارہا ہے اور یہ دونوں (جماع وارضاع) عمل کثیر ہیں۔

    راجح و مرجوح اقوال کا بیان نیز راجح اقوال میں تطبیق

    پہلا قول:

    نمازی کا وہ عمل جس کے سبب دور سے دیکھنے والے شخص کو غالب گمان ہو جائے کہ وہ نماز میں نہیں عمل کثیر ہے۔ صاحب در مختار لکھتے ہیں : ( كُلُّ عَمَلٍ كَثِيرٍ ) لَيْسَ مِنْ أَعْمَالِهَا وَلَا لِإِصْلَاحِهَا ، وَفِيهِ أَقْوَالَ خَمْسَةً أَصَحُهَا (مَا لَا يَشْكُ) بِسَبَبِهِ (النَّاظِرُ) مِنْبَعِيدٍ ( فِي فَاعِلِهِ أَنَّهُ لَيْسَ فِيهَا ) ترجمہ : ہر وہ عمل جو اعمال نماز سے نہ ہو ، اور نہ ہی اصلاح نماز سے ہو۔ اس میں پانچ اقوال ہیں۔ جن میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ : وہ عمل جس کے سبب سے دور سے دیکھنے والے کو فاعل کے بارے میں شک نہ ہو کہ نماز میں نہیں ( بلکہ ظن غالب ہو جائے کہ واقعی نماز میں نہیں)۔

    فائدہ: عمل کثیر کی تعریف میں صاحب در مختار نے (لَيْسَ مِنْ أَعْمَالِهَا) قید کو ذکر کیا، جس سے مقصود ان تمام صورتوں کو خارج کرنا تھا جن میں وہ عمل تو کثیر ہوتا ہے لیکن اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی ، جیسے نمازی کا نماز میں کوئی زائد رکوع و سجدہ کر لینا، یہ عمل کثیر تو ہے لیکن مفسد نماز نہیں ہے۔ محشی علامہ شامی علیہ الرحمہ اس پر فرماتے ہیں کہ عمل کثیر کی تعریف میں اس قید کو بڑھانے کی ضرورت نہیں تھی، کیوں کہ جو اس قید سے مقصود تھا وہ عمل کثیر کی مابعد تعریف سے حاصل ہو رہا ہے۔ وہ یوں کہ ناظر اس طرزِ عمل (زائد رکوع و سجدہ) کو کبھی بھی عمل کثیر نہیں گردانے گا۔ لکھتے ہیں : قلت: والظاهر الاستغناء عن هذا القيد على تعريف العمل الكثير بما ذكره المصنف تأمل۔ ترجمہ : عمل کثیر کی تعریف پر اس قید سے عدم حاجت ظاہر ہے اس سے جس کو مصنف نے ذکر کیا، پس تامل کرو۔ (رد المحتار، کتاب الصلاة جلد 1، صفحه 624، دار الفکر بيروت)

    جبکہ امام اہلسنت اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے تو دوسری قید ( لا لإِصْلَاحِهَا) کو بھی تسلیم نہیں کیا، آپ علیہ الرحمہ نے ایک مسئلہ سے اس پر نقض ض وارد فرمایا ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ باندی نماز پڑھ رہی تھی کہ دورانِ نماز نماز آقا آقا نے آزاد کر دیا ، یہ سنتے ہی اس نے سر سر ڈھانے ڈھانپنے کے لیے چادر اوڑھ لی تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ، حالاں کہ اس کا یہ عمل اصلاح نماز ہی کے لیے تھا کہ آزاد عورت کے بال بھی ستر میں شامل ہیں۔ لہذا یہ عمل اصلاح نماز کے لیے تھا اس کے باوجود نماز کے فاسد ہونے کا حکم ہے۔ لکھتے ہیں : من اعتقت في الصلاة ، فان سترت راسها بعمل كثير فسدت ، مع انهلاصلاح الصلاۃ ۔ جس لونڈی کو نماز میں آزاد کیا گیا ، پس اگر اس نے اپنا سر عمل کثیر کے ساتھ ڈھانپا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ، حالاں کہ اس کا یہ عمل نماز کی اصلاح کے لیے تھا۔ ( جدالممتار، جلد 03، صفحه 100 دار الفقيه)

