سوال
1-زکوۃ کی ادائیگی کیلئے سامان کا گننا ضروری ہے یا پھر اندازے سے بھی زکوۃ ادا کی جاسکتی ہے؟
2-موجود مال کی قیمت کا تخمینہ کس طرح لگایا جائے؟جس قیمت پر سامان خریدا گیا ہے اس قیمت پر؟یا اس سامان کی موجود قیمت پر؟ مثلاً:میں نے ایک چیز جب خریدی اس وقت وہ /1000 روپے کی تھی۔اور جس دن میں زکوۃ کا تخمینہ لگا رہا ہوں تو اس دن قیمت /1200 ہوگئی۔یا پھر زکوۃ قیمت فروخت پر لگائی جائےگی؟
3-فروخت شدہ مال سے حاصل ہونے والے پیسوں کی زکوۃ کا کیا طریقہ کار ہوگا؟کیا مکمل پیسوں پر زکوۃ ادا کی جائے گی؟ یا ان پیسوں سے اپنی ضرورت پوری کے بعد بچ جانے والے پیسوں پر ادا کی جائے گی؟
سائل: عبد القادر،ملیر کینٹ کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1-اندازے سے زکوۃ کی ادائیگی درست نہیں،اگر اندازاہ کر کے زکوۃ دی گئی اور اندازا کم رہا یعنی اداکردہ مقدار واجب مقدار سے کم رہی تو جتنی مقدار ادا کردی گئی وہ تو ادا ہوجائے گی، لیکن جو مقدار ادا کرنے سے رہ گئی اس کا ادا کرنا ذمہ میں باقی رہا، اگر بعد میں اس کو ادا کردیا گیا تو وہ بھی ادا ہو جائے گی۔البتہ اگر کسی وجہ سے پورا حساب کرنا ممکن نہ ہو تو احتیاطاً زیادہ سے زیادہ کا اندازا لگا کر زکوۃ ادا کردینی چاہیے؛ تاکہ زکوۃ کم ادا نہ ہو۔تاہم زکوۃکی ادائیگی کو کسی جگہ لکھ لینا چاہیے؛ تاکہ اس کا مکمل حساب کیا جاسکے۔
2- سامانِ تجارت پر نصاب کا سال پورا ہونے پر جو مارکیٹ قیمت ہواس کے اعتبار سے زکوۃ واجب ہوگی۔مارکیٹ قیمت سے مراد اس سامان کی متوسط قیمت ہے۔
چنانچہ الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم".ترجمہ:مال تجارت میں سال گزرنے پر جو قیمت ہوگی اس کا اعتبار کیا جائے گا مگر شرط یہ ہے کہ سال کے شروع میں اس کی قیمت دوسو درہم سے کم نہ ہو۔(الفتاوی الہندیۃ، 1/179، دار الفكر بيروت)
اسی میں ہے:"ويقومها المالك في البلد الذي فيه المال حتى لو بعث عبدا للتجارة إلى بلد آخر فحال الحول تعتبر قيمته في ذلك البلد، ولو كان في مفازة تعتبر قيمته في أقرب الأمصار إلى ذلك الموضع كذا في فتح القدير ناقلا عن الفتاوى".ترجمہ: جس جگہ مال ہوگا صاحب مال وہیں کے حساب سے قیمت لگائے گا یہاں تک کہ اگر کسی نے تجارت کے لیے خریدے گئے) غلام کو کسی دوسرے شہر بھیجا اور (وہیں) سال پورا ہوگیا (تو) اس کی قیمت میں اس (ہی) شہر کا اعتبار کیا جائے گا۔ اور اگر مال جنگل میں ہو (تو) اس کی قیمت میں اُس شہر کے کا اعتبار کیا جائے گا کہ جو وہاں سے قریب تر ہوگا۔اسی طرح فتح القدير میں الفتاوی سے نقل کیا گیا ہے۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الزکاۃ،الباب الثالث، 1/180، دار الفكر بيروت)
یونہی صدر الشريعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی صاحب رحمہ الله تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ” مالِ تجارت میں سال گزرنے پر جوقیمت ہوگی اس کا اعتبار ہے، مگر شرط یہ ہے کہ شروع سال میں اس کی قیمت دو سو درم سے کم نہ ہو اور اگر مختلف قسم کے اسباب ہوں تو سب کی قیمتوں کا مجموعہ ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونے کی قدر ہو‘‘۔(بہار شریعت،1/907،مکتبۃ المدینۃ)
3- سال ِتمام پر مال تجارت اور اس کے مکمل بدل پر زکوۃ واجب ہوگی البتہ دیون اور دیگر حاجت اصلیہ منہا کرکے زکوۃ ادا کی جائے گی۔
