نکاح کی وجہ سے بائکاٹ کرنا
    تاریخ: 27 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 27
    حوالہ: 450

    سوال

    دس سال قبل زید نے اپنے خاندان میں شادی کی تھی اور اب تک کوئی اولاد نہیں ہو ئی اب زید دوسری شادی کرنا چاہتا ہے مگر خاندان والے بالخصوص اس کی بیوی کے رشتہ دار جو زید کے بھی رشتہ دار ہیں اور انہوں نے زید کا با ئیکاٹ کیا ہے کہ وہ ہماری اجازت کے بغیر دوسری شادی کیوں کررہا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ وہ ہماری بیٹی کو طلاق دے ،دے ۔

    اس حوالے سے چند باتیں دریافت طلب ہیں :

    (1)کیا خاندان والوں کی طرف سے طلاق کا مطالبہ دردست ہے ؟

    (2) اس طرح کا بائیکاٹ کرنا شرعا کیسا ہے کہ ہم نہ زید کے جنازے میں جائینگے نہ ہی اسے آنے دینگے اور وہ ہماری خوشی و غمی نہیں آسکتا ،نہ ہی ہم اس کے ہاں جائینگے ۔

    (3)خاندان میں کوئی شخص دوسروں پر ظلم وزیادتی کرے تو کیا ایسے شخص کا سوشل بائیکاٹ کیا جا سکتا ہے ؟۔

    قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجو ر ہوں ۔

    سائل :محمد لطیف ،روالپنڈی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جوابات سے قبل چند باتوں کو سمجھنا چاہیئے ۔

    (۱)شریعت مطہرہ نے ایک مرد کو بیک وقت چار شادیاں کر نے کی اجازت دی ہے بشرطیکہ وہ ان سب کے درمیان عدل انصاف قائم کر سکتا اور تمام کے حقوق پورا کر سکتا ہو ۔اور اس کے لیئے کسی سے اجا زت لینے کی شرعاکوئی شرط نہیں رکھی ہے۔

    اللہ تعا لی کا فرمان ہے:فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا (النساء:3)

    ترجمہ:تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو،دو اور تین، تین اور چار ،چارپھر اگر ڈرو کہ دوبیبیوں کوبرابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ ا س سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔

    (۲)شرعا کسی بھی مرد پر اس طرح کی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے کہ وہ خاندان میں شادی کرے یا خاندان سے باہر کرے حتی کہ مرد کیلئے کفائت بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنے سے کم تر عورت سے شادی کر سکتا ہے۔

    رد المحتار (باب الکفائۃ،ج:۳،ص:۸۴،طبع:دارالفکر ،بیروت)میں ہے "ولا تعتبر من جانبها بأن تكون مكافئة له فيها بل يجوز أن تكون دونه فيها ۔۔۔۔۔۔۔وهو أن الشريف لا يأبى أن يكون مستفرشا للدنيئة كالأمة والكتابية"ترجمہ:عورت کے لیئے اس چیز کا اعتبار نہیں ہے کہ وہ مرد کے ہم پلہ ہو بلکہ ایک ادنی عورت سے مرد کا نکاح کرنا جائز ہے(اور اس کی وجہ یہ کہ)ایک شریف آدمی اس بات سے نہیں کترا تا کہ اس کی بیوی اس سے ادنی ہو جیسے باندی اور کتابیہ ۔

    (۳)شریعت مطہرہ میں رشتہٴ نکاح کو بلا وجہ شرعی ختم کرنا سخت نا پسند ہے ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے "أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ"(سنن ابو داؤد،بابفی کراہیۃ الطلاق،رقم2178)

    ترجمہ:جائز کاموں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔

    ایک دوسری روایت میں ہے: وَلَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ( دارقطنی ،کتاب الطلاق،رقم:3984):ترجمہ: روئے زمین پر اللہ تعالیٰ نے طلاق سے زیادہ ناپسندچیز کو پیدا نہیں فرمایا۔

    سنن ابی داود(باب الخلع،رقم:۲۲۲۶)، سنن ترمذی(باب ما جاء فی لمختلعۃ،رقم:۱۱۸۷)اورمصنف ابن ابی شیبہ(باب ما کرہ من الکراہیت للنساء ان یطلبن،رقم:۱۹۲۵۸)میں با الفاظ متقاربہ ہےوالفظ للاول۔

    "أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ"ترجمہ:کوئی بھی عورت جو بغیر کسی وجہ کے اپنے زوج سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت (کی خوشبوبھی )حرام ہے۔

    فیض القدیر شرح جامع الصغیر(باب الھمزہ،ج:۱،ص:۱۳۸،طبع: المکتبۃ التجاریۃ الکبری،مصر)میں "باس"(یعنی وہ وجوہات جن کی وجہ سے عورت طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے )کی وضا حت ان الفاظ میں کی گئی ہے :

    "والبأس الشدة أي في غير حالة شدة تدعوها وتلجئها إلى المفارقة كأن تخاف أن لا تقيم حدود الله فيما يجب عليها من حسن الصحبة وجميل العشرة لكراهتها له أو بأن يضارها لتنخلع منه"

    ترجمہ: باس سے مراد یہ ہے کہ ایسے سخت ترین حالات جو عورت کواس بات پر مجبور کر دیں کہ وہ اپنے شوہر سے چھٹکارہ حاصل کرے جیسےعورت اگر ان چیزوں میں حدود اللہ کوقائم نہ کر سکتی ہو جن کی پاسداری اس پر واجب ہےمثلاعورت اپنےشوہر سے حسن معاشرت اور ایک اچھی صحبت قائم نہ کر سکتی ہوشرعی وحقیقی بنیادوں پرنفرت کی وجہ سے یا مرد اس کواذیت دیتا رہتا ہو تاکہ وہ اس سے خلع کا مطالبہ کرے۔

