building maintenance lene ka hukum
سوال
: علی گارڈن واقع سولجر بازار جو 72 فلیٹوں پر مشتمل ہے ، وہاں ہر فلیٹ کے مالک سے مینٹنس کی مد میں ماہانہ ساڑھے تین ہزار روپے لیے جاتے ہیں، جو بلڈنگ کمیٹی کے ارکان بلڈنگ کے انتظامی امور میں خرچ کرتے ہیں ،آیا مینٹنس کی مد میں ماہانہ رقم جمع کرنا جائز ہے؟
2:جب کہ نئے آنے والے فلیٹ کے مالک سے ممبر شپ اختیار کرنے کی مد میں دس ہزار روپے جمع کیے جاتے ہیں تو یہ رقم جمع کروانا جائز ہے؟ جب کہ بلڈنگ کے قواعد و ضوابط میں یہ باتیں درج ہیں اور ان باتوں کو تحریری طور پر بلڈنگ کے مین گیٹ پر بورڈ کی شکل میں آویزاں بھی کیا گیا ہے ،تاکہ نئے آنے والے لوگوں کے علم میں آجائے اور یہ رقم بھی بلڈنگ ہی میں خرچ ہوگی۔
سائل: زین علی : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: بلڈنگ کمیٹی ارکان کا مینٹننس کی مدمیں رقم لینا اور مکینوں کا اس مد میں رقم دینا ہر دو جائز بلکہ مکینوں پر لازم کہ اس مد میں رقم ادا کریں،کہ بے شک یہ رقم بلڈنگ کے انتظامی امور مثلاً عمارت کے راستوں اور سیڑھیوں اور لفٹ پر استعمال ہونے والی بجلی کا بل ، سیوریج اورصفائی کا نظام، ،چوکیدار کی تنخواہ وغیرہ دی جاتی ہےاب چونکہ ان سہولیات سے بلڈنگ کا ہر رہائشی برابر کا مستفید ہوتا ہے، اس لیے ہر رہائشی کے ذمہ مینٹیننس کی ادائیگی لازم ہوتی ہےکیونکہ یہ تمام منافع بلڈنگ کےرہائشی افراد ہی اٹھاتے ہیں سو انکے اخراجات بھی انکے ذمہ ہونگے جیساکہ قاعدہ فقہیہ ہے :الغرم بالغنم یعنی ان من ینال یقع نفع شئی یحتمل ضررہ۔ ترجمہ: فائدہ نقصان کے ساتھ ہے یعنی جو شخص کسی چیز کا نفع حاصل کرے گا تو نقصان بھی وہی برداشت کرے گا۔(شرح المجلہ لسلیم رستم البنانی، ص48 دارالکتب العملیہ لبنان)
یونہی الاشباہ ص 129 میں ہے :الْقَاعِدَةُ الْعَاشِرَةُ: {الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ}۔ترجمہ:دسواں قاعدہ یہ ہے کہ خراج ضمان کے بدلے ہے یعنی جو نفع لے گا نقصان بھی اسی کا ہوگا نہ کہ کسی دوسرے کا۔
2: یونہی بلڈنگ کمیٹی کا ممبر شپ فیس کی مد میں 10 ہزار روپے لینا بھی جائز ہے کیونکہ اس فیس کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ بلڈنگ کے بڑے بڑے اخراجات مثلاً رنگ روغن وغیرہ جو ماہانہ مینٹینس فیس سے پورے نہیں ہوپاتے وہ اس فیس سے پورے کئے جاتے ہیں۔تو بحسب قواعد سابقہ یہ فیس لینا بھی جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:ربیع الاول 1446ھ/ 03 اکتوبر 2024 ء