لیکچرار کی اجرت کی بابت چند سوالوں کے جوابات
    تاریخ: 21 نومبر، 2025
    مشاہدات: 44
    حوالہ: 201

    سوال

    جامعہ کراچی میں ٢٠١٦ میں پڑھانا شروع کیا اور اللہ کے فضل سے اسی سال مستقل طور پر لیکچرار لگ گیا گزشتہ ٦سالوں میں کئی ایسی موقعے آۓ (جب چھٹیاں کی لیکن درخواست جمع نہیں کروائیں ابھی پچھلے ماہ ہی دو ہفتے 6 سے 14 ستمبر سات دن نہیں جا سکا طبیعت خرابی کی وجہ سے ـ ایسے میں ہوتا یوں کہ کبھی منہ زبانی چیئرمین کو بتایا سرکاری درخواست بھی جمع کر وادی اور کبھی تو بتایا تک نہیں ۔

    چھٹی کی وجوہات مختلف ہوتی تھیں کبھی تو یوں ہوتاکوئی گھر والی ایمرجنسی ہوتی کوئی اور مجبوری کبھی ایسا ہوتا کہ ایک دن کلاس نہیں کوئی بھی جیسے اس سمیسٹر جمعہ کے دن میری کلاس نہیں تو میں اس دن جاتا ہی نہیں یعنی پورا سمسٹر جمعہ جاتا ہی نہیں تھا۔

    کبھی طبیعت کی خرابی وجہ ہوتی لیکن کبھی سستی کبھی ایسے ہی دل نہیں چاہنے کی وجہ سے بھی کلاسز رہ گئی ہیں تو سمسٹر میں جو 45 کلاس ہوتی ہیں ایک کورس کی تو کبھی تو ٣٥ سے ٣٨ ہو جایا کرتی ہیں۔ کبھی ایسا ہوا ہے کہ 15سے 18 ‏ہو پائی اور کبھی25

    پڑھانے کا اندازاور طلبہ کی بے رخی

    اچھا شروع شروع میں بہت جذبے سے پڑھانا شروع کیا تھا ہر کلاس کے لیے تیاری کرکے کاغذ پر مواد رکھ کر جایاکرتا تھا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا تو شاگردوں کے رویے کی وجہ سے دل خراب ہوتا گیا 60 کی کلاس میں بمشکل تیس سے چالیس آتے ہیں ان میں سے بھی دس ایسے ہوتے ہیں جو کلاس میں دماغی طور پر حاضر ہوتے ہیں لیکن امتحان ہو تو پتہ چلتا ہے کہ ان دس کا بھی بہت برا حال ہےمطلب سمجھ بوجھ بالکل صفر ہو چکی ہے ۔اس وجہ سے جو پڑھانے کے لئے تیاری کیا کرتا تھا وہ بالکل ختم کر دی۔

    فرسٹ یا سیکنڈ یئر ہو تو صرف ٹاپک دیکھ کر چلا جاتا ہوں سوالات کی بھی مشق نہیں کرتا پہلے خود سے اسی وقت بورڈ پہ ہی کرتا ہوں جس سے کبھی پانچ سے دس منٹ ضائع ہوجاتے ہیں ـ

    یوں ہی فائنل ایئر ہو تو بس پڑھ کے چلا جاتا ہوں لکھ کر پہلے کی طرح کاغذ پر نہیں لے کے جاتا جسکی وجہ سے کبھی یوں بھی ہوتا ہے کچھ بھول جاؤں تو دس پندرہ منٹ ضائع ہو جاتے ہیں پر ایسا کم ہوتا۔لیکن شاگردوں میں دلچسپی اور طلب علم کی جو کمی ہےاس کی وجہ سے اب بالکل دل نہیں چاہتا لیکچر باقاعدہ طریقے سے تیار کرنے کا کیونکہ سامنے کوئی دماغی طور پر پر جوش ہوکے دماغی طور پے حاضر ہی بہت کم ہوتے ـ

