سوال
محمد عباس کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے انکی جائیداد میں ساڑھے سات ایکڑ زمین ہے ۔ورثاء میں ایک بیوی ،دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جائیداد کی تقسیم کیسے ہوگی۔
سائل: محمد احمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے اور انکے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے تو کل مال وراثت (جس کا ذکر کیا گیا وہ سارا اور اگر اسکے علاوہ کوئی اور ہے تو وہ بھی ملایا جائے گا )کو 48 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ جس میں 6حصے بیوی کو 14،14 حصے ہر بیٹے کو اور 7،7 حصے ہر بیٹی کو ملیں گے۔
المسئلۃ بھذہ الصورۃ
مسئلہ : 48=6x8
مــیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوی بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
1/8 عصبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
1 7
6 14 14 7 7
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:
یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے::ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ جائیداد بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 48 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15 رمضان المبارک 1440 ھ/21 مئی 2019 ء