سوال
1: جس آ دمی کی دو بیویاں ہوں، اور وہ سرکاری ملازم ہوں تو وہ ان دونوں کو خرچ کس حساب سے دے، اگر ایک بیوی سے اس کے چار بچے ہوں اور دوسری سے کچھ نہ ہو تو پھر خرچہ کس حساب سے دے۔ زمین کی فصل سے جوآ مدنی آ ئے وہ کس حساب سے دونوں تقسیم کرے جبکہ ایک کے چار بچے ہیں اور دوسری کی اس سے کوئی اولاد نہیں ہے۔
2: جب پہلی بیوی کو پتہ چل جائے کہ اس کے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہے پھر پہلی بیوی کو کیا کرنا چاہیے آ یا وہ شوہر سے لڑے جھگڑے کہ دوسری کو چھوڑ دو یا پھر اسلام جس طرح کہتا ہے کہ میاں کے ساتھ اچھی زندگی گزارے گھر میں سکون سے رہے میاں کو تنگ نہ کرے۔ سائل:محمد رفیق: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: جس آدمی کی دو بیویاں ہوں اس پر درج ذیل احکام میں دونوں بیویوں کے مابین مساوات لازم ہے:
1: شب باشی یعنی جتنی راتیں ایک بیوی کے ساتھ رہتا ہے اتنی ہی راتیں دوسری بیوی کے ساتھ بھی رہے، لیکن ہمبستری میں برابری ضروری نہیں ۔
2: نان ونفقہ یعنی کھانا پینا، لباس و پوشاک، رہائش اور خرچہ میں دونوں کے درمیان برابری ضروری ہے بشرطیکہ دونوں کی حالت یکساں ہو یعنی خاندانی اعتبار سے دونوں برابر ہوں البتہ اگر ایک بیوی غنیہ اور دوسری فقیرہ ہو تو اب برابری شرط نہیں بلکہ دونوں کی حالت کے اعتبار سے نان و نفقہ لازم ہوگا۔
3:معاملات و برتاؤ یعنی دونوں سے مساوی اچھا برتاؤ کرے، مثلاً اگر ایک کو تحفہ دیتا ہے، تو دوسری کو بھی تحفہ دے۔
اگر ان چیزوں میں کسی ایک بیوی کے ساتھ دوسری کے مقابلے میں کمی زیادتی کا معاملہ کرے گا تو شوہر ظالم شمار ہوگا، اللہ کے یہاں اس کی پکڑ ہوگی۔البتہ ہ دن کے اوقات میں بیویوں کے درمیان برابری کرنا ضروری نہیں ہے، لہذا دن کے وقت اگر وہ اپنے بچوں اور والدین کے ساتھ وقت گزارتا ہے، تو شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
نیز نابالغ اولاد کا خرچ بھی باپ پر لازم ہے اور یہ خرچ بیوی کے نفقے کے علاوہ ہے، لہذا سوال میں ذکرکردہ صورت میں مذکورہ شخص کو چاہیے کہ برابری کی بنیاد پر پہلے دونوں بیویوں کا نفقہ الگ الگ مقرر کرے ، اور بچوں کا الگ نفقہ مقرر کرے، سو اگر اس صورت میں جس بیوی کی اولاد ہے ،اگر اس کا خرچ بڑھ جائے، تو یہ بیوی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ اضافہ اولاد کی وجہ سے ہوگا، لہذا اس پر دوسری بیوی کا اعتراض کرنا عبث اور بے جا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنٰى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ذٰلِكَ اَدْنٰى اَلَّا تَعُوْلُوْا۔ ترجمہ کنز الایمان : تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو ۲دو ۲ اور تین۳ تین۳ اور چار ۴چار۴ ، پھر اگر ڈرو کہ دوبیبیوں کوبرابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ ا س سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو ۔(النساء: 3)
ابو داؤد شریف میں ہے: عن أبى هريرة ؓ عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل۔ ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور پھر وہ کسی ایک کی طرف مائل ہو گیا تو وہ قیامت کے روز اس کیفیت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا ۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 2133)
تنویر مع الدر میں ہے: (يجب) وظاهر الآية أنه فرض، نهر (أن يعدل) أي أن لايجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب۔ ترجمہ:اور واجب ہے جبکہ آیت کا ظاہر یہ ہے کہ یہ فرض ہے کہ عدل کرے یعنی ظلم نہ کرے اس میں یعنی رات گزارنے کی تقسیم میں برابری میں اور لباس و کھانے میں اور معاملات میں نہ کہ جماع میں ، جیساکہ محبت بلکہ (جماع میں ) مستحب ہے۔
اسکے تحت شامی میں ہے: قال في البدائع: يجب عليه التسوية بين الحرتين والأمتين في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة، وهكذا ذكر الولوالجي والحق أنه على قول من اعتبر حال الرجل وحده في النفقة. وأما على القول المفتى به من اعتبار حالهما فلا فإن إحداهما قد تكون غنية والأخرى فقيرة، فلا يلزم التسوية بينهما مطلقا في النفقة. وبه ظهر أنه لا حاجة إلى ما ذكره المصنف في المنح من جعله ما في المتن مبنيا على اعتبار حاله ۔ترجمہ:بدائع میں فرمایا ، مرد پر دو آزاد یا باندیوں کے درمیان کھانے، پینے ، لباس ، رہائش، اور رات گزارنے میں تساوی ضروری ہے ۔ اسی طرح ولوالجی میں مذکور ہے اور حق یہ ہے کہ یہ اس شخص کا قول ہے جس نے نفقے میںصرف مرد کے حال کا اعتبار کیا ، بہرحال مفتٰی بہ قول کے مطابق دونوں کی حالت کا اعتبار لازم ہے کیونکہ کبھی ایک بیوی غنیہ اور ایک فقیرہ ہوتی ہے تو ان کے درمیان نفقہ میں مطلقاً برابری لازم نہیں اور اسی سے ظاہر ہوا کہ اسکی حاجت نہیں کہ جو مصنف نے منح میں ذکر کیا یعنی جو متن میں مذکور ہے وہ مرد کی حالت کا اعتبار پر مبنی ہے۔ ( تنویر الابصار مع الدالمختار و حاشیہ ابن عابدین شامی ، باب القسم ، جلد3 ص 202 )
2: اگر مرد دونوں بیویوں کے مابین مساوات و عدل رکھے ہوئے ہے اور دونوں کے حقوق یکساں ادا کررہا ہے تو پہلی بیوی کا اس پر کسی طرح کا اعتراض کرنے کاکوئی حق نہیں کہ مساوات کے ساتھ یہ حق اسے شرع نے دیا جسے ختم کرنے کا کسی کو اختیار نہیں، بلکہ اسے چاہیے کہ صبر و رضا کے ساتھ مرد سے ساتھ گھریلو معالات کی انجام دہی جاری رکھے۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 04 صفر المظفر 1445ھ/ 22 اگست 2023 ء