سوال
میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں اس میں ایک شخص گوشت کی Supply کرتا ہے میری اس سے دعا سلام ہو گئی۔ کمپنی گوشت کی Supply کے 20 سے 25 دن بعد اسے گوشت کی ادائیگی کرتی ہے۔ ایک ہفتہ کے دوران تقریباً 400 کلو کی Supply ہو جاتی ہے ۔ اس طرح مہینے بھر میں تقریباً 1200 سے 1500 کلو سپلائی ہو جاتی ہے۔ اس شخص نے مجھ سے کہا کہ میں فی کلو پر 10:Rs آپ کو دوں گا آپ مجھے فوراً ادائیگی کر دیں۔ اب وہ شخص جب سپلائی کرتا ہے تو مجھے اپنا بل واٹس ایپ کر دیتا ہے اور اسے کمپنی کی طرف سے جو Gm اسے ملتی ہے تو وہ مجھے دے جاتا ہے کمپنی جب اسے ادا ئیگی کیلئے فون کرتی ہے تو مجھ سے رابطہ کرتا ہے میں اسے Gin دے دیتا ہوں اور وہ رقم کمپنی سے لے لیتا ہے تاکہ کمپنی کو کوئی شک نہ ہو۔ میں اسے ایڈوانس میں بھی ادائیگی کر دیتا ہوں اور کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے وہ ادائیگی پہلے کر دیتا ہے اور میں ادائیگی بعد میں کرتا ں۔ برائے کرم مجھے مطلع کریں آیا اس طرح کاروبار کر ناشر عادرست ہے یا نہیں۔ اگر نہیں ہے تو اسکا کوئی حل بھی عنایت فرمادیں؟
سائل: محمد الطاف عطاری: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اصطلاح شریعت میں ایسے کاروبار کو بيع الدين من غير من هو عليه ( قرض کی بیع غیر مدیون کے ساتھ کرنا) کہتے ہیں اور فقہاء نے اس بیع کو بیع فاسد قرار دیا ہے۔ پوچھی گئی صورت میں بھی معاملہ یہی ہے یعنی گوشت سپلائر کا کمپنی پر جو دین ہے وہ آپ (غیر مدیون) کو فروخت کر رہا ہے جو کہ شرعاً جائز نہیں ہے اور باعث گناہ ہے۔ اب تک آپ نے ان سے جو بھی فائدہ اٹھایا ہے ، لازم ہے کہ وہ سب کا سب انہیں واپس کریں اور صدق دل سے بارگاہ خداوندی میں توبہ کریں۔
البتہ آپ اس طرح کر سکتے ہیں کہ وہ سپلائر پہلے آپ کو گوشت فروخت کر دے اور پھر آپ اس پر قبضہ کر کے اسکی ادائیگی کر دیں پھر وہ شخص ہر بار آپ کے وکیل کی حیثیت سے یہ گوشت کمپنی کو فروخت کر دے اور جو کمپنی 20 سے 25 دن بعد ادائیگی کرے وہ شخص آپ کی طرف سے کمپنی سے رقم وصول کر کے آپ کو دے دے۔ اس صورت میں وکالت کے شرعی احکام نافذ ہوں گے مثلاً اگر کمپنی کی طرف سے کوئی بھی نقصان ہو گا یا وہ اس بیع پر کوئی مراعات دیتی ہے تو ان سب کے مالک آپ ہونگے وغیرہ وغیرہ۔
المحيط البرھانی میں ہے : من جملة ذلك بيع الدين من غير من علیہ الدین ترجمہ : بیوع فاسدات میں سے ایک بیع، قرض کی غیر مدیون کے ساتھ بیع کرنا ہے۔ (المحیط البرهاني في الفقه النعمانی، جلد 6 ، ص: 388، دار الكتب العلمية بيروت)
المبسوط للسرخسی میں ہے : وَإِذَا كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَجُلٍ أَلْفُ دِرْهَمٍ مِنْ قَرْضٍ أَوْ غَيْرِهِ فَبَاعَ دَيْنَهُ مِنْ رَجُلٍ آخَرَ بِمِائَةِ دِينَارٍ وَقَبَضَ الدَّنَانِيرَ لَمْ يَجْزُ وَ عَلَيْهِ أَنْ يَرْدَ الدَّنَانِيرَ .ترجمہ : اور جب کسی شخص کے دوسرے شخص پر ایک ہزار در هم بطور قرض کے یا کسی اور وجہ سے ا سے لازم ہوں تو دائن (جو ہزار روپے مانگتا ہے) اپنا دین کسی تیسرے شخص کو ایک سو دینار کے عوض فروخت کر دے اور وہ شخص ان دینار پر قبضہ کرلے تو یہ بیع جائز نہیں ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ دینار لوٹا دے۔ (المبسوط للسرخسی، جلد:14، ص:22، دار المعرفة بيروت)
امام احمد رضا خان فاضل بریلی رحمہ اللہ تعالی علیہ بیع فاسد کے بارے میں فرماتے ہیں: پس بائع و مشتری دونوں گنہگار ہوئے اور دونوں پر بحکم شرع واجب ہے کہ اپنے اس بیع کو فسخ کریں ان میں جو کوئی نہ مانے دوسرا بے اس کی رضامندی کے کہہ دے میں نے اس بیع کو فسخ فورا فسخ ہو جائے گی اور اگر دونوں فسخ کرنا چاہیں اور حاکم شرع کوخبر ہو تو وہ جبر افسخ کر دے کہ گناہ کا زائل کرنا فرض ہے۔(فتاوی رضویہ ، جلد:17، ص:154 153، رضا فاؤنڈیشن لاهور) والله تعالى اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد احمد امین نوری قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 06 جمادى الاولى 1442ھ / 22 دسمبر 2020 ء