پراویڈنٹ فنڈ پر زکوۃ کا حکم؟

    Provident Fund par zakat ka hukam

    تاریخ: 26 فروری، 2026
    مشاہدات: 81
    حوالہ: 890

    سوال

    پراویڈنٹ فنڈ پر زکوۃ واجب ہے؟ اگر ہاں تو یہ دین قوی ہے یا دین متوسط ؟ اور اگر زکوۃ واجب نہیں تو سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے وجوب زکوۃ کا حکم کس بنا پر دیا؟

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پراویڈنٹ فنڈ کی کٹوتی کی دو صورتیں ہیں: 1: جبری 2: اختیاری

    1: پہلی صورت میں پراوڈنٹ فنڈ سے ملنے والی رقم دینِ ضعیف قرار دی جائے گی کیونکہ دینِ ضعیف وہ ہے کہ جو کسی مال کا عوض نہ ہو جیسے وراثت یا وصیت کا مال) اورواضح ہے کہ یہ رقم بھی اصلاً کسی مال کا بدل نہیں بلکہ یہ منافع کا بدل ہے یعنی تنخواہ کا حصہ ہے۔ اور منافع کا بدل دینِ ضعیف ہی ہوتا ہے اور دینِ ضعیف کا حکم یہ ہے کہ جب وصول ہوگا اسی وقت زکوۃ لازم ہوگی اس سے قبل جو بھی عرصہ گزرجائے اس پر زکوۃ لازم نہیں ہوتی ۔ لہذا پراویڈنٹ فنڈکی کٹوتی اگر جبری ہو تو جب یہ رقم ملازم وصول کرلے، اس وقت سے یہ اس کی ملکیت میں داخل سمجھی جائے گی پھر اگر اسکے پاس پہلے سے نصاب کی بقد مال موجود ہے تو یہ اسی میں شامل ہوجائے گا اور اگر پہلے کوئی نصاب نہیں ہے تو جس وقت وصول ہوا اسی وقت سے اس کی زکاۃ کا حساب کیا جائے گا۔

    دينِ ضعيف کی بابت علامہ حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:وهو (بدل غيرمال) كمهر ودية وبدل كتابةوخلع۔ترجمہ:اور یہ مال کے علاوہ کسی اور چیز کا بدل جیسے مہر ،دیت ، بدلِ کتابت ا وربدل ِ خلع۔

    اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے دین ضعیف میں ایک اور قید کا اضافہ فرمایا ہے ،لکھتے ہیں:اولی مالیس بدل مال لیشمل مالیس بدلا اصلا کالدین الموصی۔ترجمہ:اولی یہ ہےجودینکسی مال کا بدل نہ اس لیے کہ یہ اس دین کو بھی شامل ہو جائے گا جو اصلا بدل نہیں بنتاجیسے دین وصیت ۔(جلد الممتار جلد 04 ،صفحہ 16،دار الفقیہ )

    دین ضعیف میں خلاصہ یہ ہوا کہ:

    وہ اصلا مال کا بدل نہ ہو جیسے دین ِوصیت اگر ہو تو مال کا نہ ہو جیسے مہر ،دیت ، بدلِ کتابت ا وربدل ِ خلع، یونہی وہ رقم جومنافع بیچنےپر ملتی ہے ہووہ اگر کسی کے ذمہ ہو تو وہ بھی دین ضعیف میں شمار ہو گی جیسے غیر تجارتی مکان ،دکان وغیرہا کو کرائےپر دینا۔

