سوال
ہمارے معاشرے میں رشوت اتنی عام ہے کہ کوئی جائز کام بھی اسکے بغیر ممکن نہیں ہوتا ۔ مثلاً کوئی عمارت بنانا ہو تو بلڈنگ کنٹرول، کے ایم سی کنٹونمنٹ اور دیگر ادارے حتی کہ میڈیا والے تک بلیک میل کرتے اور مختلف بہانوں سے منہ بھر کر پیسے مانگتے ہیں۔ نہ دینے کی صورت میں اتنے روڑے اٹکاتے ہیں کہ کام ہونے ہی نہیں دیتے۔ مجبور ہو کر لوگ پیسےدیتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ:
علاقے کے باقی لوگوں کی طرح مین روڈ کے رہائشی پلاٹ پرمیں اپنے پلاٹ کی حد میں کراہت کے ساتھ پیسے دے کر دو کا نیں بنا سکتا ہوں تاکہ بچوں کے لئے ذریعہ آمدن بن سکے،یہ کرنا کیسا ہے۔ اس روڈ پر میرے پلاٹ والے بلاک کے آگے اور پیچھے چار بلاک پہلے ہی سے کمرشل ہیں ۔ غالب امکان ہے کہ یہ بھی کچھ عرصے میں کمرشل ہو جائے گا۔یاکیا ان محکموں کی رکاوٹوں، فرمائشوں اور رشوت سے کسی طاقتور شخص کے اثر ورسوخ سے بچا جا سکتا ہے اور اُن کی اس مدد کا کچھ ہدیہ دیا جائے تو کیا یہ حیلہ جائز ہوگا جیسے مقروض شخص کو زکوۃ دے کر قرض واپس لینے کا حیلہ ہوتا ہے۔سائل:اسلم پرویز :ملیر کینٹ کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورتحال میں رہائشی پلاٹ پر رشوت دے کر دوکان بنانا جائز نہیں کہ رہائشی پلاٹ پر دکان وغیرہ بنانے سے لوگوں کو اذیت ہوتی ہے پھر گورنمنٹ کی طرف سے بھی اجازت نہیں ہوتی کہ وہاں دوکانیں بنائی جائیں ، نیز علاقے کے باقی لوگ اگر بنا رہے ہیں تو وہ بھی ناجائز ہے اور ایک ناجائز کام دوسرے ناجائز کام کی دلیل نہیں بن سکتا۔
رقم دینے کے جواز کی صورت یہ ہے کہ جب انسان کا حق متعلق ہوجائے لیکن کوئی شخص حاکم یا اسکا غیر اس کام میں رکاوٹ بنے تو اب اپنے حق کو و صول رنے کے لئے جو رقم دی جاتی ہے اس میں دینے والے پر گناہ نہیں ہوتا البتہ لینے والا بہر حال گنہ گار مستحق عذابِ نار ہوتا ہے یہاں تو حق ہی متعلق نہیں ہوا کہ اسکو حاصل کرنے کے لئے رقم دی جائے بلکہ ابھی گزرا کہ رہائشی علاقے میں دکان بنانے کا حق ہی نہیں کہ اسے وصول کرنے کے لئے بطورِ رشوت رقم دی جائے۔
علامہ علی بن سلطان ملا علی قاری (المتوفی:1014ھ) حدیث مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:"الرِّشْوَةُ مَا يُعْطَى لِإِبْطَالِ حَقٍّ، أَوْ لِإِحْقَاقِ بَاطِلٍ، أَمَّا إِذَا أَعْطَى لِيَتَوَصَّلَ بِهِ إِلَى حَقٍّ، أَوْ لِيدْفَعَ بِهِ عَنْ نَفْسِهِ ظُلْمًا فَلَا بَأْسَ بِهِ"۔ترجمہ:رشوت وہ ہے جوکسی کاحق باطل کرنے یا باطل کو حق دلانے کیلئے دی جائے، لیکن اگر اس لئے دی جائے کہ اسکے ذریعے حق وصول ہو یا اپنے سے ظلم کو روکنے کیلئے ہو تو کوئی حرج نہیں۔(مرقاۃ المفاتیح،6/2437،رقم الحدیث:3753،دار الفکر)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني
تاريخ اجراء:01 رمضان المبارک 1445ھ/ 12 مارچ 2024 ء