سوال
میری بیوی کا انتقال 25 جولائی 2022 کو ہوا ،اس کی زندگی میں اس کے والدین نے جائیداد میںحصہ دینے کی پیشکش کی ۔میری بیوی کے والدین کی خواہش تھی کہ بیوی کا حصہ اور ہمارے پاس جو رقمجمع ہے اس سے گھر خرید لیں ۔میری بیوی کے والدین نے اپنی ایک بیٹی کو پہلے ہی حصہ دے دیا تھا ۔میرےدو بچے ہیں (سات سالہ بیٹی اور پانچ سالہخصوصی (معذور)بیٹا)جو مکمل طور بستر پر ہے،اس کی دیکھ بھال کےلیے ملازمہ کا انتظام کیا ہے ۔میں اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے بیوی کے والدین سے یا رشتہ داروں سے کچھ نہیں لے رہا ،لیکن ابھی کچھ مالی مسائل کا سامنا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اپنی بیوی کے والدین سے اپنی بیوی کا حصہ مانگ سکتا ہوں؟ جس کی بیوی کے ہوتے ہوئے انھوں نے پیشکش کی تھی۔
اور میری بیوی کے حصے میں میرا اور میرے بچوں کا کتنا حصہ بنے گا ۔
سائل: محمد عدنان حمید
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آپ کی بیوی اپنے والدین کی وراثت کی حقدار اس وقت بنتی کہ جب والدین کا انتقال اس کی زندگی میں ہو تا اس لیے کہوارث مورث کی موت کے وقت اس کا وارث بنتا ہے جیسا کہ وارث کے معنی سے یہ باتظاہرہے ۔ آپ کے لیے اپنی بیوی کے والدین سےحصہ کا مطالبہ کرنا جائز نہیں کیوں کہ یہ تو خود وارث کے لیے جائز نہیں کہ وہ مورث کو وراثت دینے پر مجبور کرے ۔ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے آپ کو کچھ دینا چاہیں تو ان کی طرف سے یہ نیکی و صلہ رحمی ہو گی کہ انھوں نے بیٹی کو دینے کا ارادہ کیا تھا ،اس کے فوت ہونے کے بعدبیٹی کے بچوں کو دیں تو یہ نواسہ ونواسی اور داماد کے ساتھ حسنِ سلوک ہو گا اور انھیں یہ حسن سلوک اپنی استطاعت کے مطابق کرنا بھی چاہیے۔یاد رہے بچوں کی کفالت کرنا نانانانی یا رشتہ داروں کی زمہ داری نہیں بلکہ ان کے نان و نفقہ کا خیال رکھنا باپ ہونے کی حیثیت سے آپ کی زمہ داری ہے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاريخ اجراء:14جمادی الاول 1444 ھ/09 دسمبر 2022 ء