سوال
کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کو بعض اوقات کیش کی ضرورت پڑتی ہے جس کے لیے وہ مرچنٹ مشین ہولڈرزدکاندار کے پاس جاتے ہیں۔دکاندار کارڈ سوئپ کر کے انھیں کیش دے دیتا ہے لیکن یہاں وہ ایک شرط لگاتا ہے کہ جتنے پیسے وہ کارڈ کے ذریعے سوئپ کرے گا اتنے ہی کیش کی صورت میں نہیں دے گا بلکہ اس میں سے کچھ نہ کچھ (جو دونوں کے درمیاں طے ہوجائے)وہ اپنے لیے پیسے رکھے گا ۔مثلاً پچاس ہزار پر دو ہزار ،ایک لاکھ پر 4ہزار وغیرہ ۔ کیا اس طرح کا معاملہ کرنا درست ہے ،برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں؟نیز اسے سروسز چارجز کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یعنی دوکاندار یہ کہتا ہے کہ یہ میرے سروسز چارجز ہیں ۔
سائل:احمد رضا :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت ِ مستفسرہ میں کارڈہولڈر ز اور دکاندار کے در میان ہونے والا معاملہ بیع النقد بالنقد کہلاتا ہے یعنی روپوں کی بیع روپوں کے ساتھ ۔
اور جب ایک ہی ملک کی کرنسی کی بیع آپس میں کی جائے تو اس میں کمی بیشی تو جائز ہوتی ہے لیکن ادھار جائز نہیں ہوتا،یعنی مجلسِ عقد میں ہی دونوں طرف سے روپوں پر قبضہ ہوجائے جبکہ صورت مذکورہ میں دکاندار تو مجلسِ عقد میں روپے کارڈ ہولڈر کو دے دیتا ہے ۔لیکن کارڈ ہولڈر کی جانب سے بینک سے رقم اسی مجلس میں دوکاندار کےاکاؤنٹ میں نہیں آتی بلکہ وقت لگتا ہے ۔لہذا یہ معاملہ کرنا درست نہیں ہے۔ اور اسے سروسز چارجز سے موسوم کرنا درست نہیں ہے کیونکہ اس طرح کے کام کے لیے اتنے چارجز نہیں ہوتے ۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ خرید و فروخت میں دو چیزوں کے مابین سودکی علت ان میں قدَر و جنس کا پایا جانا ہے،قدر سے مراد مکیلی یا موزونی ہونا ہے۔اگر قدَر و جنس دونوں پائی جائیں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں حرام ہوتے ہیں اور اگر قدرو جنس میں سےایک چیز پائی جائے،جبکہ دوسری موجود نہ ہو، تو کمی بیشی جائز اور ادھار حرام ہوتا ہے اور اگر دونوں چیزیں (قدر وجنس)نہ پائی جائیں تو کمی بیشی بھی جائز ہے اور ادھار بھی جائز ہے۔
اوردورِحاضر میں رائج نوٹ سکوں کے حکم میں ہیں ۔اورنوٹ کے عددی ہونے کی وجہ سے اس میں قدر(مکیلی اور موزونی) کی علت مفقود ہے۔لیکن ایک ہی ملک کی کرنسی ہونے کی وجہ سے جنس کی علت موجود ہے ۔لہذا جب ایک ہی ملک کی کرنسی کی آپس میں خرید و فروخت ہوگی تو علت ِ قدر کے مفقود اور علت ِ جنس کے موجود ہونے کی وجہ سے کمی بیشی تو جائز ہوگی لیکن ادھار جائز نہیں ہوگا ۔
جیسا کہ ہدایہ میں ہے: يجوز بيع الفلس بالفلسين بأعيانهما:ترجمہ:ایک معین سکے کی بیع دو معین سکوں کے ساتھ جائز ہے۔(الھدایہ فی شرح بدایۃ المبتدی،جلد:3،صفحہ:63،داراحیاء التراث العربی )
اور سکے معین اسی صورت میں ہونگے جب یہ معاملہ ادھار نہ ہو بلکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔
نیز المختار میں ہے: فَإِذَا وُجِدَا حَرُمَ التَّفَاضُلُ وَالنَّسَاءُ، وَإِذَا عُدِمَا حَلَّا، وَإِذَا وُجِدَ أَحَدُهُمَا خَاصَّةً حَلَّ التَّفَاضُلُ وَحَرُمَ النَّسَاءُ :ترجمہ:پس جب دونوں علتیں(جنس و قدر) پائی جائیں کمی بیشی اور ادھار دونوں حرام ہے ۔اور جب دونوں علتیں معدوم ہوں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں حلال ہونگے۔اور جب ان دونوں علتوں میں سے کوئی ایک پائی جائے تو کمی بیشی جائز ہوگی لیکن ادھار جائز نہ ہوگا۔(الاختیار لتعلیل المختار،جلد:2،صفحہ:31،مطبۃ الحلبی ،القاہرۃ)اور صورت ِ مسئولہ میں بھی معاملہ اسی طرح ہے۔یعنی جنس ایک ہونے کی وجہ سے ادھار جائز نہیں ہے ۔
شرعی حل:
اس عقد کے درست ہونے کی صورت یہ ہے کہ دکاندار کارڈ ہولڈر کے کارڈ سوئپ کرنے کے بدلے اسے پاکستانی کرنسی کے بجائے کسی اور کرنسی میں رقم دے مثلاً کارڈ ہولڈر کو پاکستانی کرنسی میں ایک لاکھ چاہئےاور دکاندار یہ چاہتا ہے کہ اس کے عوض وہ کارڈ ہولڈر کو 98 ہزار روپے واپس کرے تو وہ 98 ہزار روپے نہ دے بلکہ 98 ہزار روپے میں جتنے ڈالر یا ریال یا کسی بھی ملک کی کرنسی آتی ہے جوبھی اس کےپاس موجود ہوں وہ کارڈ ہولڈر کو دے دے ۔کیونکہ دو ممالک کی کرنسیاں آپس میں مختلف الجنس ہیں ۔ اور ہم مذکورہ بالا سطروں میں یہ پڑھ چکے کہ نوٹ میں قدر کی علت نہیں ہوتی اور اب مختلف ممالک کی کرنسی ہونے کی وجہ سے جنس کی علت بھی نہ رہی ،لہذا اب کمی بیشی بھی جائز ہوگی اور ادھار بھی جائز ہوگاالبتہ صرف ایک جانب سے قبضہ ضروری ہوگا۔
فقیہ العصر استاذ العلماء و الفقہاء حضرت علامہ مفتی محمد ابو بکرقادری شاذلی زید مجدہ اپنے رسالے "کرنسی کا لین دین " میں فرماتے ہیں :اگر دومختلف ممالک کی کرنسیز کا آپس میں تبادلہ کیا جائے تو کمی بیشی بھی جائز ہے اور ادھار بھی جائز ہے صرف ایک جانب سے قبضہ کافی ہے۔(کرنسی کا لین دین،صفحہ:14)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04جمادی الآخر4144 ھ/28دسمبر2022 ء