    علامہ شامی علیہ الرحمہ نے ( لاصلاحها) کی جگہ (لا فعل لعذر) کے اضافے کو مناسب سمجھا ہے تا کہ اس قید سے وہ صورتیں خارج ہو جائیں جن میں پہلی دونوں تعریفوں کے مطابق عمل کثیر کا معنی تو پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود فسادِ نماز کا معنی نہیں پایا جاتا جیسے نماز کے دوران وضو ٹوٹنے کی وجہ سے نماز روک کر وضو کے لیے جانا، اسی طرح بہ حالتِ نماز سانپ یا بچھو کو مارنا۔ لکھتے ہیں : قلت : وينبغي أن يزاد و لا فعل لعذر احترازا عن قتل الحية أو العقرب بعمل كثير على أحد القولين ترجمہ : میں کہتا ہوں : لا فعل لعذر کا اضافہ کرنا مناسب ۔ ہے تاکہ سانپ ، بچھو کو مارنے کے عمل کی وجہ سے عمل کثیر کے دو قولوں میں کسی کثیر کے دو قولوں میں کسی ایک پر ( نماز کے فساد کے حکم سے )) سے احتراز کیا جائے۔

    دوسرا قول:

    مَا يُعْمَلُ عَادَةً بِالْيَدَيْنِ كَثِيرٌ وَإِنْ عَمِلَ بِوَاحِدَةٍ كَالتَعْمِيمِ وَشَدَّ السَّرَاوِيلِ وَمَا عَمِلَ بِوَاحِدَةٍ قَلِيلٌ وَإِنْ عُمِلَ بِهِمَا كَحَل السَّرَاوِيلِ وَلَبْسِ الْقَلَنْسُوَةِ وَنَزْعِهَا إِلَّا إِذَا تَكَرَرَ ثَلَاثًا مُتَوَالِيَةً. ترجمہ : " وہ کام جو عادتا دو ہاتھ سے کیا جاتا ہے عمل کثیر ہے، اگرچہ اسے ایک ہاتھ سے کیا جائے ، جیسے عمامہ باندھنا، شلوار باندھنا (اور جن کاموں کو ایک ہاتھ سے کیا جاتا ہے وہ عمل قلیل ہیں ، جیسے شلوار کھولنا، ٹوپی پہننا، اور اس کو اتارنا) مگر یہ عمل کثیر اس وقت ہو گا کہ جب یہ عمل پے در پے تین بار تکرار کے ساتھ کرے۔

    صاحب بحر نے اس تعریف پر اعتراض وارد کرتے ہوئے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ یہ تعریف ان اعمال کثیرہ کو شامل نہیں جو ہا تھوں سے نہیں کیے جاتے ، جیسے چبانا، بوسہ لینا وغیرہ۔

    اعلی حضرت علیہ الرحمہ اس کا : ا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں : اقول : ان كان هذا قاصرا عن ذاك، فالاول لا يشمل ما لا يقف عليه الناظر، كابتلاع قدر الحمصة من بين الاسنان، وابتلاعذوب السكر الذى في فيه ، وغير ذالك مع ما في كتب المذهب من فروع خمسة لا تلائم هذا القول انما تنسحب على القول الثاني مع مانرى من تقریر مختارى القول الاول اياها.اگر یہاں ( قول ثانی ) ان ( چبانا، بوسہ لینا ) سے قاصر ہے تو پہلا قول ان صورتوں کو شامل نہیں گا کہ جن پر دیکھنے والا ( دیکھنے سے ) واقف نہیں ہوتا۔ جیسے دانتوں کے درمیان سے چنے کی مقدار نگلنا، شکر کی وہ تھکی نگلنا جو منہ میں ہو ، اس کے علاوہ کتب مذہب میں پانچ ایسی فروع ہیں جو اس قول کے مناسب نہیں، نیز قول ثانی پر جمع ہوتی ہیں، باوجود اس کے کہ ہم اپنے مختار قول اول کی تقریر سے ان (فروع) کو دیکھتے ہیں۔

    تیسرا قول:

    الْحَرَكَاتُ الثَّلَاثُ الْمُتَوَالِيَةُ كَثِيرَ وَ إِلَّا فَقَلِيل ترجمہ : پے درپے تین حرکات عمل کثیر ہے ، ورنہ عمل قلیل ہے۔

    اس کا معنی یہ نہیں کہ تینوں قیود (حرکت، تین بار ، پے درپے) جس عمل پر ایک ساتھ صادق نہ آئیں تو وہ عمل مطلقاً قلیل ہو گا ، بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی بھی عمل قلیل، عمل کثیر اس وقت بنتا ہے کہ جب اسے تین بار پے در پے کیا جائے۔

    جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر شوہر عورت کو حالتِ نماز میں شہوت کے ساتھ چھولے یا بوسہ دے تو عورت کی نماز فاسد ہو جاتی ہے ، جبکہ یہاں پر عورت کی جانب سے کوئی حرکت ہی نہیں پائی گئی، چہ جائیکہ تین بار اور پھر پے درپے ہو۔ اسی طرح اگر کسی نمازی نے بیوی کا بوسہ لیا یا چھوا تونماز فاسد ہو جائے گی، ان دونوں مسئلوں میں تینوں قیود ایک ساتھ نہیں پائی جا رہی اس کے باوجود اس عمل کو کسی نے عمل قلیل نہیں بلکہ عمل کثیر ، مفسد نماز مانا ہے۔

