فیک ریویو سے کمانا کیسا

    fake review se kamana kaisa

    تاریخ: 17 جولائی، 2026
    مشاہدات: 23
    حوالہ: 1639

    سوال

    ایمازون ، علی بابا ایکسپریس وغیرہ جہاں آن لائن اشیاء کی خرید و فروخت کی جاتی ہے وہاں کسی بھی چیز کے معیار کی چانچ کے لئے اسکی ریٹنگ اور ریویو دیکھے جاتے ہیں، ریٹنگ کے لئے produsts کو اسٹار دیئے جاتے ہیں ، اور ریویو کے لئے کمنٹس سیکشن میں رائے دی جاتی ہے۔ اکثر اسٹار بغیر استعمال کئے ہی دے دیئے جاتے ہیں۔ سو اگر ریٹنگ اچھی ہو اور ریویو اچھے ہوں تو لوگ اسکو خریدتے ہیں اور جس قدر اچھی ریٹنگ اور ریویو اچھے ہونگے وہ چیز خود بخود Top of the List نظر آنا شروع ہوجاتی ہے جسکی وجہ سے اسکی سیل زیادہ ہوجاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس مقصد کے لئے اگر بائع یہ تقاضا کرے کہ آپ ہماری products پر بغیر خریدے star rating دیں اور اس کے عوض ہم آپ کو اتنی رقم دیں گے یا اتنی products دے دیں گے تو اس صورت میں fake review کرنے والے کیلئے کیا حکم ہوگا َ جائز یا ناجائز؟ جبکہ اوپر یہ وضاحت ہے کہ star rating عموماً لوگ چیز کو استعمال کیے بغیر ہی کر دیتے ہیں، بائع نے fake review لینے میں اس مقصد کو واضح کیا ہے کہ وه products کو اوپر show کرنے کیلئے ایسا کر رہا ہے۔

    سائل: بمعرفت مفتی عمران شامی صاحب : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    فیک ریویو یا فیک ریٹنگ کے عوض رقم لینا شرعاً درست نہیں کہ اس میں جھوٹ کا تحقق اور لوگوں کو دھوکہ دہی کا احتمال موجود ہے، اور جھوٹ اور دھوکا دونوں ہی گناہِ کبیرہ و حرام ہیں۔ جھوٹ اس طرح کہ جب اس نے وہ پروڈکٹ استعمال ہی نہیں کی توضرور اس کے بارے میں جو رائے دے گا وہ یہ کہ یہ اچھی ، قابلِ استعمال پروڈکٹ ہے بلاشبہ یہ صریح جھوٹ ہے۔ اور دھوکہ اس طرح لوگ کوئی بھی پروڈکٹ خریدنے سے پہلے اسکے ریویو کے ذریعے اندازہ کرتے ہیں کہ کیسا پروڈکٹ ہے ؟ سو اگر اسکے گڈ ریویو کی بدولت کسی نے وہ پروڈکٹ خرید لیا اور بعد ازاں وہ اس معیار کے مطابق نہ نکلی تو اس شخص کی رقم ضایع ہوجائے گی جو کہ اسکے حق میں ضرر ہے جسکا سبب اس شخص کا فیک ریویو بنا۔ لہذا فیک ریویو دینا اور اس کے ذریعے ارننگ کرنا ہر دو ناجائز ہیں۔

    قرآن و حدیث کی رو سے جھوٹ بولنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے:﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ﴾ ترجمہ: اللہ تعالی ایسے شخص کو مقصود تک نہیں پہنچاتا جو (اپنی) حد سے گزرجانے والا، بہت جھوٹ بولنے والا ہو۔(سورة الغافر،:28)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَف۔ ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں، اگرچہ وہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے: ایک یہ کہ جب بولے تو جھوٹ بولے، دوسرے یہ کہ جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے اورتیسرے یہ کہ جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔ (الصحيح لمسلم ومسند أبي يعلى، ج:11، ص:406، ط:دار المأمون للتراث دمشق)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جھوٹ اور خیانت کو مسلمان کی شان کے خلاف بتا یا ہے، ارشاد فرمایا کہ: يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كُلِّهَا إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ۔ ترجمہ: مؤمن ہر خصلت پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔ (مسند أحمد، ج:36، ص:504، ط:مؤسسة الرسالة)

    ایک اور حدیث میں جھوٹ کے بارے میں ارشاد فرمایا: ایاکم والکذب ،فان الکذب یھدی الی الفجور،وان الفجور یھدی الی النار، ترجمہ: جھوٹ سے بچو، بیشک جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتے ہیں۔(سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 4989)

    خریدوفروخت میں خلافِ شرع چیزوں کا ارتکاب کرنے سے برکت ختم ہوجاتی ہے ۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، او قال:حتى يتفرقا ، فان صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما، وان كتما وكذبا محقت بركة بيعهما۔ ترجمہ:خریدوفروخت کرنے والوں کو خیار حاصل ہے،جب تک دونوں جدا نہ ہو جائیں یا فرمایا:یہاں تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں۔پس اگر دونوں سچ بولیں اور (بیچی جانے والی چیزکے)عیب کو بیان کر دیں، تو دونوں کے لیے خریدوفروخت میں برکت ڈال دی جائے گی اور اگر عیب کو چھپائیں اور جھوٹ بولیں، توان کی خریدوفروخت سے برکت مٹادی جاتی ہے۔ (صحیح البخاری،حدیث نمبر: 2079)

    یونہی دھوکہ دہی بھی حرام ہے: عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا۔ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص ہم کو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(ابو داؤد، حدیث نمبر 101)

    نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ فریب دوزخ میں لے جائے گا اور جو شخص ایسا کام کرے جس کا حکم ہم نے نہیں دیا تو وہ مردود ہے۔ (صحيح البخاري،كِتَاب الْبُيُوعِ ،حدیث2142)

    ایک اور حدیث حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني»ترجمہ: غلہ کے ایک ڈھیر پر گزرے تو اپنا ہاتھ شریف اس میں ڈال دیا۔ آپ ﷺ کی انگلیوں نے اس میں تری پائی تو فرمایا: اے غلہ والے یہ کیا؟ عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! اس پر بارش پڑ گئی۔ فرمایا: تو گیلے غلہ کو تو نے ڈھیر کے اُوپر کیوں نہ ڈالا تاکہ اسے لوگ دیکھ لیتے، جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر 164)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:07 صفر المظفر 1445ھ/ 25 اگست 2023 ء