سوال
ایسا شخص جوکہ پیش امام ہو ، اسے شدت سے فالج ہوجائے جس کا اثر جسم اور زبان پر بھی ہو تو کیاایسا شخص امامت کرواسکتا ہے یا نہیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
سائل:معرفت رضا :کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر یہ شخص واجبات و ارکانِ نماز کی ادائیگی صحیح طور پر کرسکتا ہو بالخصوص قرات کرنے میں تلفظ ما تجوز بہ الصلوۃ(ایسے تلفظ کہ جس سے نماز جائز ہوجائے) ہوں تو بلاشبہ ایسے شخص کا امامت کروانا درست ہے ۔ وگرنہ ایسے شخص کو تندرستی حاصل ہونے تک امامت کروانے سے منع کیا جائے گا۔کیونکہ جب قرات صحیح طور پر نہ کرسکے گا تو فساد ِ نماز کا قوی اندیشہ ہے۔
سیدی اعلٰی حضرت، امام اہل سنت ارشاد فرماتے ہیں: اگر حرف کی صحیح ادائیگی پر قادر نہ ہوا تو اس کو امامت کرانا درست نہیں ، فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ توتلے کا فصیح کی امامت کرنا راجح اور صحیح مذہب میں فاسد ہے۔(فتاوی رضویہ ، جلد 6 ،ص: 336، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ لاہور)
ایک اور مقام پرارشاد فرماتے ہیں:اگر قرآن مجید ایسا غلط پڑھتا ہے جس سے نماز فاسد ہوتی ہے مثلا أ ، ع یا ت ، ط ث ، س، ص یا ح ، ہ یا ذ ، ز ، ظ ، ض میں فرق نہیں کرتا تو اس کے پیچھے نماز باطل ہے اور اس صورت میں اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنا ترک جماعت نہیں کہ وہ جماعت کیا نمازہی نہیں ۔(فتاوی رضویہ ، جلد 6 ،ص: 542، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ لاہور )
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب