دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کو طلاق دینا
    تاریخ: 28 جنوری، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 677

    سوال

    میرا نام صبا ہے ، یاسین نامی شخص نے مجھ سے دوسری شادی کی ہے ، میری بھی دوسری شادی ہےمیرے پہلی شادی سے تین بچے ہیں اسی طرح یاسین کے بھی تین بچے ہیں ،ہم دونوں بہت خوش ہیں ۔ یاسین کے گھر والوں کو اس شادی کا معلوم ہوگیا ہے وہ اسکو بہت بڑا گناہ سمجھ رہے ہیں وہ لوگ اسکو ٹارچر رکرتے رہتے ہیں اور اسکو کہتے ہیں کہ مجھے چھوڑ دے جبکہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے ۔ میری دوخواست ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ یاسین نے غلط کیا یا شریعت کے مطابق کیا؟

    سائلہ: صباء: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مرد کو اللہ تعالٰی کی طرف سے بیک وقت چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہےجبکہ تمام میں عدل و انصاف قائم رکھ سکے۔لہذا اگر کسی مرد میں استطاعت ہو کہ ایک سے زائد رکھ سکے اور سب میں مساوات رکھ سکے اور انکا نان و نفقہ (اخراجات)برداشت کرسکے تو بلاشبہ ایک سے زائد شادی کرنا جائز ہے۔ایک سے زائد شادی کو گناہ سمجھنا یا اسکو برا تصور کرنا شریعت کی جائز کردہ چیز کو برا ماننے کے مترادف ہے۔

    لیکن اگر اپنی بیویوں کے درمیان مساوات قائم نہ رکھ سکے تو صرف ایک کی اجاز ت ہے،قال اللہ تعالیٰ : فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا :ترجمہ کنزالایمان :تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو ۲دو ۲ اور تین۳ تین۳ اور چار ۴چار۴ ،پھر اگر ڈرو کہ دوبیبیوں کوبرابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ ا س سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔(النساء:3)

    امام رازی اس آیت کے تحت التفسیر الکبیر میں رقمطراز ہیں :الْمَعْنَى: فَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لَا تَعْدِلُوا بَيْنَ هَذِهِ الْأَعْدَادِ كَمَا خِفْتُمْ تَرْكَ الْعَدْلِ فِيمَا فَوْقَهَا، فَاكْتَفُوا بِزَوْجَةٍ وَاحِدَةٍ ترجمہ: اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر تمہیں اندیشہ ہوکہ تم ان (دو،تین یاچار)کے درمیان عدل نہیں کرپاؤ گے جیسا کہ ایک سے زائد بیوی ہونے کی صورت میں ناانصافی کا اندیشہ ہوتا ہے تو ایسی حالت میں تم ایک بیوی پر اکتفاء کرو۔ (التفسیر الکبیر جلد 9 ص 486)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:16 شعبان المعظم 1442 ھ/31 مارچ 2021 ء