    ان باتوں کو جاننے کے بعد جوابات ملاحظہ فرمائیں :

    (1)اگر خاوند پہلی بیوی کے تمام حقوق جو شرعا اس پر عائد ہوتے ہیں پورا کر نے کا عہد کر لے تو خاندان والوں کی طرف سے طلاق کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے۔

    (2)بلا وجہ شرعی کسی عام مسلمان سےبھی قطع تعلقی کرنا جائز نہیں ہے جبکہ رشتہ داروں سے بدرجہ اولی جائز نہیں ہے کیونکہ ہمیں رشتوں کو جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    ترمذی شریف (باب ماجاء فی الحسد ،حدیث نمبر:۱۹۳۵)میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :«لَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ» : ترجمہ:آپس قطع تعلقی نہ کرو،آپس میں اختلاف نہ کرو،ایک دوسرے سے بغض نہ کرو ،ایک دوسرے سےحسد نہ کرو اور اللہ کے لیئے ایک دوسرے کے بھائی ،بھائی بن جاؤ،اور کسی مسلمان کے لیئے حلال نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سےقطع تعلقی کرے ۔

    (3)اگر کوئی شخص بلا وجہ شرعی کسی مسلمان بھائی پر ظلم و زیادتی کرےتو اس کا ظلم و جبر روکناان لوگوں کی ذمہ داری ہے جو اس کو روک سکتے ہوں،اور اس حوالے سےکوئی ایسا مؤثر طریقہ اختیار کیا جو جلد اس کو راہ راست لے آئے، اگر توحسن سلوک اور سمجھا نے سے وہ باز آجائے توا یساطریقہ ضرور اختیا ر کرنا چاہیئے اور اگر سوشل با ئیکاٹ سے اس کا ظلم روکا جا سکتا ہے تو ضرورکرنا چاہیئے ۔

    یاد رہے!کہیں ایسا نہ ہوکہ سوشل بائیکاٹ وغیرہ فائدہ مند نہ ہو یا اس سے مزید جری ہو جا ئےتو اسطرح کرنا شرعا درست نہیں ہوگا بلکہ ایسی صورت میں قاضی کی عدالت میں رجوع کیاجا سکتا ہے ۔

    سنن ابی داؤد (باب الامر والنہی ،ج:۴،ص:۱۲۲،طبع:المکتبۃ العصریۃ،بیروت ،رقم :۴۳۳۸)میں ہے

    عَنْ خَالِدٍ، وَإِنَّا سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ، أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ ،عَنْ هُشَيْمٍ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي، ثُمَّ يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا، ثُمَّ لَا يُغَيِّرُوا، إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ» ترجمہ: حضرت خالد سے رویت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺسےسنا کہ" اگر لوگ کسی کو دیکھیں جو ظالم ہواور وہ اس کوروکنے کے لیئے اپنے بازؤں سے کام نہ لیں تو عنقریب ہے کہ اللہ اپنی طرف سے عذاب نازل کردے جو تمام لوگوں کو اپنے گھیرے میں لے ، لے"۔ اورحضرت ھشیم سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا "کسی بھی قوم میں برائیاں ہوتی رہیں اور (ان میں سے بعض لوگ )ان برائیوں کو روکنے پر قادر ہوں اور وہ نہ روکیں تو عنقریب ہے کہ اللہ اپنی طرف سے عذاب نازل کردے جو تمام لوگوں کو اپنے گھیرے میں لے ، لے"

    مر قاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح (باب الحب فی والبغض فی اللہ ،ج:۸،ص:۳۱۴۰،طبع:دارالفکر ،بیروت،رقم:۵۰۱۴)میں ہے :

    وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي ذر: يا أبا ذر! أي عرى الإيمان أوثق؟ " قال: الله ورسوله أعلم. قال: " الموالاة في الله، والحب في الله، والبغض في الله ".

    قا ل العلامۃ القاری : (والبغض في الله) : أي: في سبيله. قال تعالى: {لا تجد قوما يؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسوله ولو كانوا آباءهم أو أبناءهم أو إخوانهم أو عشيرتهم أولئك كتب في قلوبهم الإيمان وأيدهم بروح منه} [المجادلة: 22] ۔ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوزر !ایمان کا کونسا شعبہ (از روئے ثواب کے )زیادہ محکم ہے؟تو انہوں نےعرض کیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ۔تو آپ ﷺ نے فرمایا "اللہ تعالی کے لیئے ایک دوسرے سے محبت کرنا ،اللہ ہی کے لیئے کسی سے محبت کرنا (اگر چہ یک طرفہ ہو ،اور اسے معلوم بھی نہ ہو)اور اللہ ہی کے لیئے کسی سے بغض رکھنا ۔

    علامہ ملا علی قاری ، والبغض في اللهکے تحت فرماتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں (اس کی وجہ سے )کسی سے بغض رکھنا ،اس کے بعد آپ نے یہ آیت نقل فرمائی :"تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کُنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی"۔

    ان احادیث کی روشنی میں ظلم کو روکنے کے لیئے سوشل بائیکاٹ کرنا جائز ہے لیکن اگرکسی ذاتی مفاد یا ذاتی بدلہ لینے کی غرض سے ہو تو قطعا جائز نہیں ہے بلکہ سخت گناہ ہے ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:07صفر المظفر 1440 ھ/16اکتوبر 2018ء