    چناچہ امام اہلسنت نے اس کا معنی بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : ما كان من عمل قليل فلا يفسد الصلاة، الا اذا تكرر ثلاثا متوالياً، فيرجع الى الاستثناء المذكور فى المذهب الثانى ترجمہ : کوئی عمل قلیل نماز کو فاسد نہیں کرتا مگر یہ کہ جب پے درپے تین بار ہو ( تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ پس یہ قول مذہب ثانی میں مذکور استثنا کی طرف لوٹے گا۔ (جدالممتار جلد 03 صفحه 101 دار الفقیه)

    اسی بنا پر ہندیہ وغیر ہانے اس قول کو الگ طور پر مذہب نہیں بنایا، بلکہ مذہب ثانی میں شمار کیا ہے۔

    قول ثالث کی مذکورہ وضاحت کے بعد قول ثانی کا معنی:

    وہ کام جو عادتاً دو ہاتھ سے کیا جاتا ہے عمل کثیر ہے، اگرچہ اسے ایک ہاتھ سے کیا جائے، جیسے عمامہ باندھنا، شلوار باندھنا، اور جن کاموں کو ایک ہاتھ سے کیا جاتا ہے وہ عمل قلیل ہیں، جیسے ٹوپی پہننا، اور اس کو اتار نا، موبائل کی رنگ ٹون بند کرنا، مگر یہ عمل کثیر اس وقت ہو گا کہ جب وہ عمل تین بار پے درپے تکرار کے ساتھ ہو۔

    چوتھا قول :

    مَا يَكُونُ مَقْصُودًا لِلْفَاعِلِ بِأَنْ يُفْرِدَ لَهُ مَجْلِسًا عَلَى حِدَةٍ . قَالَ فِي التَتَارُ خَانِيَة : وَهَذَا الْقَائِلُ : يَسْتَدِلُ بِامْرَأَةٍ صَلَّتْ فَلَمَسَهَا زَوْجَهَا أَوْ قَبَلَهَا بِشَهْوَةِ أَوْ مَصَ صَبِي ثَدْيَهَا وَ خَرَجَ اللَّبَنُ : تَفْسُدُ صَلَاتُهَا . ترجمہ : جب فاعل کا مقصود یہ ہو کہ وہ اپنے آپ کو مجلس سے الگ کر دے تو یہ عمل کثیر ہے۔ تار تار خانیہ میں کہا کہ : اس ( قول کے ) قائل نے اس عورت کے مسئلہ سے استدلال کیا ہے کہ جو نماز پڑھ رہی تھی، اور اس کے شوہر نے اسے شہوت کے ساتھ چھو لیا یا بوسہ دیا، یا اس کے بچے نے اس کا پستان چوسا اور دودھ نکل آیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔

    اعلی حضرت علیہ الرحمہ اس قول کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں : " والجواب ان هذه وان لم تكن اعمالا كثيرة بل لا عمل فيها من قبل المصلية اصلا ، لكنها جعلت مفسدات لكونها في معنى اعمال كثيرة ، فمس الرجل وتقبيله اياها بشهوة في معنى الجماع ، ومس الصبي ثديها مع خروج اللبن تمكين من الارضاء في معنى الارضاع ، ولا شك ان الجماع والارضاع عملان كثير ان يصدق عليهما التعريف الاول"۔ ترجمہ : " حالت نماز میں شہوت کے ساتھ بیوی کو چھونا، بوسہ دینا، یا بچے کا دودھ پینا وغیرہ جیسے امورا گرچہ اعمال کثیرہ میں سے نہیں ، اور نہ ہی عورت کی جانب سے پائے گئے ہیں، لیکن اعمال کثیرہ کے معنی میں ہیں، وہ یوں کہ مرد کا عورت کو شہوت کے ساتھ چھونا یا بوسہ دینا جماع کےمعنی میں ہے۔ اور بچے کا ماں کے پستان کو چوسنا ، دودھ نکلنے کے ساتھ ، یہ دودھ پینے کی قدرت دینا ہے جو کہ ارضاع (دودھ پلانے) کے معنی میں ہے ، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جماع اور ارضاع پہلی تعریف کے مطابق عمل کثیر ہیں۔ (جد الممتار : جلد 3، صفحہ 102، دار الفقیہ )

    لہذا اس قول کی بھی حاجت نہیں، کیوں کہ اس سے جو کچھ مستفاد ہو رہا ہے وہ قول اول سے ہی حاصل ہو رہا ہے۔