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ دین ضعیف کے حکم کی بابت لکھتے ہیں: جب تک دین رہے اصلاًزکوٰۃ واجب نہیں ہوتی اگر چہ دس برس گزر جائیں ،ہاں جس دن سے اس کے قبضہ میں آئے گا شمارِزکوٰۃ میں محسو ب ہوگا یعنی اس کے سوا اور کوئی نصاب زکوٰۃ اسی کی جنس سے اس کے پاس موجود تھا اس پر سال چل رہا تھا تو جو وصول ہُوا اس میں ملا لیا جائے گا اور اسی کے سال تمام پر کل کی زکوٰۃ لازم ہوگی ،اوراگر ایسا نصاب نہ تھا تو جس دن سے وصول ہُوا اگر بقدرِنصاب ہے اُسی وقت سے سال شروع ہوا ورنہ کچھ نہیں ۔ (فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 160رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    2: دوسری صورت یعنی جب کوئی ملازم اپنے اختیار سے کٹوتی کرواتا ہےتو یہ وکالت کی صورت ہے کہ کمپنی اسکے حکم پر آگے کسی اور کمپنی میں انوسٹ کرتی ہے لہذا کمپنی یا ادارہ اسکی وکیل ہوتی ہے اور بے شک وکیل کا قبضہ مؤکل کا قبضہ شمار کیا جاتا ہے، لہذا جب ملازم آگے انوسٹ کرنے کی اجازت دیدیتا ہے تو اس ملازم کا اس رقم پر قبضہ حکمی ہوجاتا ہےاب اگر یہ رقم جمع ہوتے ہوتے مقدارِ نصاب کو پہنچ جائے اور ملازم صاحبِ نصاب بن جائے یا اگر پہلے سے ہی صاحبِ نصاب ہے تو جس وقت سے کٹوتی شروع ہوئی اسی وقت سے دیگر اموالِ زکوۃ کے ساتھ یہ بھی قابلِ زکوۃ ہوگئی تو اس پر ضرور زکوۃ لازم ہوگی۔

    کوئی بھی ادارہ یا حکومت جب اپنے ملازمین کے لئے جوپراویڈنٹ فنڈقائم کرتی ہے تو اختیاری کٹوتی کی صورت میں ہر ماہ اس ملازم کی اجازت سے اس کی تنخواہ سے مخصوص رقمکاٹ لی جاتی ہے بعد ازاں حکومت یا ادارہ اتنی ہی رقم اپنی جانب سے ملا کر عموماً کسی کمپنی میں انوسٹ کرتے ہیں، اوربعد از ملازمت ، ملازم کو وہ رقممع منفعت مل جاتی ہے۔

    جب یہ ملازم یاد رہے اس صورت میں جو رقم ملازم کی تنخواہ سے اسکی اجازت کیساتھ کٹ رہی ہے اس رقم کو اقسامِ دین سے شمار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ دین کی کسی قسم کے تحت داخل نہیں ، دین قوی اس لئے نہیں کیونکہ دینِ قوی دو طرح کی چیزیں ہیں ، 1: قرض، 2: مالِ تجارت کا بدل۔ اور یہ رقم کمپنی پر قرض نہیں اور نہ ہی یہ مالِ تجارت کا بدل ہے۔یونہی دینِ متوسط بھی نہیں کیونکہ دینِ متوسط غیر تجارتی مال کا عوض مثلا کسی نے اپنی ذاتی گاڑی یا مکان بیچا تو اسکے پیسے جو مشتری کے ذمے ہیں دینِ متوسط ہے اوریہ اس قسم میں بھی داخل نہیں کما ھو واضح۔ پھر دین ضعیف بھی نہیں کیونکہ دینِ ضعیف وہ ہے جو وہ اصلا مال کا بدل نہ ہو جیسے دین وصیت اگر ہو تو مال کا نہ ہو جیسے مہر ،دیت ، بدلِ کتابت ا وربدل ِ خلع۔ اور بلاشبہ یہاں بھی اسے مال کا بدل نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ یہ تو خود مال ہی ہے، اختیاریاور جبری کٹوتی کی صورت میں دینِ ضعیف ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں فرق اسی اعتبار سے ہے کہ جب کمپنی یا ادارہ اسکی تنخواہ کا ایک حصہ اسکی اجازت کے بغیر کاٹ لیتی ہے تو وہ رقم اس کمپنی کے ذمے بطورِ دین قائم و باقی رہتاہے ، لیکن جب ملازم کمپنی یا ادارے کو کٹوتی کی اجازت دے دے تو اس صورت میں یہ رقم بطورِ دین باقی نہیں رہتی بلکہ یہ ایسا ہی ہے گویا کہ کمپنی نے اس ملازم کو اسکی مکمل اجرت دے دی جس کے بعد ملازم خود اپنی تنخواہ کا ایک حصہ کمپنیکو بطورِ وکالت دیکر اسے آگے انوسٹ کرنے کی اجازت دیدے ۔ اب ملازم کی یہ رقم خالصتاً انوسمنٹ کے حکم میں ہے۔ اور انوسمنٹ پر زکوۃ لازم ہے لہذا اس رقم پر بھی ہر سال زکوۃ لازم ہوتی رہے گی۔