حاجت اصلیہ (یعنی ضروریات زندگی) سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی عموماً انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور ان کے بغیر گزر اوقات میں شدید تنگی و دشواری محسوس ہوتی ہے جیسے رہنے کا گھر ، پہننے کے کپڑے ، سواری ، علم دین سے متعلق کتابیں، اور پیشے سے متعلق اوزار وغیرہ ۔ اسی طرح جنہیں مختلف لوگوں سے رابطہ کی حاجت ہوتی ہو ان کے لیے ٹیلی فون یا موبائل ، جو لوگ کمپیوٹر پر کتابت کرتے ہوں یا اس کے ذریعے روزگار کماتے ہوں ان کے لیے کمپیوٹر ، جن کی نظر کمزور ہو ان کے لیے عینک یا لینس ،جن لوگوں کو کم سنائی دیتا ہو ان کے لیے آلہ سماعت ، اسی طرح سواری کے لیے سائیکل ،موٹر سائیکل یا کاریا دیگر گاڑیاں ،دیگر اشیاء کہ جن کے بغیر اہل حاجت کا گزارہ مشکل سے ہو ، حاجت اصلیہ میں سے ہیں ۔
امام اہلسنّت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:’’مالِ تجارت جب تک خود یا دوسرے مالِ زکوٰۃ سے مل کر قدرِ نصاب اور حاجتِ اصلیہ مثل دین ،زکوٰۃ وغیرہ سے فاضل رہے گا ہر سال اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی‘‘۔(فتاوی رضویہ،10/155،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مزید آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’تجارت کی نہ لاگت پر زکوۃ ہے نہ صرف منافع پر ، بلکہ سال تمام کے وقت جو زَرِ منافع ہے اور باقی مالِ تجارت کی جو قیمت اس وقت بازار کے بھاؤ سے ہے اس پر زکوۃ ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،10/158،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
تنویر الابصار و در مختار میں ہے: "فارغ عن حاجته الأصلية".ترجمہ:زکوۃ ایسے مال پر واجب ہوگی جو حاجت اصلیہ سے فارغ ہو اور بڑھنے والا ہو۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار،کتاب الزکاۃ،2/262،دار الفکر بیروت)
زکوۃ واجب ہونے کی شرائط کے تحت الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة".ترجمہ: اور مال کا حاجت اصلیہ سے فارغ ہونا شرط ہے، پس زکوۃ نہیں ہے رہنے کے گھروں پر اور بدن کے کپڑوں پر اور گھر کے اثاثوں پر اور سواری کے جانوروں پر اور خدمت کرنے والے غلام پر اور استعمال میں آنے والے اوزاروں پر۔ (الفتاوی الہندیۃ ،کتاب الزکاۃ،باب الاول،1/172، دار الفكر بيروت)
حاجت اصلیہ کے متعلق مفتی رفیق الحسنی زید مجدہ لکھتے ہیں: ’’موجودہ دور میں صوفہ، فرنیچر، اے سی، الیکٹرانک پنکھے ، جزیر، واشنگ مشین، اوون، جو سر بلنڈر، فرج، ڈیپ فریزر، استری وغیر ہا یہ سب اثاث منزل میں داخل ہیں۔ اور تعلیم وتعلم کیلئے آلات قلم، کیلکولیٹر، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ ، آئی پیڈ، وغیر ہا سب آلات حرفت میں داخل ہیں۔آئی فون ، موبائل، ٹی وی وغیر ہا حاجات اصلیہ میں داخل ہیں... سواری کیلئے حسب ضرورت اسکوٹر سے لیکر بلٹ پروف گاڑیوں تک حتی کہ سرمایہ دار کے ذاتی استعمال کے ہوائی جہاز وغیر ہا حاجتِ اصلیہ میں داخل ہیں... اوقات کے جانے کیلئے گھڑی ، بلڈ پریشر اور شوگر اور دیگر امراض کے ٹیسٹوں کیلئے مشینیں حرفت میں داخل ہیں‘‘۔(رفیق البرکات لاھل الزکوۃ،ص:230-231،جامعہ اسلامیہ مدینۃ العلوم کراچی) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 7 شعبان المعظم1444 ھ/28فروری 2023ء