دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی اجازت کا حکم؟

    Doosri shadi ke liye pehli beevi ki ijazat ka hukam

    تاریخ: 31 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1070

    سوال

    کیادوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی اجازت ضروری ہے؟

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شریعت اسلامیہ میں مرد کو زیادہ سے زیادہ چار شادیوں کی اجازت ہے ،جبکہ مرد اپنی تمام ازواج میں عدل قائم کرسکتا ہو لیکن اگر اپنی بیویوں کے درمیان مساوات قائم نہ رکھ سکے تو صرف ایک کی اجاز ت ہے،قال اللہ تعالیٰ :فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا ۔ترجمہ کنزالایمان : تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو ۲دو ۲ اور تین۳ تین۳ اور چار ۴چار۴ ،پھر اگر ڈرو کہ دوبیبیوں کوبرابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ ا س سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔

    علامہ رازی اس آیت کے تحت التفسیر الکبیر جلد 9 ص 486 میں رقمطراز ہیں :الْمَعْنَى: فَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لَا تَعْدِلُوا بَيْنَ هَذِهِ الْأَعْدَادِ كَمَا خِفْتُمْ تَرْكَ الْعَدْلِ فِيمَا فَوْقَهَا، فَاكْتَفُوا بِزَوْجَةٍ وَاحِدَةٍ۔ترجمہ: اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر تمہیں اندیشہ ہوکہ تم ان (دو،تین یاچار)کے درمیان عدل نہیں کرپاؤ گے جیسا کہ ایک سے زائد بیوی ہونے کی صورت میں ناانصافی کا اندیشہ ہوتا ہے تو ایسی حالت میں تم ایک بیوی پر اکتفاء کرو۔

    لہذا اگر آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ آپ دونوں کے درمیان عدل و مساوات قائم رکھ سکیں گے تو آپ کے لیے دوسرے شادی کرنا جائز ہے ، اور شرعی طورپر اس کے لیےپہلی بیوی کی اجازت ضروری نہیں ہے، البتہ اخلاقی طور پر یہ اچھی بات نہیں ہے کہ آپ نے اس کے ساتھ جو عرصہ گزارا ہے اسی کا خیال رکھتے ہوئے اور اسی رفاقت کا لحاظ کرتے ہوئے اس سے اجازت لے لیں نیز ملکی قانون میں بھی پہلی بیوی سے اجازت لیے بغیردوسری شادی نہیں کر سکتا لہذا دوسری شادی کا معاملہ پہلی بیوی کے علم میں لانا چاہیے، اور پھر مشاہدہ بھی یہی ہے کہ اس طرح کی شادیوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ جب پہلی بیوی کو دوسری شادی کاعلم ہوتا ہے تو وہ طلاق کا مطالبہ کرنا شروع کردیتی ہے پھر بعض اوقات طلاق ہوبھی جاتی ہے، یا طلاق نہ بھی ہو تو آئے روز لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں جس سے زندگی کا سکون غارت ہوجاتا ہے ۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

    محمد زوہیب رضا قادری

    22 محرم الحرام 1448ھ، 8 جولائی 2026ء