    البتہ دونوں صورتوں میں اس اصل رقم پر ملنے والے منافع کی مزید دو صورتیں متحقق ہوسکتی ہیں۔

    1: اگر ادارہ یا حکومت اس جمع شدہ رقم کو سودی بینکوں یا سودی تمسکات (Bonds) میں انویسٹ کرتی ہے اور وہاں سے حاصل ہونے والا سود ملازم کو "منافع" کے نام پر دیا جاتا ہے، تو اس کا حکم یہ ہے کہ تو ایسی صورت میں یہ زائد رقم سود کے قرار پائے گی اور ملازم کے لیے اس کا اپنے استعمال میں لانا ناجائز و حرام ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ یہ رقم بغیر نیت ثواب کے کسی مستحق زکوۃ فقیر شرعی کو دے دے ۔ چونکہ یہ مال خبیث ہے، اس لیے اس پر زکوۃ لازم نہیں ہوتی، بلکہ پوری رقم ہی صدقہ کرنا واجب ہے۔

    2: اگر ادارہ یا کمپنی اس رقم کو کسی شرعی اصولوں پر مبنی کاروبار، مضاربت یا اسلامی بینکنگ کے ذریعے انویسٹ کرتا ہے اور وہاں سے نفع حاصل ہوتا ہےتو اس صورت میں یہ منافع ملازم کے لیے جائز و حلال ہے اور اس رقم پر زکوۃ کا وہی حکم لاگو ہوگا جو اصل رقم کا ہے۔یعنی جبری صورت میں اس منافع پرگزشتہ سالوں کی زکوۃ لازم نہیں جبکہ اختیاری صورت میں گزشتہ سالوں کی بھی زکوۃ لازم ہوگی۔

    فتاوی رضویہ میں ہے: مالِ تجارت جب تک خود یا دوسرے مالِ زکوٰۃ سے مل کر قدرِ نصاب اور حاجتِ اصلیہ مثل دَین زکوٰۃ وغیرہ سے فاضل رہے گا، ہر سال اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 155، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    فتاوی رضویہ میں ہے: تجارت کی نہ لاگت پر زکوٰۃ ہے نہ صرف منافع پر، بلکہ سالِ تمام کے وقت جو زرِ منافع ہے اور باقی مالِ تجارت کی جو قیمت اس وقت بازار کے بھاؤ سے ہے، اس پر زکوٰۃ ہے۔(فتاوی رضویہ، ج 10، ص 158، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    مفتی جلال الدین احمد امجدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:ملازم اگر مالکِ نصاب ہے تو دیگر زکاتی مالوں کے ساتھ فنڈِ مذکور میں جب سے رقم جمع ہونی شروع ہوئی ہے اسی وقت سے اس رقم کی بھی زکوٰۃ ہر سال واجب ہوگی اور اگر مالکِ نصاب نہیں ہے تو جب فنڈ کی رقم زکوٰۃ کے دوسرے مالوں کے ساتھ جوڑنے سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی مقدار کو پہنچ جائے اور حوائجِ اصلیہ سے بچ کر اس پر سال گزر جائے اس وقت فنڈ کی رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی اور پھر ہر سال بسال واجب ہوتی رہے گی۔(فتاویٰ فیض الرسول، صفحہ 479، جلد 1، مطبوعہ لاہور)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    الجـــــواب صحــــیـح

    ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

    محمد زوہیب رضا قادری

    09 ذوالعقدہ 1447ھ/ 27 اپریل 2026 ء