    ان کی اس شعبے میں ذہنی سطح پرائمری والے شاگردوں کی سی ہے ،بہت کم کوئی شاگرد انٹرست ظاہر کرتا۔کسی میں طلب ہو تو پھر دل لگا کے پڑھا تا ہوں اچھا ساتھ ہی کلاس کے علاوہ جو اوقات ہیں اس میں بھی شاز و نادر ایک یا دو کے علاوہ کوئی پوچھنے نہیں آتا سوائے جب امتحانوں میں دو ہفتے رہ گئے ہو پھر سب کو پوچھنا ہوتا ہے اس وجہ سے ایک مسئلہ یہ ہوا کہ میں صرف جامعہ کلاس لینے جاتا ہوں اب جامعہ میں اس کے علاوہ نہیں بیٹھ تا صرف وقت ضائع ہوتا ہے اکیلا بیٹھا ہوں کوئی نہیں آتااگر بیٹھوں تو لیپ ٹاپ یا موبائل میں کھیلنے لگتا ہوں کیونکہ فارغ بیٹھنے سے تو بہتر دماغ کہیں لگے ـ

    ان دنوں کی روٹین

    آج کل انجمن طلباء اسلام کے لڑکوں کو وقت دے رہا ہوں تنظیمی معاملات کو دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں آخرمیں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ جو کچھ پڑھانے کو ملتا ہے وہ ہر سال میری مرضی اور میری فیلڈ کا نہیں ہوتا۔ ان میں کچھ موضوع ایسے ہوتے ہیں جو میں تھوڑا ذہن لگا کر پڑھا سکتا ہوں پر کاہلی کی وجہ سے نہیں کرتا کبھی جیسے کہ کہاکہ شاگردوں کی کم عقلی عدم توجہ اور انٹریسٹ کی کمی کی وجہ سے میں نہیں کرتا اور کچھ موضوع ایسے ہوتے ہیں جو میرے اپنے مطالعے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں تو میں ان کو نہیں پڑھا سکتا ۔

    پہلے جو چیئرمین رہے دو سال ان کا معاملہ یہ تھا کہ ایک بار یا دو بار انہوں نے مجھ سے بلا کر کہا بھی تھا کہ اسٹوڈنٹس کے طرف سے کچھ شکایتیں ہیں جس پر میں نے کورس کیا اب والے چیئرمین بھی چیک کرتے ہیں کہ کیا پڑھایا جا رہا ہے اگر اسی ککورس کا دوسرا سکشن ہو تو مجھے بتا تے ہیں کہ تم نے یہ کم پڑھا یا دوسرے سے اور یہ زیادہ پڑھایا جو دوسرے نے نہیں پڑھایا گویا میری خامیوں اور اچھائیوں کا چیئرمین کو اکثر اندازہ ہوتا ہے ۔

    ساتھ ہی کچھ ٹاپیک ایسے ہوتے ہیں جو غیر شرعی ہوتے ہیں جسے مکینکس میں سورج کے ساکن ہونے اور زمین کے گھومنے کے موضوع ان کو تو میں اسکپ کر دیتا ہوں ۔

    لیکن اس تمام کے باوجود مجھے تنخواہ پوری ملتی ہے بہت شروع میں ہی پہلے یا دوسرے سمسٹر میں نے اس بارے میں سوچا اور اندازہ لگایا کہ ٤٠ فیصد تنخواہ اس چیز کی رکھتا ہوں کہ کتنا وقت میں شاگردوں کے لیے یونیورسٹی میں بیٹھا کلاسوں کے علاوہ چاہے کوئی آئے یا نہ آئےاور 60 فیصد تنخواہ اس کی رکھتا ہوںکہ کتنی کلاسز لیں یا کورس کو کو کتنی اچھی طرح سے سے نبھایا پھر اپنے حساب سے جو بنا کبھی کل 50% نبھاپایا کبھی بیس فیصد لیکن کبھی بھی سو فیصد تنخواہ کو حلال نہیں جانا !!

