سوال
ہم دو لوگوں (محمد عمران اورمحمد راشد ) مل کر ایک کام کرنا چاہتے ہیں جس تفصیلدرج ذیل ہے :
سموسوں پکوڑوں اور جلیبی کا کام ہے جس میں ٹوٹل انویسٹمنٹ محمد راشد کی ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ محمد راشد کام میں بھی ساتھ دیں گے اور کاؤنٹر سمبھالیں گے۔اور محمد عمران سارا کام کریں ،لبیر کے معاملات بھی محمد عمران کے ذمہ ہوں گے وہی سب دیکھیں گے۔
نفع دونوں کے مابین آدھا آدھا تقسیم ہو گا ۔یہ معاہدہ 2023 عید الفطرتک ہے۔
آپ سے گزارش ہے کہ میں شرعی اعتبار سے بتائیں کہ مذکورہ طریقہ درست ہے ؟اگر نہیں تو درست طریقہ ارشاد فرما دیں !!
سائل: محمد عمران /محمد راشد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
کام کی جو نوعیت بیان کی گئی اس کے حساب سے محمد راشد کی حیثیت مالک کی اور محمد عمران کی حیثیت اجیر یعنی ملازم کی ہو گی اور ملازم کی اجرت کا روپوں میں طے کرنا ضروری ہے جبکہ یہاں پر فیصد میں طے کی گئی ہے ۔
البتہ اگر محمد راشد ساری رقم کام کے لیے محمد عمران کے حوالے کر تے ہوئے کام سےالگ رہتے ہیں صرف کبھی کبھار کام دیکھنے کے لیے جائیں تو پھردونوں کے مابین نفع کامذکوروتقسیم( نصف نصف) بھی درست ہے کہ یہ مضاربت ہو جائے گی ۔
اگر محمد راشد چاہیں کہ انویسٹ منٹ کے ساتھ ساتھ کاؤنٹر بھی سمبھالوں تو اس کے جواز کی صورتیہ ہے کہ محمد عمران بھی انویسٹ کر دے خواہ دو فیصد ہی کیوں نہ ہو بلکہ محمد راشد سے بھی قرض لے کر انویسٹ منٹ کر سکتا ہے یوں ان دونوں کی حیثیت (شریکین)پارٹنرز کی ہو جائے گی اور یہ
عقد عقد ِشرکت کہلائے گا ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15جمادی الاولی4144 ھ/10دسمبر2022 ء