chanda waghera ki raqam se ijtemai qurbani karna
سوال
ہماری ایک ویلفیئر ہے جس میں زکوۃ ، فطرہ اور مطلق چندےکی رقم جمع ہوتی ہے ،جس سے غریبوں کی مدد کرتے ہیں ۔قربانی کے دنوں میں ہم اجتماعی قربانی بھی کرتے ہیں ۔جس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہم عید سے قبل زکوۃ وغیرہ کی رقم کا حیلہ کرکےیا مطلق چندے کی رقم سے جانور خریدلیتے ہیں ۔وہ جانور ہم کو سستا پڑتا ہےاور ہمیں فی جانور دس ہزار روپے بچت ہونے کا امکان ہوتاہے۔یہ رقم بھی غریبوں پر ہی خرچ کرتے ہیں۔ لیکن ہم جو سلپ بناتے ہیں اس میں ہم لوگوں کے وکیل بنتے ہیں ۔ اور ان سے یہ کہتے ہیں کہ خریداری سے لے کر ذبح تک ہم آپکے وکیل ہیں اور سارے معاملات کے بعد اگر کوئی رقم بچی تو ہم ادرے کی طرف سے عوام کے فلاحی کاموں میں خرچ کرینگے۔اس تناظر میں میرے دو سوال ہیں :
1: چندہ کے پیسوں سے جانور خریدنا کیسا؟
2: وکیل بننے کے بعد کیا ہم رقم بچاسکتے ہیں، اور جو رقم بچے اسے دہندگان کی اجازت سے ویلفیئر کے کاموں میں استعمال کرسکتے ہیں ؟
سائل:عبدالوہاب : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اولاََتو یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ بیع کے احکام میں سے ہے کہ ایک ہی فرد بائع و مشتری نہیں ہوسکتا بلکہ بائع و مشتری دو الگ الگ فرد ہونگے۔لہذا اگر ادارہ خود پہلے سے جانور خرید کر پھر لوگوں کا وکیل بنے تو اس صورت میں خرابی یہ لازم آتی ہے کہ ایک ہی شخص کا بائع و مشتری ہونا لازم آئے گا۔
المحیط البرھانی میں ہے: والواحد لا يصلح بائعاً ومشترياً۔ ترجمہ:اور ایک ہی شخص بائع و مشتری نہیں بن سکتا۔(المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی، جلد 7 ص 402)
اسی طرح شامی میں ہے:والوكيل بالبيع أصيل في حق الحقوق، فلا يصح شراؤه لنفسه۔ ترجمہ:بیع کا وکیل تمام حقوق میں اصیل ہوتا ہے لہذاوکیل بالبیع کے لئے اپنے لئے خریدنا جائز نہیں ہے۔
اسی میں ہے: والإنسان لا يصلح وكيلاً بالشراء من نفسه،ترجمہ:اور انسان اپنے لئے ہی وکیل بالشراء نہیں بن سکتا۔(ایضا جلد7 ص 305)
لہذا قربانی کے جانورپہلے سے خریدنے کی صورت یہ ہے کہ ادارہ دو الگ شعبہ جات قائم کرے، یا دو الگ الگ لوگوں کو مقرر کرے ان میں سے ایک شخص جانور خرید لے ،اور دوسرا شخص لوگوں سے وکالتِ مطلقہ لے لے۔پھر جس شخص کو لوگوں نے وکیل بنایا عید سے ایک روز قبل وہ حصوں کی مد میں جمع ہونے والی رقم سے پہلے شخص سے جانوروں کی خریداری کرلے۔اب یہاں ایک ہی شخص کا بائع و مشتری ہونا لازم نہیں آئے گا کیونکہ جس شخص نے جانور خریدے وہ اور ہے اور لوگوں نے جسکو اپنا وکیل بنایا وہ اور ہے۔
1:رہا چندہ، زکوۃ ،فطرہ سے قربانی کے جانور خریدنا ۔توبالجملہ یہاں بھی دو صورتیں ہیں ۔ 1:چندے کی رقم سے قربانی کے جانور خریدنا۔ 2:زکوۃ و فطرہ کی رقم سے حیلہ کرکے قربانی کے جانور خریدنا۔
پہلی صورت کا حکم :
