دو مساجد کے مابین پنج وقتہ نماز اور جمعہ کی تقسیم کا شرعی حکم
    تاریخ: 6 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 973

    سوال

    ہمارے گاؤں میں دو مسجدیں ہیں ایک وہ مسجد ہے جو گاؤں کے اندر ہے جہاں گاؤں کے علاوہ اور حاضر نہیں ہو سکتے اور دوسری اسٹاپ پر مسجد ہے جہاں پر اذن عام موجود ہیں۔گاؤں والی مسجد آباد ہے (نمازیں ہوتی ہیں، پہلے جمعہ بھی ہوتا تھا پھر امام صاحب کے انتقال کے بعد جمعہ ختم ہوگیا) اور جو اسٹاپ پر مسجد بنائی گئی ہے وہ ابھی بنائی گئی ہے۔

    ہمارا گاؤں تقریبا 200 افراد پر مشتمل ہے(جس سے پرانی گاؤں والی مسجد میں یہ سب سما نہیں سکتے)، تو مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ ہم بقیہ نماز گاؤں والی مسجد میں ادا کریں اور جمعہ نماز اسٹاپ والی مسجد پر ادا کر سکتے ہیں؟ ابھی تک ہم نے اسٹاپ والی مسجد میں جمعہ شروع نہیں کیا ہے تو کیا ہم جمعہ شروع کر سکتے ہیں، کیونکہ اگر ہم اسٹاپ والی مسجد کو آباد کرتے ہیں تو گاؤں والی مسجد ویران ہو جاتی ہے ۔

    سائل: احسان علی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر گاؤں کی بیان کردہ آبادی ان افراد پر مشتمل تھی جن پر جمعہ کی شرائط (مسلمان، مرد، مقیم، تندرست، عاقل اور بالغ ہونا) پوری اترتی ہیں، تو ایسی صورت میں مفتی بہ قول کے مطابق وہاں جمعہ قائم کرنا جائز و فرض تھا۔ پھر جب امام صاحب کے انتقال کے بعد جمعہ کا یہ سلسلہ منقطع ہوا، تو اب اسٹاپ پر نئی مسجد میں جملہ شرائط (شہر، اذن عام،جماعت (کم از کم تین افراد)، خطبہ،وقت،سلطان یا اس کا نائب)کے ساتھ جمعہ قائم کرنا اور پرانی مسجد میں پنج وقتہ نمازوں کا سلسلہ جاری رکھنا دونوں جائز ہے۔

    تفصیل مسئلہ:

    جمعہ کے قیام کیلئے چند ناگزیر شرائط ہیں جن کے بغیر یہ فریضہ ادا نہیں ہوتا۔

    (۱) مصر: جمعہ کیلئے شرط ہے کہ وہ کسی مصر میں ادا کیا جائے اور مصر اس سے مراد وہ جگہ ہے جہاں لوگوں کی ضروریات کیلئے انتظام ہواور وہ ایک ایسا مرکزی مقام ہو جس کے ساتھ ملحقہ دیہات وابستہ ہوں۔ وہاں کسی ایسے بااثر حاکم کا ہونا بھی ضروری ہے جو اپنی طاقت اور رعب سے ظالم سے مظلوم کا حق دلوانے کی قدرت رکھتا ہو (خواہ وہ عملاً انصاف کرے یا نہ کرے، بس اس کے پاس انصاف فراہم کرنے کی طاقت و قدرت ہونی چاہیے)۔ مزید یہ کہ اس کے بالکل متصل وہ بیرونی جگہیں جو شہر ہی کی ضروریات اور مصلحتوں کیلئے وقف ہوں، جیسے کہ قبرستان، فوجی چھاؤنیاں، کچہریاں یا ریلوے اسٹیشن وغیرہ، وہ سب ’’فنائے مصر‘‘کہلاتی ہیں۔ ایسی جگہوں کا شمار شہر ہی کے حکم میں ہوتا ہے، لہٰذا وہاں بھی جمعہ کی نماز قائم کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔

    پس ظاہر الروایۃ کے مطابق گاؤں میں جمعہ نہیں ہوتا لیکن اگر عوام پڑھے تو روکا بھی نہیں جائے گا کہ وہ جس طرح بھی اللہ رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیں غنیمت ہے۔یہ ضرور بتایا جائے کہ گاؤں میں جمعہ نہیں ہوتا اور ظہر ساقط نہیں ہوتی۔البتہ متاخرین فقہاءِ احناف نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے نادر الروایہ پر فتوی دیتے ہوئے چھوٹے قصبے یا ایسے گاؤں جہاں اتنے افراد ہوں کہ گاؤں کی بڑی مسجد ان سے بڑھ جائے (یعنی وہ تمام اس مسجد میں سما نہ سکیں) ایسی مسجد میں بھی جمعہ کی اجازت دی ہے۔ اور یہی صورت حال پوچھے گئے سوال میں ثابت ہے۔

    (۲) اذن عام: جمعہ کی صحت کیلئے دوسری اہم شرط یہ ہے کہ وہاں عام لوگوں کو آنے کی اجازت ہو۔ اگر کسی جگہ صرف مخصوص افراد کو آنے کی اجازت ہو اور عام لوگوں کیلئے دروازہ بند ہو تو وہاں جمعہ درست نہیں۔

