سوال
بچوں کے سبق کی یاد دہانی کے لئے قرآن مجید کے اطراف میں لکھنا یا نشان لگانا جائز ہے یا نہیں؟
سائل:عبداللہ: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر قرآنِ پاک وقف کے ہیں تو ان پر کچھ لکھنا، سبق کی یاد دہانی ،یا غلطیاں یاد رکھنے کے لئے نشان لگانا ناجائز ہے کیونکہ یہ وقف میں ذاتی تصرف ہے،اور وقف میں ذاتی تصرف ناجائز ہے۔
البتہ اگرکسی کاذاتی قرآن ہےتواُس پرنام بھی لکھ سکتے ہیں،سبق کی یاد دہانی کے لئے نشان بھی لگاسکتے ہیں اورغلطیاں یادرکھنےکے لئےبھی نشان لگاسکتے ہیں۔لیکن اس میں بھی یہ ضروری ہےکہ بڑے بڑے نشان نہ لگائے جائیں بلکہ حروف اور حرکات کے علاوہ خالی جگہ پر ایسی پینسل سے چھوٹاسانشان لگائیں تاکہ بعد میں نشان کو مٹایا جاسکے۔
اسکی نظائر قرآن مجید پر اعراب لگانا ،نقطے لگانا، رکوع کے نشانات لگانا،وقف کی علامات لکھنا ،سورتوں کے نام لکھنا، آیات کی تعداد لکھنا وغیرہ ہیں ۔ کیونکہ یہ سب امور متقدمین فقہاء نے مکروہ لکھا لیکن بعد کے علماء نےضروت کی وجہ سے اسکی اجازت دی بلکہ اسے مستحسن قرار دیا۔ جیساکہ ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:قال: " ويكره التعشير والنقط في المصحف" لقول ابن مسعود رضي الله عنه: جردوا القرآن. ويروى: جردوا المصاحف. وفي التعشير والنقط ترك التجريد.۔۔۔. قالوا: في زماننا لا بد للعجم من دلالة. فترك ذلك إخلال بالحفظ وهجران للقرآن فيكون حسنا. ترجمہ:اور دس دس آیات بعد نشانی لگانا اور نقطے لگانا مکروہ ہے ۔کیونکہ عبداللہ ابن مسعود کا فرمان ہے قرآن کو غیر قرآن سے خالی رکھو اور تعشیر و نقطوں میں تجرید نہیں رہتی۔لیکن بعد کے فقہاء نے فرمایا کہ اہل عجم کے لئے اعراب و نقطے نشانی ضروری ہیں کیونکہ یہ نہ ہونے کی وجہ سے اہل عجم کو قرآن یاد کرنے خلل واقع ہوگا اوراہل عجم قرآن سے دور ہوجائیں گے لہذا اعراب وغیرہ لگانا مستحسن ہے۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی،مسائل متفرقہ، جلد 4 ص 379،بیروت)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: قرآن مجید میں اعراب و نقطے لگانا بھی مستحسن ہے، کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو اکثر لوگ اسے صحیح نہ پڑھ سکیں گے۔ اسی طرح آیت سجدہ پر سجدہ لکھنا اور وقف کی علامتیں لکھنا اور رکوع کی علامت لکھنا اور تعشیر یعنی دس دس آیتوں پر نشان لگانا جائز ہے۔ اسی طرح سورتوں کے نام لکھنا اور یہ لکھنا کہ اس میں اتنی آیتیں ہیں یہ بھی جائز ہے۔(بہار شریعت جلد سوم ص 494)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني
تاريخ اجراء:24 رجب المرجب 1441 ھ/19 مارچ 2020 ء