بیٹی کا پہلے انتقال ہوجائے تو وراثت کا کیا حکم
    تاریخ: 18 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1058

    سوال

    میرے والد صاحب کا انتقال 2017 میں ہوا ، جبکہ والدہ کا انتقال پچھلے سال مئی کے مہینے میں ہوا ۔ والدہ کے پاس کچھ(ذاتی) نیشنل سیونگ سرٹیفکٹ تھے ۔ جانشینی کے لئے مجھے نادرا نے کہا ہے کہ ایک فتوٰی لاؤ جو بتائے کہ میری بہن کے بچے میری والدہ کے پیسوں میں حصہ دار نہیں ہیں ۔ کیونکہ میری بہن کا انتقال والدہ سے پہلے ہوگیا تھا 2008 میں ۔ پھر ان کے شوہر نے کہیں اور شادی کرلی ،اب وہ سب کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں ۔

    آپ سے التماس ہے کہ فتوٰی جاری کردیں جس میں اس بات کی تصریح ہو کہ میری مرحومہ بہن کے بچے میری والدہ کے پیسوں میں حق دار نہیں ہیں ۔ بالخصوص اس صورت میں جبکہ ان بچوں کے والد نے دوسری شادی کرکے کینیڈا میں رہائش اختیار کرلی ہو۔

    سائل: خرم شیخ :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سب سے پہلے یاد رہے کہ قومی بچت بینک میں رقم جمع کروانا اور اس سے منافع حاصل کرنا ناجائز ہے۔ کیونکہ اس سے حاصل ہونے والا منافع سودی ہوتا ہے کہ وہ قرضہ پر متعین( fixed)منافع دیتے ہیں اور اس کی مقدار عقد (agreement)کے وقت بتا دیتے ہیں اور شریعت اسلامیہ میں قرضہ پر مشروط و معین نفع سود ہے اور سود لینا شرعاًحرام قطعی ہے۔

    جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے:''كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً، فَهُوَ رِبًا"ترجمہ:ہر وہ قرضہ جو نفع دے وہ سود ہے ۔( مصنف ابن ابی شیبہ ،باب من کرہ کل قرض جر منفعۃ، رقم :20690)

    لہذا والدہ کے سیونگ سرٹیفیکٹ کی صرف اصل رقم وراثت قرار پائے گی جبکہ ان پر ہونے والا سارا منافع بغیر نیتِ ثواب کے شرعی فقیر میں تقسیم کیا جائے گا۔

    پھر والدہ کے ان پیسوں (اصل رقم )سے اس بہن کے ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا، کیونکہ مال وراثت ان لوگوں میں تقسیم ہوتا ہے جو مورِث کی وفات کے وقت موجود ہوں۔پہلے انتقال کر جانے والے وارث کے ورثاء (بچوں )کو اسکے والدین کی وراثت سے کچھ حصہ نہیں ملتا۔ جیساکہ الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه۔ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (یعنی ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)

    یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت)أي وقت الحكم بالموت۔ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث)کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)۔

    تنبیہ: واضح رہے کہ مرحومہ بہن کے شوہر کا دوسری شادی کرنے یا نہ کرنے سے وراثت کے استحقاق و عدمِ استحقاق کا کوئی تعلق نہیں بلکہ عدمِ استحقاق کی وجہ وہی مورث کی موت کے وقت حیات نہ ہونا ہے۔ کما مر آنفاً۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:21 رجب المرجب 1443 ھ/23 فروری2022 ء