    پہلے تین سے چار سال تک شادی نہیں ہوئی تھی تو جتنے پیسے تھے جو میرے حساب سے حلال نہ تھے تو اس وقت پانچ سے چھ لاکھ تھے وہ تو میں نے الگ رکھے لیکن پھر شادی اور اس کے بعد کے خرچوں کی وجہ سے اب تک جو کل پیسے بنے جو دس لاکھ سے زیادہ ہیں وہ الگ نہیں کر پایا وہ بھی خرچ کرتا گیامیرے پاس بینک میں اس وقت 60 ہزار ہیں صرف آخر میں ایک چیز بتانا ضروری ہے کہ جب پیسے کو میں نے دو حصوں میں تقسیم کیا تو جب زکوۃ دینے کی باری آئی تو جو پیسے اپنے اوپر حلال سمجھےصرف ان ہی پیسوں پر زکوۃ دی۔

    اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا یہ جو میں نے حلال حرام سمجھا وہ درست تھا یا نہیں کچھ حد تک درست تھا یا کس حد تک غلط؟ اگر درست سمجھا تو جو پیسے حرام سمجھے وہ خرچ کر دیئے اور اب وہ پیسے میرے لئے جمع کرنا اب بہت مشکل ہے بظاہر اس مہنگائی کے دور میں تو اب کیا جائے؟ اگر کسی طرح وہ پیسے اکٹھا کر لوں تو یونیورسٹی کو واپس کروں گا تو عجیب لگے گا تو غرباء میں یا دین کی راہ میں بغیر ثواب کی نیت سے دے سکتا ہوں ؟ اگر جس کو میں نے حرام سمجھا وہ غلط ہے تو کس حد تک اور پھر جو حرام سمجھ کر جس پیسے پر میں نے زکوۃ نہیں دی وہ کئی ہزار ہیں پھر وہ مجھے فوری ادا کرنی ہوگی؟


    اک اضافی چیز یہ کہ میں نے کچھ جگہوں پر انویسٹ بھی کیا ابھی تک جس کا نقصان ہی ہوا لیکن اگر کبھی منافع ہوں تو و ہ کیا میرے لیے حلال ہوں گے یا حرام اور کتنے فیصد؟

    سائل:عبد اللہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جوابی تمہید :

    اس طرح کے تعلیمی اداروں میںمعلمین (اساتذہ ) کی اجرت کے لحاظ سے شرعی حیثیت اجیرِخاص کی ہوتی ہے ،اجیر خاص سے مراد وہ اجیرہوتا ہے جس سے اس چیز کا معاہدہ کیا گیاہو کہ وہ ایک خاص وقت تک ادارےکو اپنی خدما ت دے گا۔یہ خدمت کبھی ایک ہوتی ہے اور کبھی ایک سے زیادہ ،مثلاً معلم کیاصل ذمہ داری تو تدریس ہے لیکن اس کے ساتھ سہ ماہی، شش ماہی ٹیسٹ ،سالانہ امتحان لینا بھی اسکی خدمامیں شام ہوتا ہے ، الغرض تعلیمیاداروں کا اپنا عرف ،اپنی پالیسی ہوتی ہے جس کے مطابق وہ چلتےہیں ۔

    اجیرخاص کے لیے خدمت کے وقت اپنے آپ کو پیش کرنا ضروری ہوتا ہے اور فقط اسی تسلیمِ نفس(اپنے آپ کو پیش کرنے ) پر وہ اجرت کا مستحق ٹھہرتا ہے،تسلیمِ نفس کا معنی یہ ہےکہ اجیر کو جو ذمہ سونپی گئی اس کے بجا لانے میں اس کی ذاتکی طرف سے کوئی روک ٹوک نہ ہومثال کے طور پر اجیر ایامِتعلیم میں غیر حاضر رہا یا پھرادارے میں تو آیا لیکن کلاس ہونے کے باوجود اپنی سستی یاکسی ذاتی وجہ سےکلاس نہیں لے سکا تو ایسیصورت میں اسی حساب سے کٹوتی کروائے گا کہ یہاں پر معنیًتسلیمِ نفس نہیں پایا گیا ۔