    (۳) جماعت: جمعہ کیلئے جماعت کا ہونا ضروری ہے جس کی کم از کم تعداد امام کے علاوہ تین بالغ مرد ہے۔

    (۴) خطبہ: نماز جمعہ سے پہلے خطبہ دینا بھی شرط ہے جس میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کی جائے۔

    (۵) وقت: جمعہ نماز ظہر کے وقت ادا کی جائے اوروقتِ ظہر میں نماز پوری ہو جائے ۔

    (۶) سلطان یا اس کا نائب: جمعہ کا قیام عام طور پر سلطان (حاکم) یا اس کے نائب کی اجازت سے ہونا چاہیے، تاکہ نظم و ضبط برقرار رہے۔

    ان تمام شرائط کی موجودگی میں ہی جمعہ کی نماز صحیح قرار پاتی ہے اور ظہر کا فرض ساقط ہوتا ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    دیہات میں نمازِ جمعہ و عیدین کے قیام کا حکم بیان کرتے ہوئےعلامہ ابو الحسن علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں: "لَا تَصِحُّ الْجُمُعَةُ إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ، أَوْ فِي مُصَلَّى الْمِصْرِ، وَلَا تَجُوزُ فِي الْقُرَى؛ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا جُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيقَ وَلَا فِطْرَ وَلَا أَضْحَى إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ". ترجمہ: جمعہ شہر کی جامع مسجد یا شہر کی وہ جگہ جو نماز کیلئے خاص ہو اسی میں صحیح ہوتا ہے اور دیہات میں جائز نہیں ہے، کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے: "نہ جمعہ، نہ تکبیرِ تشریق اور نہ ہی عیدین جائز ہیں مگر شہر کی جامع مسجد (یا شہر کی حدود) میں۔ (الہِدایہ، کتاب الصلوٰۃ، باب الجمعۃ، ج: 1، ص: 82)

    ظاہر الروایۃ کے حکمِ ممانعت کے باوجود عوام کو نماز سے نہیں روکا جائے گا، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ جمعہ و عیدین دیہات میں ناجائز ہیں اور ان کا پڑھنا گناہ، مگر جاہل عوام اگر پڑھتے ہوں تو ان کو منع کرنے کی ضرورت نہیں کہ عوام جس طرح اللہ و رسول کا نام لے لیں غنیمت ہے‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ، 8/387، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    امام ابویوسف رحمہ اللہ سے ایک نادر روایت کے تحت گاؤں میں جمعہ کے جواز کی صورت بیان کرتے ہوئے علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی ﷫ (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "الْمِصْرُ وَهُوَ مَا لَا يَسَعُ أَكْبَرُ مَسَاجِدِهِ أَهْلَهُ الْمُكَلَّفِينَ بِهَا وَعَلَيْهِ فَتْوَى أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ". ترجمہ: شہر وہ ہے جس کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں کے وہ باشندے نہ سما سکیں جن پر جمعہ فرض ہے، اور اسی پر اکثر فقہاء کرام کا فتویٰ ہے۔ (الدر المختار ، باب الجمعۃ، 2/137، دار الفکر)

    علامہ محمد بن محمود اکمل الدین بابرتی (المتوفی:786ھ) فرماتے ہیں: "(وَعَنْهُ) أَيْ عَنْ أَبِي يُوسُفَ (أَنَّهُمْ إذَا اجْتَمَعُوا) أَيْ اجْتَمَعَ مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِمْ الْجُمُعَةُ لَا كُلُّ مَنْ يَسْكُنُ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ مِنْ الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ وَالْعَبِيدِ لِأَنَّ مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِمْ مُجْتَمِعُونَ فِيهِ عَادَةً. قَالَ ابْنُ شُجَاعٍ: أَحْسَنُ مَا قِيلَ فِيهِ إذَا كَانَ أَهْلُهَا بِحَيْثُ لَوْ اجْتَمَعُوا فِي أَكْبَرِ مَسَاجِدِهِمْ لَمْ يَسَعْهُمْ ذَلِكَ حَتَّى احْتَاجُوا إلَى بِنَاءِ مَسْجِدٍ آخَرَ لِلْجُمُعَةِ". ترجمہ: امام ابویوسف سے روایت ہے کہ (شہر وہ ہے جہاں) جب وہ لوگ جمع ہوں جن پر جمعہ لازم ہے (نہ کہ تمام باشندے جیسے بچے، خواتین اور غلام)؛ ابن شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل لوگ وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو وہ ان کیلئے کافی نہ ہو، یہاں تک کہ انہیں جمعہ کیلئے ایک اور مسجد بنانے کی ضرورت پڑے۔ (العنایۃ شرح الہدایۃ، باب صلاۃ الجمعۃ، 2/52، دار الفکر) (البحر الرائق، باب صلاۃ الجمعۃ، 2/152، دار الکتاب الاسلامی)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”ہاں ایک روایت نادرہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے یہ آئی ہے کہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد ،عاقل ،بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہو سکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کے لئے مسجد جامع بنانی پڑے ، وہ صحت جمعہ کے لئے شہر سمجھی جائے گی ... جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگرچہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعت متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے“۔ (فتاویٰ رضویہ، 8/347، رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:14 شعبان المعظم 1447ھ/3 فروری 2026ء