باپ شریک بہن کی بیٹی سے نکاح کرناکیسا
    تاریخ: 21 نومبر، 2025
    مشاہدات: 39
    حوالہ: 202

    سوال

    زید نے اپنی باپ شریک بہن کی بیٹی کو بھاگاکر لے گیا اورشادی کرلی ہے ،اس بارے میں حکم شرعی کیا ہو گا ؟

    سائل:امتیاز احمد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جس طرح سگی بہن کی بیٹی سے نکاح حرام ہے اسی طرح باپ شریکبہن کی بیٹی سے بھی نکاح ناجائز وحرام سخت حرام اور اس کے ضمن میں ہونے والا عمل زنا ہے بلکہ اگرجائز و حلال جانتے ہوئے نکاح کیا تو کفر کا مرتکب ہوا ۔ ان دونوں پر لازم ہے کہ فی الفور متارکہ کریں اور اگر یہ متارکہنہ کریں تو پھر ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر کے دونوں کو سخت سے سخت سزا دلائی جائے۔

    فرمانِ باری تعالٰی ہے:حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ۔ترجمہ:تم پر تمھاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، اور بھانجیاں حرام کی گئی ہیں۔ (النساء:23)

    اس آیت میں (وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ )مطلق ہے جو کہ اپنے تمام افراد( یعنی سگی بہن کی بیٹی ،ماں شریک بہن کی بیٹی ،باپ شریک بہن کی بیٹی) کو شامل ہے۔

    درج بالا آیت کے تحت تفسیر کبیر میں ہے السابع بنات الاخ وبنات الاخت والقول فی بنات الاخ وبنات الاخت کالقول فی بنات الصلب فھذہ الاقسام السبعۃ محرمۃ فی نص الکتاب بالانساب والارحام قَالَ الْمُفَسِّرُونَ: كُلُّ امْرَأَةٍ حَرَّمَ اللَّه نِكَاحَهَا لِلنَّسَبِ وَالرَّحِمِ، فَتَحْرِيمُهَا مُؤَبَّدٌ لَا يَحِلُّ بِوَجْهٍ مِنَ الْوُجُوهِ، ۔ترجمہ: ساتویں قسم بھائی اور بہن کی بیٹیاں ہیں، اور بھائی بہن کی بیٹیوں کا حکم بھی اپنی صلبی بیٹیوں کی طرح ہے، تو یہ سات اقسام نسب اور ارحام کی وجہ سے قرآنی نص سے حرام ہیں۔مفسرین نے فرمایا کہ:ہر وہ عورت جس سے نکاح نسب اور رحم کی وجہ سے حرام ہوتو اس کی حرمت حرمتِ مؤبدہ ہوتی ہے کسی بھی صورت حلال نہیں ہوتی ( تفسیر کبیر تحت الآیۃ حرمت علیکم امھاتکم ،جلد 10،صفحہ 26،دار إحياء التراث العربي،بيروت)

    فقہ حنفی کے مشہور متن ملتقی الابحر میں ہے: تحرم علی الرجل اختہ وبنتھا وبنت اخیہ وان سفلتا ۔ترجمہ :مردپر اس کی بہن اور اس کی بھانجی اور بھتیجی اور انکی اولاد نیچے تک حرام ہے۔ (ملتقی الابحر باب المحرمات جلد1 صفحہ239)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ جامع الرموز سے نقل فرماتے ہیں کہ جامع الرموز میں ہے: من الاخوات لاب وام اولاحدھما وبنات الاخوۃ وان بعدت ۔ترجمہ سگی بہنیں یا ماں یاباپ کی طرف سے بہنیں اور بھتیجیاں نیچے تک۔ (فتاوی رضویہ جلد11 صفحہ، 462رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اعلام بقواطع الاسلام میں ہے: ومن ذلک (ای من المکفرات) ان یستحل محرما بالاجماع کالخمر واللواط ولوفی مملوکہ ۔ترجمہ کافر بنانے والی چیزوں میں سے کسی ایسی چیز کو حلال بنالینا جس کی حرمت پر اجماع ہے مثلا شراب، لواطت خواہ اپنے مملوک سے ہو۔( الاعلام بقواطع الاسلام صفحہ353)

    ہندیہ میں ہے: من اعتقد الحرام حلالااوعلی القلب یکفر ۔ترجمہ:جو شخص حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرنے پر عقیدہ رکھے وہ کافرہے۔( فتاوٰی ہندیہ احکام المرتدین جلد02صفحہ 242 دار الفکر)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    اللہ جل وعلا اس دور کےتمام فتنوں سے ،شرور سے ہماری حفاظت فرمائے !!آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:01ربیع الثانی 1444 ھ/28اکتوبر 2022 ء