    پانچواں قول :

    التَّفْوِيضُ إِلَى رَأْيِ الْمُصَلِّي، فَإِنْ اسْتَكْثَرَهُ فَكَثِيرَ وَإِلَّا فَقَلِيلٌ قَالَ الْقُهُسْتَانِيُّ: وَهُوَ شَامِلٌ لِلْكُلِّ وَأَقْرَبُ إِلَى قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ، فَإِنَّهُ لَمْ يُقَدِرْ فِي مِثْلِهِ بَلْ يُفوضُ إِلَى رَأْيِ الْمُبْتَلَى . - ترجمہ : یہ معاملہ نمازی کی رائے پر چھوڑا جائے گا، پس اگر وہ اس کو کثیر سمجھے تو کثیر ورنہقلیل ہو گا۔ قہستانی نے کہا کہ : اور یہ تمام صورتوں کو شامل ہے اور امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے قول کے زیادہ قریب ہے، کیوں کہ وہ اس کی مثل میں اندازہ نہیں لگاتے، بلکہ مبتلا شخص کی رائے کی طرف اس کو پھیر دیتے ہیں۔ (رد المحتار، کتاب الصلاة جلد 1، صفحه 625، دار الفکر بیروت)

    شمس الائمہ حلوانی علیہ الرحمہ نے بھی اس قول کو مذہب امام کے قریب بتایا ہے ، کیوں کہ کثیر مقامات پر آپ کا مذہب یہ ہے کہ جس چیز کی مقدار شریعت کی جانب سے متعین نہ ہو تو اسے مبتلا شخص کی رائے کی طرف پھیرا جائے گا۔ یاد رہے کہ عمل کثیر کے اقوال میں سے یہ ضعیف ترین قول ہے ، جس کا فساد ظاہر ہے۔

    علامہ ابراہیم حلبی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ : هذا غير مضبوط وتفويض مثله الی رای العوام مما لا ينبغى ترجمہ : یہ قول مضبوط نہیں، اس کی مثل مسائل کو عوام کی رائے کی پھیر نانا مناسب ہے۔ (غنیة المستملی فی شرح منية المصلى جلد 1 صفحه 382 مكتبه نعمانيه)

    محاکمه :

    درج بالا فقہائے کرام کی عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ عمل کثیر کی تعریف میں چوتھے اور پانچویں قول کا کوئی اعتبار نہیں ، جبکہ تیسرا قول دوسرے قول کے ضمن میں پایا جاتا ہے ، اور فقہائے کرام نے عمل کثیر کے جتنے بھی مسائل نقل فرمائے انکا مدار پہلا اور دوسرا قول ہے یہاں تک کہ بعض فقہائے کرام مثلاً علامہ حلبی وغیرہ نے فرمایا کہ قول ثانی سے جو کچھ مستفاد ہوتا ہے وہ قول اول سے بھی ہو سکتا ہے ، سو اس معنی میں قول ثانی قول اول ہی کی تفسیر ہے۔ راقم الحروف نے عمل کثیر کی جو تعریف کی ہے اس کا مدار محقق اسلام علامہ شامی ، علامہ حلبی اور بالخصوص اماماہلسنت کی عبارات ہیں۔

    علامہ حلبی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : واکثر الفروع او جمعيها مخرج على احد الطريقين الاولين والظاهر ان ثانيهاليس خارجاعن الاول لان ما يقام باليدين عادة يغلب ظن الناظر انه ليس في الصلاة وكذا قول من اعتبر التكرار الى الثلاث متوالية في غيره فان التكرار يغلب الظن بذالک فلذا اختار جمهور المشائخ ۔ ترجمہ : اکثر یا تمام فروغ پہلے دو قولوں میں سے ایک پر متفرع ہوتی ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ دوسرا قول پہلے سے خارج نہیں کیونکہ عادۃ جو کام دو ہاتھ سے کیا جاتا ہے ناظر کا غالب گمان یہی ہوتا ہے کہ وہ نماز میں نہیں ہے۔ اور اسی طرح اس شخص کا قول جس نے اس کے علاوہ ( قول ثانی) میں پے درپے تین مرتبہ تکرار کا اعتبار کیا ہے ، کیوں کہ تکرار اس میں دیکھنے والے کو نمازی کے نماز میں نہ ہونے کا غلبہ ظن دیتا ہے ، پس اسی لیے جمہور مشایخ نے اس کو اختیار کیا۔ (غنیة المستملی فی شرح منية المصلی جلد 1 صفحه 382 مكتبه نعمانيه)

