کعبے کی تعمیر کی تاریخ
    تاریخ: 22 نومبر، 2025
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 213

    سوال

    کعبۃ اللہ کی سب سے پہلے تعمیر کب ہوئی ؟یہ معلومات چاہیے یعنی دن،تاریخ اور مہینہ بتادیں جیسا کہ ربیع النور مناتے ہیں اس کا دن متعین ہے ایسے ہی بتادیں۔

    سائل: آصف قریشی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    تاریخ کے اوراق اور بعض احادیث کی کتب میں یہ ملتا ہے کہ کعبۃ اللہ کی سب سے پہلے تعمیر فرشتوں نے کی اور یہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے تقریبا دوہزار سال پہلے کا واقعہ ہے اس بات کو ملا علی قاری نے شرح المشکوۃ میں ذکر فرمایا ہے چناچہ لکھتے ہیں :وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ آدَمَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - طَافَ بِالْبَيْتِ فَلَقِيَتْهُ الْمَلَائِكَةُ، فَصَافَحَتْهُ وَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ، وَقَالَتْ: بَرَّ حَجُّكَ يَا آدَمُ، طُفْ بِهَذَا الْبَيْتِ، فَإِنَّا قَدْ طُفْنَا قَبْلَكَ بِأَلْفَيْ عَامٍ،ترجمہ:مجاہد سے مروی ہے کہ آدم علیہ الصلوۃ نے کعبۃ اللہ کا طواف کیا تو کچھ فرشتے ان سے ملے انہوں نے حضرت آدم سے مصافحہ کیا اور سلام کیا اور کہا: اے آدم ! اس بیت کا طواف کرکے اپنا حج مکمل کرو، کیونکہ آپ کی ولادت سے دوہزار سال پہلے ہم نے اسکا طراف کیا ہے۔

    اسی طرح کا واقعے کو علامہ ازرقی نے اخبار مکۃ میں مفصلا لکھا ہے،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس ارادے کو فرشتوں پر ظاہر فرمایا تو انہوں نے کہا کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں لہذا ہمیں اپنا خلیفہ بنا تو اللہ کریم نے ارشادفرمایا'' انی اعلم ما لا تعلمون '' اس کےبعد میں حضرت آدم کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے فرشتوں کو حکم دیا کہ بیت المعمور جوفرشتوں کا قبلہ ہے اسکے عین نیچے ایک گھر تعمیر کرو آنے والے انسان اسکا طواف کیا کریں گے تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہاں کعبہ تعمیر کیا ۔(أخبار مكة وما جاء فيها من الأثار فصل ذِكْرُ بِنَاءِ الْمَلَائِكَةِ الْكَعْبَةَ قَبْلَ خَلْقِ آدَمَ وَمُبْتَدَأِ الطَّوَافِ كَيْفَ كَانَ ص 33 الناشر دار الأندلس للنشر بيروت )

    اس حدیث میں صرف یہ بات مذکور ہے کہ حضرت آدم کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے کعبہ کو فرشتوں نے تعمیر کیا ، اس وقت مہینے یا سال کی ابتداء بھی نہیں ہوئی تھی لہذا یہی کہا جائے گا کہ کعبۃ اللہ کو سب سے پہلے فرشتوں نے حضرت آدم کی پیدائش سے دوہزار سال پہلے تعمیر کیا ۔ اسی حدیث کو علامہ سیوطی نے ''الدر المنثور فی التفسیر الماثور'' میں انہی کے حوالے سے نقل فرمایا ہے۔( الدر المنثور فی التفسیر للسیوطی جلد 1 ص310 )

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجوان الصحیح : ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:13محرم الحرام 1440 ھ/24ستمبر 2018 ء