    اور اگراجیر ادارے میں آیا اور اپنے آپ کو خدمات کے لیے بھی حاضر رکھالیکن ادارے میں کام نہیں تھا یا پھرادارے نے کام نہیں لیا تو اجیر اجرت کا مستحق ہو گا ۔

    یہ ضابطہ ذہن نشین رہے کہ اجرت کے استحقاق کے لیے اجیر کی جانب سے تسلیمِ نفس (حقیقی و معنوی طور پر )پایا جانا ضروری ہے۔

    جامعات میں پالیسی کے مطابق جو چھٹیاں منظور شدہ ہیںجیسے ہفتہ وار چھٹی ،ماہانہچھٹیاں ،سالانہ چھٹیاں بیماری کی چھٹیاں ، ان کی کٹوتی نہیں ہو گی ۔اسی طرحان اسفار کی چھٹیوں کے پیسے بھی نہیں کٹیںگے جو جامعہ سے باہر جامعہ ہی کی کسی غرض کے لیے کیے گئے جیسے بیرونِ شہر کسی میٹنگ ،ورک شاپ یا سیمینار میں شرکت کے لیے جانا ۔ ذاتی نوعیت کے دورے اس سے مستثنی ہیں ۔

    وہ مراعات (جیسے فیول الاؤنس وغیرہ ) جن کا تعلق جامعہ میں حاضری سے ہے ان کا استحقاق تب ہی ہو گا کہ جب جامعہ میں حاضر رہا مثلاً مہینے میں دس چھٹیاں کی تو دس دن کے فیول الاؤنس لینے کا مجاز نہیں ہو گا ۔

    آپ کے پہلے سوال کا جواب:

    وہ معیار جو آپ نے بنایا :(40 فیصد تنخواہ اس چیز کی رکھتا ہوں کہ کتنا وقت میں شاگردوں کے لیے یونیورسٹی میں بیٹھا کلاسوں کے علاوہ چاہے کوئی آئے یا نہ آئےاور 60 فیصد تنخواہ اس کی رکھتا ہوںکہ کتنی کلاسز لیں یا کورس کو کو کتنی اچھی طرح سے سے نبھایا )اگر جامعہ کے عرف و عادت کے مطابق ا ور پالیسی کے موافق ہے تو درست ہے۔

    اللہ جل وعلا ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ترجمہ: اے ایمان والو اپنے عہد پورے کرو۔(المائدہ:01)

    درمختارمیں ہے: الاجیرالخاص ویسمی اجیر وحد وھو من یعمل لواحد عملا موقتا بالتخصیص و یستحق الاجر بتسلیم نفسہ فی المدۃ وان لم یعمل کمن استؤجر شہرا للخدمۃ۔ترجمہ: اجیر خاص کو اجیر وحد بھی کہا جاتا ہے، اس سے مراد وہ شخص ہے جو مقرر وقت میں کسی کے لیے خاص ہو کر کام کرے اور یہاجرت کا مستھق اس وقت ہو گا جب یہاجیر اپنے آپ کو اس مدت میں سپرد کردے اگرچہ کام نہ ہوجیسے کسی کو ایک ماہ خدمت کے لئے ملازمت پر رکھاجائے ۔(تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر جلد 6صفحہ69)

