قرآن اٹھا کر قسم کھانا کیسا
    تاریخ: 21 نومبر، 2025
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 195

    سوال

    میرے گھر ایک ملازمہ ہے جو چودہ سال سے میرے پاس ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میری ملازمہ کی منگنی اُس کے تایا کے بیٹے سے ہوئی لیکن کچھ عرصے بعد گھریلو مسائل کی وجہ سے وہ رشتہ ٹوٹ گیا۔ میری ملازمہ نے میرے گھر میرے اور اپنے والدین کے سامنے غصے میں آکر قرآن اٹھایا اور یہ الفاظ بولے کہ ’’میں نے نہ اپنے منگیتر ( عمران ) تا یا کا بیٹا یا اس کے علاوہ کوئی بھی ہو کسی سے شادی نہیں کروانی‘‘۔برائے مہربانی آپ سے گزارش ہے کہ میری ملازمہ نے جو یہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھائی اس کا کفارہ بتا دیں ۔ وہ اپنے بولے ہوئے الفاظ پر شرمندہ ہے ۔

    سائل: مہناز جمیل خان۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صرف قرآن اٹھاکر مذکورہ جملہ کہنے سے شرعی قسم نہ ہوئی، لہذا اس پر کفارہ نہیں۔شرعی قسم کے لیے ضروری ہے کہ وہ الفاظ ِقسم کے ساتھ ہو،جیسے واللہ ،یا رحمٰن کی قسم یا قرآن کی قسم میں یہ کام نہیں کرونگا/کرونگی،ورنہ شرعی قسم نہیں ہوگی۔البتہ یاد رہے کہ بلا ضرورت سچی قسم بھی اٹھانے سے بچنا چاہیے ، اور اگر جھوٹی قسم اٹھائی تو جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھانا سخت گناہ کا کام ہے اس کی شدید مذمت احادیثِ مبارکہ میں بیان ہوئی ہے۔

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’جھوٹی بات پر قرآن مجید کی قسم کھانا یا اٹھانا سخت عظیم گناہ کبیرہ ہے اور سچی بات پر قرآن عظیم کی قسم کھانے میں حرج نہیں اور ضرورت ہوتو اٹھابھی سکتا ہے مگر یہ قسم کو بہت سخت کرتا ہے، بلاضرورتِ خاصہ نہ چاہئے... ہاں مصحف شریف ہاتھ میں لے کر یا اس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہنی اگر لفظاحلف و قسم کے ساتھ نہ ہو حلف شرعی نہ ہوگا مثلاً کہے کہ میں قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ ایسا کروں گا اور پھر نہ کیا تو کفارہ نہ آئے گا‘‘۔(فتاوی رضویہ ،13/574-575،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:6 جمادی الاول1444 ھ/21 نومبر2023ء