bus ticket zaid qeemat par bechna kaisa
سوال
میں نے اپنے سفر کے لیے بس کی ٹکٹ خریدی تھی، لیکن بعد میں مجبوری کی وجہ سے سفر منسوخ کرنا پڑ گیا۔ کمپنی ٹکٹ کینسل تو کر رہی ہے لیکن رقم واپس نہیں کر رہی۔ کیا ایسی صورت میں میں یہ ٹکٹ کسی دوسرے شخص کو فروخت کر سکتا ہوں؟ اور اگر فروخت کر سکتا ہوں تو کیا اپنی خریدی ہوئی قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرنا جائز ہے؟
سائل: پوچھا گیا از اسامہ ماجد | تاریخ 12/6/2026
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر بس کمپنی کی طرف سے ٹکٹ پر کسی شخص کی تخصیص نہ ہو اور نہ ہی اسے آگے بیچنے پر کوئی قانونی پابندی ہو، تو آپ اپنا ٹکٹ کسی دوسرے شخص کو بیچ سکتے ہیں؛ تاہم اسے قیمت خرید سے زیادہ پر بیچ کر نفع کمانا صرف اسی صورت میں جائز ہوگا جب آپ وہ رقم کسی دوسری کرنسی (مثلا امریکی ڈالر) میں وصول کریں یا ٹکٹ میں کوئی واقعی اپ گریڈیشن شامل کریں (جیسے Non-ACکی ٹکٹ تھی تو AC والی کردیں)۔
بس کا ٹکٹ بذات خود کوئی مال نہیں، بلکہ سفر کی منفعت حاصل کرنے کی پیشگی اجرت ہے۔ اور شرعا منفعت کا خریدار اس منفعت کو کسی دوسرے شخص کو بیچ سکتا ہے۔ البتہ اگر وہی منفعت آگے زیادہ قیمت پر فروخت کی جائے، تو اس کی مطلق اجازت نہیں۔
فقہاء نے اس اضافی نفع کی صورت جواز میں مختلف جنس اجرت کی شرط بیان کی؛ یعنی اگر پہلی اجرت پاکستانی روپے میں طے تھی اور آگے کسی دوسرے شخص کو دوسری جنس مثلا امریکی ڈالر میں ٹکٹ فروخت کیا جائے، تو جنس بدلنے کی وجہ سے زائد رقم وصول کرنا شرعا جائز ہے۔ اسی طرح اگر خریدی گئی نشست میں واقعی کوئی حسی اضافہ یا اپ گریڈیشن کر دی جائے تو بھی زیادہ قیمت لینا جائز ہے، ورنہ ایک ہی کرنسی میں بغیر کسی اضافے کے ٹکٹ کو اصل قیمت سے زائد پر بیچنا جائز نہیں۔
دلائل و جزئیات:
شریعت مطہرہ میں نفع کا استحقاق ضمان (رسک) کے ساتھ مقرر کیا گیا ہے اور کسی غیر مضمون شے پر نفع لینا جائز نہیں اور شے مستاجرہ میں خریدارِ منفعت کو ضمان حاصل نہیں ہوتا۔سنن ابن ماجہ کی روایت ہے:"لا يحل بيع ما ليس عندك، ولا ربح ما لم يضمن ".یعنی ایسی شے کو بیچنا حلال نہیں جو تمہارے پاس (قبضہ و ملک) نہ ہواور نہ وہ نفع حلال ہے جو مضمون نہ ہو۔(سنن ابن ماجۃ،کتاب التجارات،باب النہی عن بیع ما لیس عندک،2/737،رقم:2188،دار احیاء الکتب العربیۃ)
خلافِ جنس کرایہ طے کرنے پر اجارۃ الاجارہ جائز ہے،الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائزة أيضا إلا إنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها، وإن كانت من خلاف جنسها طابت له الزيادة ولو زاد في الدار زيادة كما لو وتد فيها وتدا أو حفر فيها بئرا أو طينا أو أصلح أبوابها أو شيئا من حوائطها طابت له الزيادة".ترجمہ:اگر کرایہ دار نے اپنے کرایہ سے زائد پر آگے (غیر جنس اجرت اولی سے) اجرت پر دیا تو یہ بھی جائز ہے البتہ اگر دوسری اجرت پہلی کی جنس سے ہو تو جائز نہیں کیونکہ یہ زائد مال اس کے لئے حلال نہیں اور وہ اسے صدقہ کرے گا۔اور اگر خلاف جنس سے اجرت پر دیا تو زائد مال اس کیلئے حلال ہے ۔اوراگر گھر میں کوئی اضافہ کیا جیسا کہ گھر میں کیل لگائی یا اس میں کنواں کھودا یا مٹی لیپی یا اسکے دروازوں یا دیواروں کی مرمت کردی تو زائد مال حلال ہے۔
(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الاجارۃ،الباب السابع فی اجارۃ المستاجر،4/425،دار الفکر)
مرمت و اصلاح کی صورت میں اجرت اولی سے زائد طے کرنے کے جواز کی علت خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ)بیان فرماتے ہیں:"وكذا كل عمل قائم؛ لأن الزيادة بمقابلة ما زاد من عنده حملا لأمره على الصلاح كما في المبسوط".ترجمہ:اسی طرح ہر وہ کام جو خارج میں قائم ہو(اس صورت میں اجرت اولی سے زائد مال حلال ہے)،کیونکہ اس کے معاملے کو صلاح پر محمول کرتے ہوئے یہ زائد مال اس کی طرف سے گھر میں اضافے کے مقابل قرار دیا جائے جیسا کہ مبسوط میں ہے۔(رد المحتار،کتاب الاجارۃ،مطلب فی المرصد،6/29،دار الفکر) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:4 ربیع الثانی 1448ھ/17 ستمبر 2026ء