سوال
کیا روزے میں کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔
سائل: عبد اللہ،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آنکھ میں دوا ڈالنے سے مطلقا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ یہی حکم متقدمین علماء کے نزدیک ہے، جبکہ موجودہ دور کے علماء کی اس بارے میں دو آراء پائی جاتی ہیں اور وجہ ِاختلاف آنکھ کے اندر جو بار یک غدود ہیں کہ جس کے ذریعے آنکھ کی رطوبت حلق تک پہنچتی ہے،آیا یہ غدود مسام(Pore) کے حکم میں ہیں یا منفذ (Route) کے۔ہمارے نزدیک یہ غدود مسام کے حکم میں ہیں،لہذا آنکھ میں دوا ڈالنے سے مطلقا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
مسام اور منفذ میں فرق:
لفظ ِمسام سم الإبرة سے نکلا ہے اور اس کا معنی ہے سوئی کا سوراخ ۔ یعنی عموما سوئی کے سوراخ کی طرح باریک نالیوں کو مسام کہتے ہیں، جیسے رگیں اور جسم کے حصے سے پسینہ نکلنے کی جگہیں ۔
البنایۃ میں ہے: "المسام المنافذ مأخوذ من سم الإبرة".ترجمہ:مسام جو منافذ ہیں یہ سمّ الاِ برہ سے ماخوذ ہے۔(البنایۃ شرح الہدایۃ،باب اکتحال الصائم،4/41،دار الکتب العلمیۃ)
منفَذ اور منفِذ اسم ظرف بمعنی جاری ہونے کی جگہ، منافذ الانسان یعنی جسم انسانی کے سوراخجیسےناک کان وغیرہ ۔(المنجد،مادہ( ن ف ذ)، خزینۃ علم و ادب اردو بازار لاہور)
روزہ ٹوٹنے کی اصل وجہ ’’جوف ‘‘ہے جس کو اردو میں پیٹ کہتے ہیں، مگر جوف سے مراد اصالتاً معدہ ہے اور پھیپھڑہ، آنتیں اور دماغ اس کے تابع ہیں۔اسی طرح جسم کے وہ تمام سوراخ جو ان چیزوں تک پہنچیں ’’منافذ ‘‘کہلاتے ہیں اور وہ بھی جوف ہی کے حکم میں ہیں۔
کل منافذ پانچ ہیں: منہ، کان، ناک ، دبر اور عورت کی شرمگاہ ۔ پھر ان کی الگ الگ حدیں ہیں، یعنی کوئی بھی چیز اگر اس کی مقررہ حد تک پہنچ گئی تو وہ معدہ ہی میں پہنچناقرار پائے گی۔
(1) منہ: اس کی حد حلق ہے، لہذا جو چیز حلق سے نیچے اتر گئی وہ حکما معدے تک پہنچنا قرار پائے گی۔
(2) ناک: ناک میں جو چیز چڑھائی جاتی ہے وہ حلق ہی میں جاتی ہے، پھر وہ باراستہ حلق معدے میں چلی جاتی ہے۔
(3) کان: اس کی حد بھی دماغ ہے مگر جدید تحقیق کے مطابق کان منفذ نہیں ہے۔
(4) دُبُر : اس کی حدوہ جگہ ہے جہاں حقنہ کی دوائی رکھی جاتی ہے۔ دُبر ابتدا سے لے کر کچھ آگے دو تین انچ سیدھی ہوتی ہے اس کے بعد مڑ جاتی ہے اور بڑی آنت سےمل جاتی ہے۔
(5) عورت کی شرمگاہ: اس کی حد فرج داخل ہے۔
علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں:"أقطر شيئاً من الدواء في عينه لا يفسد صومه عندنا، وإن وجد طعم ذلك في حلقه".ترجمہ: ہمارے نزدیک آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتااگرچہ حلق میں اس کا ذائقہ محسوس کرے۔(المحیط البرہانی،کتاب الصوم،الفصل الرابع،2/384،دار الکتب العلمیۃ)
علامہ محمد بن محمد اکمل الدین بابرتی (المتوفی:786ھ) فرماتے ہیں: "(ولو اكتحل لم يفطر) وإن وجد طعمه في حلقه (لأنه ليس بين العين والدماغ منفذ) فما وجد في حلقه من طعمه إنما هو أثره لا عينه. فإن قيل: لو لم يكن بينهما منفذ لما خرج الدمع. أجاب بأن الدمع يرتشح كالعرق: يعني أنه داخل من المسام والداخل منها لا ينافي".ترجمہ: اگر سرمہ لگایا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا اگر چہ اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو کیونکہ آنکھ اور دماغ کے درمیان کوئی منفذ نہیں ، جو اسے حلق میں ذائقہ محسوس ہوا ہے وہ اس کا اثر ہے نہ کہ بذات خود وہ سرمہ ہے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ اگر آنکھ اور دماغ کے درمیان کوئی منفذ نہیں ہے تو آنسو کیوں نکلتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آنسو پسینے کی طرح نکلتے ہیں یعنی آنسو مسام سے آتے ہیں اور یہ روزے کے منافی نہیں ہے۔ (العنایۃشرح الہدایۃ،کتاب الصوم،باب ما یوجب القضاء والکفارۃ،2/330-331،دار الفکر)
