dukandar na mile to us ke paison ka kya hukum
سوال
19 یا 20 سال پہلے میں نے کسی دوکاندار سے کوئی چیز لی تھی جس کے آدھے پیسے دے دئیے تھے اور 60 روپے رہ گئے تھے ۔ پھر میں بھول گئی اور پیسے نہیں دیئے اب میں نے مدنی چینل پر قرض کے حوالے سے کچھ بیانات سنے کہ قرض کسی صورت معاف نہیں ۔ میں نے دوکان ڈھونڈنے کی کوشش بھی کی تومعلوم ہوا کہ دوکان کب کی ختم ہوگئی اور دوکاندار کے گھر وغیرہ کا کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ اب میں اس کی ادائیگی کیسے کروں؟ شرعی رہنمائی فرمادیں۔
سائلہ:نائلہ ناز :کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جتنی رقم باقی ہے وہ اس دوکاندار کا دَین ہے جسکی ادائیگی آپ پر لازم ہے، اگر جان بوجھ کر سستی یا کوتاہی کے سبب ادائیگی میں اتنی تاخیر ہوگئی کہ مالک سے لاعلم ہوگیاتو اس صورت میں دَین دار گنہ گار ہوگا ۔اور اس پر لازم ہے کہ اس شخص کو تلاش کرے وہ نہ ملے تو اس کے ورثاء کو تلاش کرے ۔ تلاشِ بسیار کے باوجود نہ مل سکیں تو اتنی رقم اپنے مال سے شرعی فقیر پر صدقہ کردے، آخرت میں مواخذہ سے بری ہوجائے گا۔
تنویر الابصار مع الدر میں ہے:(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله، وإن استغرقت جميع ماله(و)متى فعل ذلك(سقط عنه المطالبة)من أصحاب الديون(في المعقبي) مجتبى :ترجمہ:کسی کے ذمے لوگوں کےدیون اور حقوق ہیں ،مگر اسکو مالکوں کا علم نہیں ، اور انکے ملنے کی امید بھی ختم ہوگئی تو اس پر اپنے مال سے اتنی مقدار میں صدقہ کرنا واجب ہے۔اگر چہ اسکا سارا مال اسی میں مستغرق ہوجائے۔ اور جب یہ ایسا کرلے تو آخرت میں اصحابِ دیون کی جانب سے مطالبہ ساقط ہوجائے گا۔( تنویر الابصار مع الدرالمختار، کتاب اللقطہ جلد 4 ص 283)
صدرالشریعہ ،مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں:لوگوں کے دَین یا حقوق اس کے ذمہ ہیں مگر نہ اُن کا پتا ہے نہ اُن کے ورثہ کا تو اُتنا ہی اپنے مال ميں سے فقرا پر تصدق کرے آخرت کے مؤاخدہ سے بری ہو جائے گا۔(بہارِ شریعت، حصہ دہم جلد 2 ص 483، 484)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:28جمادی الاول 1442 ھ/13 جنوری 2021 ء