    اس سے آگے ہے: ولیس للخاص ان یعمل لغیرہ (ولو عمل نقص من اجرتہ بقدر ماعمل، فتاوٰی النوازل ،ا جیرخاص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے کاکام کرے اور اگر کسی اور کا کام کیا تو اس کی اجرت میں اتنی مقدار کم کردی جائے گی۔ فتاوٰی نوازل۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر جلد 6صفحہ69)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :مدرسین وامثالہم(ان جیسے لوگ ) اجیر خاص ہیں، اور اجیر خاص پر وقت مقررہ معہود میں تسلیم ِنفس لازم ہے، اور اسی سے وہ اجرت کا مستحق ہوتاہے اگر چہ کام نہ ہو، مثلا مدرسین وقت معہود پر مہینہ بھر برابرحاضر رہا، اور طالب علم کوئی نہ تھا کہ سبق پڑھتا، مدرس کی تنخواہ واجب ہوگئی، ہاں اگر تسلیم نفس میں کمی کرے مثلا بلارخصت چلا گیا، یا رخصت سے زیادہ دن لگائے، یا مدرسہ کاوقت چھ گھنٹے تھا، اس نے پانچ گھنٹے دئے، یا حاضر تو آیا لیکن وقت مقرر خدمت مفوضہ کے سوا اور کسی اپنے ذاتی کام اگر چہ نماز نفل یادوسرے شخص کے کاموں میں صرف کیا کہ اس سے بھی تسلیم منتقض ہوگئی، یونہی اگر آتا اور خالی باتیں کرتا چلا جاتا ہے۔ طلبہ حاضر ہیں اور پڑھاتا نہیں کہ اگرچہ اجرت کا م کی نہیں تسلیم نفس کی ہے، مگریہ منع نفس ہے، نہ کہ تسلیم، بہر حال جس قدر تسلیم نفس میں کمی کی ہے اتنی تنخواہ وضع ہوگی، معمولی تعطیلیں مثلا جمعہ، و عیدین ورمضان المبارک کی، یا جہاں مدارس میں سہ شنبہ کی چھٹی بھی معمول ہے، وہاں یہ بھی اس حکم سے مستثنٰی ہیں کہ ان ایام میں بے تسلیم نفس بھی مستحق تنخواہ ہے۔

    دیگر سوالوں کے جوابات

    1:۔وہ روپے جن کا آپ استحقاق نہیں رکھتے تھے ان پر زکوۃ نہیں اس لیےکہ وجوبِ زکوۃ کے لیے مالِ حلال کا ملکیت میں ہونا ضروری ہے۔

    2:۔مذہبِ مختار کے مطابق تو ان پیسوں کو جامعہ میں واپس کر نا ضروری ہےلیکن پوچھی گئی صورت میں مختلف وجوہات کے پیش ِ نظر ان پیسوں کو کسی شرعی فقیر پر تصدق کر سکتے ہیں خواہ وہ شرعی فقیر اپنا قریبی ہی کیوں نہ ہو جیسے بھائی بہن بیٹا بیٹی وغیرہا ۔

    3:۔ ان پیسوں سے جو کاروبار کیا اگر اس میں عقد و نقد اس طرح جمع تھے کہ کاروبار کرتے وقت انہی پیسوں پر عقد ہوا یعنیان پیسوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عقد کیا ہو اور پھر کاروبارمیں یہی پیسے دیے تو اس صورت میں ان سے حاصل شدہ کمائی آپ کے لیے حلال نہیں اسے صدقہ کرنا ہو گا اور اگر معاملہ اسکے برعکس تھا ( جیسا کہ عام طور پر یہی ہوتا ہے )کہ عقد و نقد جمع نہیں ہوتے تو اس سے حاصل شدہ کمائی آپ کے لیے حلال و طیب ہے ۔