    اعلی حضرت علیہ الرحمہ جدالممتار میں اس کے تحت لکھتے ہیں : اقول : فكان الثاني والثالث ضابطتان لبعض ما يشمله الاول، وحاصل الكلام ان العمل الكثير هو الذي يغلب على ظن الناظر انه ليس في الصلاة ، ويكون ذالك فيما يعمل باليد بعمل ما يقام عادة باليدين، وبتثليث ما يفعل بيد واحدة، وكذا كل حركة قليلة تكررت ثلاثا متوالية فافهم، والله تعالى اعلم ويؤيد ذالک ما راینا کثیرا من ان الائمة المختارين للقول الاول ربما يذكرون فروعاتبتني على احد هذين القولين، ويقرونها ساكتين عليهما .میں کہتا ہوں : گو یا دوسرا اور تیسرا قول دو ضابطے ہیں ان بعض مسائل کے جن کو پہلا قول شامل ہے۔ اور حاصل کلام یہ ہے کہ : عمل کثیر وہ جو دیکھنے والے کے ظن پر غالب آجائے کہ (نمازی) نماز میں نہیں۔ اور یہ (تعریف) اس صورت کو بھی شامل ہے کہ کوئی شخص ایک ہاتھ سے کام کرے جو عاد تا دو ہا تھوں سے کیا جاتا ہے۔ اور (اس صورت کو بھی شامل ہے ) اس چیز کی تین مرتبہ کرنا جو ایک ہاتھ سے کی جاتی ہے۔ اور اسی طرح ہر وہ حرکتقلیل جو پے در پے تین مرتبہ کی جائے فافهم واللہ اعلم۔ اور اس کی تائید کرتے ہیں وہ تمام مسائل جو ہم نے دیکھے کہ قولِ اول کو اختیار کرنے والے ائمہاکثر اوقات ایسی فروع کا ذکر کرتے ہیں ، جو ان دونوں قولوں میں کسی ایک پر مبنی ہوتی ہیں ، اور دونوں قولوں پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے ان ( مسائل) کو برقرار رکھتے ہیں۔ ( جدالممتار جلد 3، صفحه 103 دار الفقيه)

    عمل کثیر کی مختار تعریف کے تناظر میں مسئلہ مذکورہ کی تنقیح

    عمل کثیر کی جامع مانع تعریف کے تناظر میں سوال طلب امر (ایک رکن میں تین مرتبہ وقفے کے ساتھ ہاتھ اٹھانا جسم وغیرہ کھجانے کے لیے ) میں نماز فاسد نہیں ہو گی، اس لیے کہ یہ حرکت قلیل ہے اور حرکت قلیل سے نماز فاسد نہیں ہوتی جب تک اسے تین مرتبہ پے در پے ایک رکن میں نہ کیا جائے۔

    حکم شرعی : ایک رکن میں تین مرتبہ ہاتھ اٹھانے سے نماز اس وقت فاسد ہو گی جب یہ عمل پے در پے پایا جائے۔ یعنی نمازی نے ایک رکن میں ہاتھ اٹھایا اور ابھی تین تسبیحات کی مقدار نہ گزری تھی کہ دوبارہ اٹھا لیا ، یہاں تک اسی طریق پر تیسری بار بھی اٹھا لیا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ اور اگر تین مرتبہ ہاتھ تو اٹھایا مگر ایک سے دوسری مرتبہ یا دوسری سے تیسری مرتبہ ہاتھ اٹھانے میں تین تسبیحات کی مقدار گزر گئی تو اب نماز فاسد نہیں ہو گی۔ یادر ہے کہ مذکورہ حکم فساد و عدم فساد کے لحاظ سے تھا، البتہ اگر کوئی شخص بلا وجہ جسم کو کھجاتا، سہلاتا ہے تو اس کا یہ عمل مکر وہ ہو گا۔

    نقول و جزئیات میں توالی کی قید کا اعتبار

    جوہرہ نیرہ و حاشیۃ الطحطاوی میں ہے، واللفظ لہ : حک موضعا من جسده كذلك أو رمى ثلاثة أحجار أو نتف ثلاث شعرات فإن كانت على الولاء فسدت صلاته و إن فصل لا تفسد و إن كثر - ترجمہ : کسی نے اپنے جسم کے کسی حصے کو کھجایا یا تین پتھر پھینکیں یا تین بال توڑے ، پس یہ تمام کام اگر پے درپے تھے تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ اور اگر فاصلے کے ساتھ ہوئے تو فاسد نہیں اگرچہ زیادہ مرتبہ کرے۔(حاشیۃ الطحطاوی، جلد 1، صفحه 323)