بعض علماء نے ڈاکٹری تحقیق کی بنیاد پر کہ آنکھ کے کنارے سے ایک باریک نالی ناک میں کھلتی ہے ، جس کے ذریعے آنکھ میں اگر کوئی مائع چیز ڈالی جائے تو وہ حلق میں پہنچ جاتی ہے، لہذا آنکھ میں دوائی ڈالنے سے روزہ ٹوٹنے کا حکم دیا ۔ جیسا کہ مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن زید مجدہ نے فتوی دیا، شیخ المشائخ مفتی ابو بکر صدیق الشاذلی دامت فیو ہم اور علامہ مفتی ابراہیم قادری (سکھر) نے تحقیق فرمائی۔
لیکن جب ہم نے اس بارے میں مزید تحقیق کی اور اس فن کے ماہرین سے بالمشافہ ملاقات کی اور تبادلہ خیال کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ آنکھ اور حلق کے درمیان براہِ راست منفذ نہیں بلکہ آنکھ کے کونے سے دو بالکل باریک نالیاں بار یک انجکشن کی سوئی کی طرح ہیں جن کا نام LACRIMAL CANALہے۔ اس کی موٹائی باریک سوئی کی نوک جتنی ہوتی ہے اس لئے اتنے باریک سوراخ کو مسام ہی کہا جائے گا۔ جتنے بھی منافذ اصلیہ ہیں کوئی اتنا باریک نہیں اور مسام کا لفظ سمّ الاِ برہ یعنی سوئی کی نوک سے ہی ماخوذ ہے۔ (ماخوذ ازکتاب: ماہ رمضان میں درپیش جدید مسائل کا حل، مفتی محمد احسن اویسی)
احکام میں اصل معلول (علت)ہونا ہے، خلاف قیاس ہونا اصل نہیں ہے۔آنکھ میں سرمہ لگانا حدیث مبارکہ سے ثابت ہے،روزے دار کا بیماری کی حالت میں بھی سرمہ لگانے کا روایتیں موجود ہیں اور نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے سرمہ لگانے کا حکم بھی دیا۔
سنن الترمذی کی روایت ہے: "عن أنس بن مالك قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: اشتكت عيني، أفأكتحل وأنا صائم؟ قال: «نعم»".ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میری آنکھ میں مرض ہے، کیا میں روزے کی حالت میں سُرمہ لگا ؤں ؟ فرمایا: ہاں۔(سنن الترمذی،باب ماجاء فی الکحل للصائم،3/96،رقم الحدیث:726،مصطفی البابی)
یہ جو اجازت دی گئی ہے اس کی علت یہ ہے کہ یہاں کوئی منفذ اصلی موجود نہیں (بدائع الصنائع،2/93،دار الکتب العلمیۃ،کمال الدرایۃوجمع الروایۃ والدرایۃ،2/409،دار الکتب العلمیۃ،جامع المضمرات،2/239،دار الکتب العلمیۃ،فیض القدیر،5/291،دار الکتب العلمیۃ)
اگر یہاں منفذ کا قول کیا جائے گا تو پھر تمام روایتوں میں سرمہ کی تخصیص کرنی پڑے گی اور ان روایتوں کو چھوڑنا لازم آئے گا، جبکہ ایسی کوئی نظیر بھی نہیں ہے کہ اتنا کوئی باریک سوراخ ہو اور وہ منفذ اصلی بن رہا ہو۔ہاں اگر کوئی احتیاط کرتا ہے تو اچھی بات ہے لیکن اگر کوئی ایسی بیماری میں ہے کہ آنکھ میں دوا ڈالنا ضروری ہے اور دوا ڈالے بغیر روزہ پورا نہیں ہوگا تو پھر اس کو حکم یہ ہے کہ روزہ رکھے اس کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہوگا آنکھ میں دوا ڈال لے اس کے روزے پہ کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:8 رمضان المبارک 1444 ھ/30 مارچ2023ء