مطلق چندے(یعنی وہ چندے جو لوگ ادارہ کو اسکی صوابدید کے مطابق خرچ کرنے کے لئے دیتے ہیں )کی رقم سے قربانی کے جانور خریدنے میں حرج نہیں کیونکہ وقف اداروں کو دیاجانے والامطلق چندہ ادارے کے لئے ھبہ اور صدقہ کے طور پر ہوتا ہے۔لوگ ادارہ کو ہر جائز مصرف میں خرچ کرنے کے لئے دیتے ہیں ۔ لہذا ادارہ اس چندے کو کسی بھی جائز مصرف میں خرچ کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ اور قربانی کےلئے جانور خریدنا جبکہ اس سے مقصود غرباء و مساکین تک گوشت پہنچاناہےبلاشبہ یہ ایک جائز مصرف ہے۔
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:مصحف شریف، کپڑے، پلنگ وغیرہ جوکچھ لوگ یتیموں کوبھیجتے ہیں ظاہرہے کہ اس سے مقصود تصدق ہوتاہے اورتصدق تملیک ہے۔
وھبۃ المشاع فیمالایقسم صحیحۃ وقبض من یعولھم یکفی عن قبضھم کمانصواعلیہ وجماعۃ المسلمین حیث لاولایۃ ولاقضاۃ من الاسلام کالقضاۃ فی النظر للایتام وامثال ذٰلک من المھام کما صرحوا بہ فی غیر مامقام۔ترجمہ:ناقابل تقسیم شیئ کاغیرمنقسم طورپرہبہ صحیح ہے، اوریتیموں کے کفیلوں کاقبضہ ان کی طرف سے کافی ہے جیساکہ اس پرمشائخ نے نص فرمائی، جہاں یتیموں کے ولی اورقاضی اسلام موجودنہ ہوں تووہاں یتیموں کی دیکھ بھال اوراس قسم کے دیگر اہم امورکے لئے مسلمانوں کی جماعت قاضیوں کے قائم مقام ہوتی ہے جیساکہ مشائخ نے متعدد مقامات پر اس کی تصریح فرمائی۔
کچھ آگے ارشاد فرماتے ہیں:زرچندہ سے یتیموں کاختنہ کرسکتے ہیں اوربراتیوں کومعمولی کھانادینابھی جائز بشرطیکہ سراف نہ ہو صرف بقدرکفایت ہو۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب المداینات، جلد 25 ص 435،436)
دوسری صورت کا حکم:
زکوۃ یا فطرہ کی رقم کا حیلہ کرکے قربانی کے جانور خریدنا بھی ممنوع ہے کیونکہ حیلہ شرعی کے جواز کے لئے تین شرائط ہیں :
1:ضرورت و حاجت شرعیہ متحقق ہو۔
2: جس کام کے لئے حیلہ کیا جارہا ہے وہ فی نفسہ ثواب کا کام ہو۔
3: اس حیلہ کی وجہ سے کسی مقصدِ شریعت کا بطلان لازم نہ آئے۔
اگر ان میں سے ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو حیلہ کرنا ناجائز ہوگا۔اور اجتماعی قربانی کے لئے زکوۃ و طفرہ وغیرہ کی رقم سے جانور خریدنا نہ تو ضرورتِ شرعیہ ہے اور نہ ہی فی نفسہ ثواب کا کام ہے بلکہ یہ ایک جائز امر ہے۔لہذا اس کے لئے زکوۃ و فطرہ کی رقم کا حیلہ کرنا جائز نہیں ہے۔
2:اگر وکالت نامے میں اس بات کی اجازت لے لی جائے کہ ادارہ قربانی کے اخراجات سے بچ جانے والی رقم کسی بھی نیک کام میں خرچ کرے گااور شرکاء قربانی اس بات کی اجازت دے دیں تو اس میں شرعا کوئی حرج نہیں کہ مابقی رقم کو ویلفیئر یا دیگر نیک کاموں میں خرچ کیا جائے۔جیساکہ سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : اگر اس نے ان چیزوں کی بھی صراحۃً اجازت شرائط وقف میں رکھی یا مصارف خیر کی تعمیم کردی یا یوں کہاکہ دیگر مصارف خیر حسب صوابدید متولی، تو ان میں بھی مطلقاً یا حسب صوابدید متولی صرف ہوسکے گا۔ (فتاوٰ ی رضویہ، کتاب الوقف،جلد 16 ص486 ، 486،ملخصا)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:09 ذیقعدہ 1441 ھ/01 جولائی 2020 ء