    غنیة المستملی فی شرح منیة المستملی میں ہے: (وبعض المشائخ قالوا اذا ضربها مرة او مرتين لاتفسد ) صلاته (وان ضربها ثلاث مرات متواليات ) اي في ركعة واحدة هكذا قيد في الخلاصة (تفسد) وكذا ذكر قاضی خان صاحب الخلاصة وهو الاصح لان ما يتم بيد واحدة لا تفسد ما لم ينضم اليه معنى آخر من التكرار ثلاثا متوالية او نحو التاديب كما في ضرب الانسان فان الضرب في حقه بمنزلة التعليم او الاعلام وهو مفسد۔ ترجمہ : بعض مشائخ نے کہا کہ سواری پر سوار نمازی نے) جب سواری ( تیز چلانے کے لیے ) ایک یا دو مرتبہ اسے مارا تو اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی۔ اور اگر اس نے تین بار پے در پے یعنی ایک رکعت میں اسی طرح خلاصہ میں قید ہے مارا ، تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اور اسی طرح قاضی خان نے صاحب خلاصہ کا ذکر کیا اور وہی اصح ہے، کیوں کہ جو فعل ( عادتا) ایک ہاتھ سے مکمل ہوتا ہے اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی جب تک کہ اس کے ساتھ پے در پے تین مرتبہ تکرار کا معنی، یا تادیب کا معنی نہ پایا جائے، جیسے کے انسان کو مارنے میں (اس کا معنی پایا جاتا ہے) کیوں کہ اس کے حق میں مارنا بمنزلہ تعلیم، یا اعلام کے ہے۔ اور یہ مفسد نماز ہے۔ (غنیة المستملی فی شرح منية المستملى جلد 1 صفحه 383 مكتبه نعمانیه کوئٹه)

    اسی میں ہے : ولو حک المصلى جسده مرة او مرتين متواليتين لا تفسد صلاته للقلة وكذا الاتفسد اذا فعل ذالک الحک مرارا غير متوالياتان لم تكن في رکن واحد ولو فعل ذالک مر ا ر ا متوالیات ای فی رکن واحد تفسد صلاتهلانه كثير هذا اذا رفع يده في كل مرة اما اذا لم يرفع يده في كل مرة فلا تفسد لانه حک واحد كذا في الخلاصة ثم قيد في الخلاصة ثم قيد التوالى هنا بالكون في ركن واحد ويد في ضرب الدابة بكونه في ركعه واحدة ولا يظهر بينهما فرق و الاظهر اعتبار الركن في الموضعين لانه المعتبر في مواضع كثيرة من هذا النوع۔ ترجمہ : اور اگر نمازی نے اپنا جسم ایک مرتبہ یا دو مرتبہ پے در پے کھجایا تو اس کی نماز عمل قلیل کی وجہ سے فاسد نہیں ہو گی، اور اسی طرح نماز فاسد نہیں ہو گی اس صورت میں بھی کہ جب کھجانا بار بار ( تین یا تین سے زائد مرتبہ ) ہو لیکن پے در پے نہ ہو اور ایک رکن میں نہ ہو۔ اور اگر اس نے ایسا بار بار پے در پے یعنی ایک رکن میں کیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ، اس لیے کہ یہ عمل کثیر ہے، یہ بھی اس صورت میں ہے کہ جب اس نے ہر مرتبہ ہاتھ اٹھایا ہو۔ بہر حال جب اس نے ہر مرتبہ میں ہاتھ نہ اٹھایا ہو تو نماز فاسد نہیں ہو گی ، اس لیے کہ یہ ایک ہی مرتبہ کھجانا ہوا جیسا کہ خلاصہ میں ہے ۔ پھر خلاصہ میں قید لگائی گئی ہے ، پھر وہاں (خلاصہ میں ) توالی کی قید ایک رکن میں ہونے کے ساتھ ہے، اور جانور کو مارنے میں ہاتھ (کا ستعمال) ایک رکعت میں ہونے کے ساتھ ہے۔ اور ان دونوں (رکن ورکعت میں فرق واضح نہیں۔ اور اظہر یہ ہے کہ دونوں (کھجانے اور مارنے) جگہوں میں رکن کا اعتبار کیا جائے، کیوں کہ اس نوع کی کثیر مقامات میں یہی اعتبار کیا گیا ہے۔ (غنیۃ المستملى في شرح منية المستملى جلد 1 صفحه 387 مكتبه نعمانیه کوئٹه)

    اس سے آگے لکھتے ہیں : ان قتل قتلا متدار كابان لم يكن بين كل قتلتين قدر ركن تفسد صلاته و ان كان بين القتلات فرصة اى مهلة قدر ركن لا تفسد صلاته - ترجمہ : اگر پے درپے (جوں وغیرہ ) ماری یوں کہ ہر دو قتل کے مابین ایک رکن کی مقدار فاصلہ نہ ہو تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی ، اور اگر چند قتلوں کے درمیان فرصہ (ایک رکن کی مقدار ) مہلت ہو تو پھر نماز فاسد نہیں ہوگی ۔ (غنیۃ المستملى في شرح منية المستملى جلد 1 صفحه 388 مکتبه نعمانیه کوئٹه)

