چندے کے پیسوں سے امام صاحب کی خدمت اور گھر کے اخراجات کا حکم
    تاریخ: 18 نومبر، 2025
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 151

    سوال

    ہمارے علاقے میں جمعہ کے دن مسجد میں ٹوپی پھیر کر چندہ جمع کیا جاتا ہے۔ چندے کا مقصد مسجد کا نظام چلانے کیلئے کمیٹی جہاں مناسب سمجھے خرچ کرے گی۔ حال ہی میں امام مسجد کے گھر کے واش روم گٹر خراب ہوئے تو گٹر صاف کرنے والے کو بلایا گیا اور گٹر صاف کروائے اور اسی چندے سے اس بندے کو بھی پیسے دیئے گئے۔اور کمیٹی کی طرف سے اسی چندے سے ہر ہفتے امام مسجد کی بھی خدمت کی جاتی ہے۔اور کمیٹی اس بات پر متفق ہے کہ امام کی خدمت کی جائے۔لیکن دو تین اور نمازی ہیں جو کہتے ہیں کہ اس چندے سے امام کی خدمت نہیں کی جاسکتی۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ چندے سے امام مسجد کی خدمت کرنا جائز ہے یا نہیں؟جو شرعی حکم ہو ، رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: حافظ احمدرضاچوراہی، رحیم یارخان ہمارے علاقے میں جمعہ کے دن مسجد میں ٹوپی پھیر کر چندہ جمع کیا جاتا ہے۔ چندے کا مقصد مسجد کا نظام چلانے کیلئے کمیٹی جہاں مناسب سمجھے خرچ کرے گی۔ حال ہی میں امام مسجد کے گھر کے واش روم گٹر خراب ہوئے تو گٹر صاف کرنے والے کو بلایا گیا اور گٹر صاف کروائے اور اسی چندے سے اس بندے کو بھی پیسے دیئے گئے۔اور کمیٹی کی طرف سے اسی چندے سے ہر ہفتے امام مسجد کی بھی خدمت کی جاتی ہے۔اور کمیٹی اس بات پر متفق ہے کہ امام کی خدمت کی جائے۔لیکن دو تین اور نمازی ہیں جو کہتے ہیں کہ اس چندے سے امام کی خدمت نہیں کی جاسکتی۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ چندے سے امام مسجد کی خدمت کرنا جائز ہے یا نہیں؟جو شرعی حکم ہو ، رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: حافظ احمدرضاچوراہی، رحیم یارخان

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سب سے پہلے یہ بات واضح رہے کہ جب چندہ کسی خاص مقصد کی وضاحت کے بغیر صرف وقف کے ادارے یا شے کیلئے دیا جائے، تو یہ’’ہبہ‘‘کے حکم میں آتا ہے۔ جب متولی اس رقم پر قبضہ کر لیتا ہے، تو یہ وقف کی ملکیت بن جاتی ہے اور اس پر وقف کی آمدنی کے احکام لاگو ہو سکتے ہیں۔لہذا صور مسئلہ میں جب یہ چندہ مسجد کے نظام کو چلانے کے لیے دیا جاتا ہے اور دینے والوں کی طرف سے یہ اجازت بھی ہے کہ اسے مسجد کے معاملات میں جہاں ضرورت ہو وہاں خرچ کیا جائے، تو اس چندے سے امام صاحب کی ضروریات کے مطابق بطورِ خدمت ہر ہفتے کچھ دینا، یا امام صاحب کے گھر کے واش روم اور گٹر وغیرہ کی صفائی کے اخراجات ادا کرنا شرعاً جائز و درست ہے۔ کیونکہ امام صاحب کی ضروریات پوری کرنا اور اس کے گھر سے متعلق ضروری امور کو بجا لانا بھی مسجد کی ضروریات میں شمار ہوتا ہے۔

    دلائل و جزئیات :

    وقف کی ملک چندہ سے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں ہے: ’’رَجُلٌ أَعْطَى دِرْهَمًا فِي عِمَارَةِ الْمَسْجِدِ أَوْ نَفَقَةِ الْمَسْجِدِ أَوْ مَصَالِحِ الْمَسْجِدِ صَحَّ؛ لِأَنَّهُ وَإِنْ كَانَ لَا يُمْكِنُ تَصْحِيحُهُ وَقْفًا يُمْكِنُ تَصْحِيْحُهُ تَمْلِيكًا بِالْهِبَةِ لِلْمَسْجِدِ فَإِثْبَاتُ الْمِلْكِ لِلْمَسْجِدِ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ صَحِيحٌ فَيَتِمُّ بِالْقَبْضِ، كَذَا فِي الْوَاقِعَاتِ الْحُسَامِيَّةِ‘‘.ترجمہ: اگر کسی شخص نے ایک درہم مسجد کی تعمیر، اخراجات، یا اس کی دیگر ضروریات کے لیے دیا تو یہ صحیح ہے۔ کیونکہ اگرچہ اسے وقف کے طور پر صحیح قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن ہبہ (تحفہ) کے ذریعے مسجد کو اس کا مالک بنانا صحیح ہے۔ لہٰذا، اس طریقے سے مسجد کی ملکیت ثابت کرنا درست ہے اور یہ ہبہ قبضے میں لینے سے مکمل ہو جاتا ہے۔ یہ بات "الواقعات الحسامیہ" میں مذکور ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الوقف، باب فی المسجد وما یتعلق بہ، الفصل الثانی، 2/460، دار الفکر)

    علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں: ’’وكذا من أعطى دراهم في عمارة المسجد ونفقة المسجد أو مصالح المسجد يصح، وكذا إذا اشترى المتولي عبداً لخدمة المسجد يصح كل ذلك، فيصح هذا بطريق التمليك بالهبة، وإن كان لا يصح بطريق الوقف‘‘.ترجمہ: اسی طرح، جس شخص نے مسجد کی تعمیر، اخراجات، یا اس کی دیگر ضروریات کیلئے درہم دیے، تو یہ صحیح ہے۔ اسی طرح اگر متولی نے مسجد کی خدمت کیلئے کوئی غلام خریدا، تو یہ سب بھی صحیح ہے۔ یہ سب ہبہ کے ذریعے ملکیت میں لانے کے طریق سے صحیح ہے، اگرچہ وقف کے طریقے سے صحیح نہیں ہے۔ (المحیط البرہانی، کتاب الوقف، الفصل الحادی والعشرون فی المساجد ، 6/213،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    مسجد کے لیے جمع شدہ رقم کو خرچ کرنے کے متعلق کہ کہاں خرچ کی جائے اس بارے علامہ علاؤ الدیں حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ( ويبدأ من غلته بعمارته ) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح، وتمامه في البحر. ترجمہ : اور مسجد کی آمدنی کی ابتداء خود اس مسجدکی عمارت سے اس کے بعد وہ جو اس کی عمارت سے زیادہ قریب ہو، جیسے مسجد کا امام اور مدرسے کا استاد، ان کو ان کی ضرورت کے مطابق دیا جائے گا، پھر چراغ اور فرش وغیرہ بھی اسی طرح، اور اسی طرح دیگر مصالحِ مسجد میں خرچ کیا جائے گا۔ اور اس کی پوری تفصیل کتاب البحر میں ہے۔(رد المحتار،كتاب الوقف،مطلب في وقف المنقول قصدا،ج:4،ص:366،دار الفکر بیروت )

    فتاویٰ امجدیہ میں ہے :’’جب عطیہ و چندہ پر آمدنی کا دارومدار ہے تو دینے والے جس مقصد کے لیے چندہ دیں یا کوئی اہل خیر جس مقصد کے متعلق اپنی جائیداد وقف کرے، اسی مقصد میں وہ رقم یا آمدنی صرف کی جا سکتی ہے دوسرے میں صرف کرنا جائز نہیں، مثلا اگر مدرسے کے لئے ہو تو مدرسے پر صرف کی جائے اور مسجد کے لیے ہو تو مسجد پر اور قبرستان کی حدبندی کے لیے ہو تو اس پر اور اگر دینے والے نے اس کا صرف کرنا متولیوں کی رائے پر رکھا تو یہ اپنی رائے سے جس میں مناسب سمجھیں صرف کر سکتے ہیں.(فتاوی امجدیہ ، جلد 3،ص42، مکتبہ رضویہ کراچی)

    بہار شریعت میں ہے :’’ اہلِ محلہ نے امام مسجد کے لیے کچھ چندہ جمع کرکے دے دیا یا اسے کھانے پہننے کے لیے سامان کردیا، یہ ان لوگوں کے نزدیک بھی جائز ہے جو اُجرت پر امامت کو ناجائز فرماتے ہیں، کہ یہ اُجرت نہیںبلکہ احسان ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کرنا ہی چاہیے۔(بہار شریعت، حصہ 16، ص 657 ،مکتبۃ المدینہ کراچی)

    فتاوی بحر العلوم میں اس طرح کا سوال ہوا کہ ایک ہلال کمیٹی چندہ کے پیسوں سے امام صاحب کو پچاس روپیہ دیتی ہے جس پر بعض لوگوں کو اعتراض ہے تو مفتی صاحب جواباً فرماتے ہیں :”جب برابر یہ دستور چلا آ رہا ہے کہ چندہ کی اس رقم سے جہاں اور مصارف کیے جاتے ہیں وہیں امام صاحب کو بھی پچاس روپے دیے جاتے ہیں تو امام صاحب پر جن لوگوں نے گناہ خیانت وغیرہ کا اعتراض کیا ہے غلط کیا ہے. امام صاحب نے نہ کوئی گناہ کیا نہ کوئی خیانت نہ ان پر رقم کا وآپس کرنا واجب”(فتاوی بحر العلوم، ج2، ص 223، شبیر برادرز)

    مسجد کی رقم سے امام صاحب کو تنخواہ دینا جائز ہے مفتی جلال الدین امجدی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: امام کی تنخواہ اگر اتنی ہے کہ جو واجبی طور پر ہونی چاہیے ، تو مسجد کی رقم سے تنخواہ دیناجائز ہے اور اگر متولی نے اتنی زیادہ تنخواہ مقرر کر دی کہ دوسرے لوگ اتنی نہ دیتے ، تو مسجد کی رقم سے اس تنخواہ کا دینا جائز نہیں ، متولی اپنی طرف سے دے ۔ اگر مسجد کی رقم سے دے گا ، تو تاوان دینا پڑے گا ، بلکہ اگر امام کو معلوم ہے کہ مسجد کی رقم سے یہ تنخواہ دیتاہے ، تواسے لینا بھی جائز نہیں ۔ (فتاوی فیض الرسول ، جلد 2 ، صفحہ 374 ، مطبوعہ شبیر برادرز )

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتــــــــــــــــــــــــــبه: محمدسجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:02ربیع الثانی 1446ھ/26ستمبر2025