    دلائل و جزئیات

    تنویرالابصار میں ہے : لَوْ تَصَرَّفَ فِي الْمَغْصُوبِ و الْوَدِيعَةِ) بِأَنْ بَاعَهُ (وَرَبِحَ) فِيهِ يَعْنِي يَتَصَدَّقُ بِرِبْحٍ حَصَلَ فِيهِمَا إذَا كَانَا مِمَّا يتَعَيَّنُ بِالْإِشَارَةِ وَإِنْ كَانَا مِمَّا لَا يَتَعَيَّنُ فَعَلَى أَرْبَعَةِ أَوْجُهٍ فَإِنْ أَشَارَ إلَيْهَا وَنَقَدَهَا فَكَذَلِكَ يَتَصَدَّقُ (وَإِنْ أَشَارَ إلَيْهَا وَنَقَدَ غَيْرَهَا أَوْ) أَشَارَ (إلَى غَيْرِهَا) وَنَقَدَهَا (أَوْ أَطْلَقَ) وَلَمْ يُشِرْ (وَنَقَدَهَا لَا) يَتَصَدَّقُ فِي الصُّوَرِ الثَّلَاثِ۔ترجمہ :اگرغصب کردہ چیز اور امانت میں اس نے تصرف کیایوں کہ اس کو بیچ کر اس سے نفع کمایا تو اسے خیرات کرے گا اس صورت میں کہ جب وہ اس چیز کے قبیل سے ہوں جو اشارے سے متعین ہو جاتی ہے اور اگراس چیز کے قبیل سے ہوں جو اشارے سے متعین نہیں ہوتی تو پھر مسئلہ چار قسموں پر ہے:(1)عقد کرتے وقت انہی کی طرف اشارہ کیا اور وہی نقد بھی دیے تو اس صورت میں صدقہ کرے گا (2)اور اگر عقد کرتے وقت تو ان کی اشارہ کیا مگر دیے دوسرے (3) اور اگر اشارہ تو ان کی طرف کیا لیکن د یتے وقت دوسرے (پیسے نقدی کی صورت میں) دیے یا پھر( 4)عقد کے وقت ثمن کو مطلق رکھا ،کسی کی طرف اشارہ نہیں کیا (کہ یہ پیسے دوں گا یا وہ ) پھر نقدی میں وہی (مغصوب وودیعت والے) دیےتو ان تینوں صورتوں میں صدقہ نہیں کرے(ملخصا)۔(تنویر الابصار مع الدر المختار جلد06 صفحہ189دارالفکر بیروت )

    اعلٰحضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن اس حوالے سے تفصیلیکلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: استبدال یعنی اس مال کے عوض دوسری چیز خریدنا، اس کی دوصورتیں ہیں اگر وہ مال کہ ناجائز ذرائع سے حاصل کیا زروسیم کے سوا اشیاء متعینہ سے تھا جیسے زمین یاکپڑا یا برتن وغیرہا اس کے عوض کوئی جائداد خریدی یا اس سے تجارت کی تو وہ جائداد تجارت سب خبیث وحرام ہے، اور اگر وہ مال سوناچاندی روپیہ اشرفی تھا اور اس سے کوئی جائداد مول لی یاتجارت کی تومذہب مفتٰی بہ میں اگر عقد ونقد دونوں اس زرِ حرام پرجمع ہوئے یعنی وہی حرام روپیہ بائع کو دکھاکر کہا کہ اس کے عوض فلاں شَے دے دے پھر وہی روپیہ اس کے ثمن میں دے دیا یاپہلے سے وہ حرام روپیہ بائع کو دے دیا اور اس کے بدلے کوئی چیز مول لی تو وہ چیز مطلقاً حرام و خبیث ہے جبکہ یہ روپیہ غصب یاسرقہ یارشوت واجرتِ زنا یاغنا وامثال ذلک کا ہے جن میں اس کی مِلک اصلاً نہیں ہوتی، اور اگرعقد ونقد دونوں جمع نہ ہوئے مثلاً مطلقاً خریدی کہ فلاں چیز دے دے پھر ثمن میں وہ زرحرام دیا یازرحرام دکھاکر خریدی مگردیتے وقت دوسرا روپیہ دیا تو وہ خرید کردہ شے پاک ہے۔ یوہیں اگرروپیہ ربا وغیرہ عقود فاسدہ سے حاصل کیاتھا اور اس کے عوض کوئی شے خریدی تو اس خریدی ہوئی شے میں خباثت نہ آئے گی۔ (فتاوی رضویہ جلد23 صفحہ 555رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:05 جمادی الاول 1444 ھ/30 نومبر 2022 ء