    درج بالا عبارات میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ صاحب منیہ نے جسم کھجانے ، بال توڑنے ، جوں مارے وغیرہ میں توالی اور رکن واحد کا اعتبار کیا گیا ہے، نیز فاصلے کی تفسیر مقدار رکن ( تین تسبیحات کی مقدار ) سے کی۔

    امام برہانی الدین، صدر الشریعہ ابن مازہ بخاری متوفی 616ھ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وإن عبث بلحيته او حک بعض جسده لا تفسد صلاته، قيل : هذا إذا فعل ذلك مرة أو مرتين وكذلك إذا فعل ذلك مراراً ولكن بين كل مرتين فرجة، فأما إذا فعل ذلك مراراً متواليات تفسد صلاته، ألا ترى أنه لو نتف شعرة مرة أو مرتين لا تفسد ولو نتف ثلاث مرات على الولاء تفسد۔ اور اگر اپنی داڑھی کے ساتھ کھیلا ، یا اپنے جسم کو سہلایا تو اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی، کہا گیا ہے کہ یہ تب ہے کہ جب اس نے ایک یا دو مرتبہ ایسا کیا ہو ، اور اسی طرح ( نماز فاسد نہیں ہو گی ) جب اس نے چند بار ایسے کیا لیکن ہر دو کے درمیان فاصلہ تھا۔ بہر حال جب اس نے چند بار پے در پے ایسا کیا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ کیا دیکھتے نہیں کہ اگر کسی نے ایک یا دو مرتبہ بال توڑا تو نماز فاسد نہیں ہو گی اور کسی نے تین مرتبہ پے در پے ایسا کیا تو نماز فاسد نہ ما کیا تو نماز فاسد نہیں ہو گی۔(المحيط البرهاني الفصل الخامس جلد 2 صفحه 165 ، ادارة القرآن)

    فتاوی تاتارخانیہ میں بھی اسی کی مثل منقول ہے : وإن عبث بلحيته او حک بعض جسده لا تفسد صلاته، قيل: هذا إذا فعل ذلك مرة أو مرتين وكذلك إذا فعل ذلك مراراً و لكن بين كل مرتين فرجة، فأما إذا فعل ذلك مراراً متواليات تفسد صلاتہ ترجمہ : اور اگر اپنی داڑھی کے ساتھ کھیلا ، یا اپنے جسم کو سہلایا تو اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی، کہا گیا ہے کہ یہ تب ہے کہ جب اس نے ایک یا دو مرتبہ ایسا کیا ہو ، اور اسی طرح ( نماز فاسد نہیں ہو گی ) جب اس نے چند بار ایسے کیا لیکن ہر دو کے درمیان فاصلہ تھا۔ بہر حال جب اس نے چند بار پے در پے ایسا کیا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ کیا دیکھتے نہیں کہ اگر کسی نے ایک یا دو مرتبہ بال توڑا تو نماز فاسد نہیں ہو گیا ور کسی نے تین مرتبہ پے در پے ایسا کیا تو نماز فاسد نہیں ہو گی (فتاوی تاتار خانیه جلد 2 صفحه 237 مكتبه فاروقیه)

    یہاں پر خلاصۃ الفتاوی سے پہلے کے فتاوی ( فتاوی نوازل) کا حوالہ پیش کر رہے ہیں، جس میں صراحت کے ساتھ توالی کی قید کا اعتبار کیا گیاہے۔ چناچہ الامام الفقیہ ابولیث نصر بن محمد السمرقندی متوفی 375ھ علیہ الرحمہ فتاوی نوازل میں لکھتے ہیں : ولو حک جسدہ مرة او مرتین لا تفسدوان حک مرات متوالیات تفسد ترجمہ : اور اگر کسی نے اپنا جسم ایک یا دو بار کھجایا تو نماز فاسد نہیں ہو گی ، اگر تین مرتبہ پے در پے کھجایا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ (فتاوی النوازل جلد صفحه 89 دار الكتب العلميه)

    توالی کی قید کا اعتبار نہ کرنے سے تراویح یا طویل القیام نمازوں کی ادائیگی میں مسائل

    اگر مبحوثہ مسئلہ میں توالی کا اعتبار نہیں کرتے تو تراویح اور طویل القیام نمازوں کی ادائیگی میں حرج لازم آئے گا کہ گرمیوں میں گرم علاقوں بالخصوص شہر کراچی میں گرمی کی حدت زیادہ محسوس ہوتی ہے ، لوگ بار بار نماز میں پسینہ پونچھتے ہیں ، یوں ہی مچھر کے کاٹنے سے لوگ کاٹے گئےمقام کو کھجلاتے ہیں، تو اگر اس قید کا اعتبار نہ کیا جائے تو شاید عوام کی نماز ادا ہو سکے۔

    مقدار رکن کی قید کا اعتبار ، اور مفاد

    تین مرتبہ پے در پے ہاتھ اٹھانے میں رکن واحد کا اعتبار کیا گیا ہے ، جس کا مفاد یہ ہے کہ کسی شخص نے ایک رکن مثلاً قیام میں پے در پے دو مرتبہ ہاتھ اٹھایا، یہاں تک کہ پھر رکوع میں چلا گیا اور اسی تسلسل میں بغیر وقفہ کے تیسری مرتبہ ہاتھ اٹھا لیا اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی، اس لیے کہ یہاں پر پے در پے تین مرتبہ ہاتھ تو اٹھایا گیا ہے لیکن ایک رکن میں نہیں بلکہ دور کنوں میں ہے ، لہذا ایسے کرنے سے نماز فاسد نہیں ہو گی، قطع نظر اس کے کہ مکروہ ہے کہ نہیں۔

    صاحب خلاصہ کا توالی کی قید کو صراحتاذ کر نہ کرنے کی وجہ

    متاخرین فقہائے کرام نے اس مسئلہ مبحوثہ کو تقریباً خلاصہ سے نقل کیا ہے ، جبکہ صاحب خلاصہ نے کسی بھی مقام پر توالی کی قید کو صراحتاذ کر نہیں کیا۔ سواسی بنا پر بعض احباب فتاوی نے توالی کا اعتبار نہیں کیا، جواب سے پہلے خلاصہ کی عبارت ملاحظہ ہو : لو نتف شعرة مرة أو مرتين لا تفسد وان نتف ثلاث مرات يفسدوان حك ثلاثا في ركن واحد تفسد صلاته هذا اذا رفع يده في كل مرة اما اذا لم يرفع في كل مرة فلا یفسد صلاته لانه حک واحد ترجمه: اگر کسی نے ایک یا دو مرتبہ بال توڑا تو اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی، اور اس نے تین مرتبہ ایسا کیا تو نماز فاسد ہو جائے گی، اور اگر تین مرتبہ جسم کھجایا ایک رکن (رکن کی مقدار) میں تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ، یہ اس صورت میں ہے کہ جب اس نے ہر بار اپنا ہاتھ اٹھایا ہو ، بہر حال جب ہر مرتبہ ہاتھ نہ اٹھایا ہو تو نماز فاسد نہیں ہو گی کہ یہ ایک ہی مرتبہ ہاتھ اٹھانا ہے۔ (خلاصۃ الفتاوی جلد 1، صفحہ 129، کتابالصلاة، جنس آخر في الافعال ما يفسد و ما لا يفسدر شیدیہ)

    یاد رہے کہ صاحب خلاصہ کی مذکورہ عبارت کے ساتھ ساتھ وہ مقام جہاں نماز میں ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے وہاں توالی کی قیدا گرچہ صراحتا موجود نہیں تاہم اشارہ یہ قید ضرور مستفاد ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ شمس الدین امیر ابن حاج علیہ الرحمہ نے کہا کہ صاحب خلاصہ نے اس قید کے عام اور شائع ہونے کی وجہ سے ذکر نہیں کیا۔ لکھتے ہیں : وكانه انما لم يتعرض للولاء للعلم ترجمہ : گو یا صاحب خلاصه نے ولاء کی قید کو معلوم ہونے کی وجہ سے ذکر نہیں کیا۔ (حلبة المجلی ، جلد 02 صفحه 287 مطبوعه نوریه رضویه لاهور)

    خلاصہ کلام :

    درج بالا فقہائے کرام کی عبارات سے عمل کثیر کی جامع مانع تعریف واضح ہو جانے کے بعد یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ ایک رکن میں عمل قلیل (مثلاً سر یاڈارھی کے بالوں سے کھیلنا، جسم کھجانا، پسینہ پونچھنا وغیر ہا) سے نماز اس وقت فاسد ہو گی جب اس عمل قلیل کے لیے تین مرتبہ پے در پے ہاتھ اٹھایا جائے ، جس پر نقول و جزئیات شاہد ہیں، نیز عوام کی سہولت اور آسانی بھی اسی میں ہے جو کہ حدیث مبارک يسروا ولا تعسروا کے مطابق، وما جعل عليكم في الدين من حرج (الج: 78) کے قریب، اور الحرج مدفوع بالنص (اشباہ) کے دائرہ میں ہے۔ والله تعالى اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 20شعبان المعظم 1224ھ02/اپریل 4341ء