brokeri riayat aur amanat ki raqam se mutaliq sharai hukm
سوال
ایک مسئلہ درپیش ہے کہ شوکت نے ایک دوکان فروری 2017 میں بروکر انیس صاحب کے ذریعے بک کروائی، جون 2017 کے قریب اس پروجیکٹ کی تعمیر شروع ہوجانی تھی ،اس بکنگ کی بروکری بروکر انیس کو ایک ماہ کے اندر ادا کردی گئی،ایک ہفتے کے اندر انیس بروکر نے کئی مرتبہ رابطہ کرکے دوکان کی قیمت میں رعایت کروانے کی پیشکش کی اور اس رعایت کے عوض بروکر انیس کے دو لاکھ مقرر ہوئے،اس دوران بلڈر کو شوکت کی طرف سے دئیے گئے دو چیک واپس ہوئے،اس ریٹرن چیک کے بدلے میں شوکت نے بلڈر کو براہ راست کچھ رقم ادا کی اور کچھ کچھ رقم انیس کے طلب کرنے پر شوکت نے بلڈر کے لیے دی،اس رقم میں ڈیڑھ لاکھ بروکر انیس نے اس رعایت کی مد میں بالجبر رکھ لیےاور شوکت شوکت کے طلب کرنے پر انیس نے وہ رقم نہ بلڈر کو دی اور نہ ہی شوکت کو واپس دی۔
اس پروجیکٹ کی تعمیر جون ،جولائی 2017میں شروع ہونی تھی وہ تاحال شروع نہ ہوسکی تو شوکت نے اپریل 2018 میں دیگر کئی بکنگ کروانے والوں کی طرح اپنی جمع کی گئی رقم بلڈرسے واپس لے لی۔ کیا انیس بروکر نے رعایت کی مد میں جو رقم از خود رکھ لی تھی وہ رقم انیس کےلیے جائز ہے یا نہیں؟ اور شوکت کو وہ رقم واپس ملنی چاہیے یا نہیں؟قرآن و سنت کی روشنی میں راہ نمائی فرمادیں۔
سائل: شوکت بن محمد ہارون
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مسئولہ میں انیس نے جو رقم بروکری کی مد میں لی وہ اس کے لیے شرعا جائز ہے۔
شامی باب الاجارۃ الفاسدۃ ج 6ص 47 میں ہے:قَالَ فِي الْبَزَّازِيَّةِ: إجَارَةُ السِّمْسَارِ تَجُوزُ لِمَا كَانَ لِلنَّاسِ بِهِ حَاجَةٌ وَيَطِيبُ الْأَجْرُ الْمَأْخُوذُ:ترجمہ:بزازیہ میں فرمایا کہ دلال(کمیشن ایجنٹ) کی اجارہ جائز ہے ، کیونکہ لوگوں کو اس کی حاجت ہے اور اسکے لیے مقرر کردہ اجرت لینا حلال ہے۔
اسی میں مطلب فی استیجار الماء فی القناۃ ج6ص63 میں ہے:وَفِي الْحَاوِي: سُئِلَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أُجْرَةِ السِّمْسَارِ، فَقَالَ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ:ترجمہ: اور حاوی میں ہے کہ محمد بن سلمہ سے دلال کی اجرت کے بارے میں پوچھا گیا انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اور جوشوکت نے رعایت کروانے کے لیے انیس سے جو معاہدہ کیا اور جو رقم فکس کی شرعی طور پر یہ جائز نہیں ہے ، یہ اجارہ فاسدہ ہے،لہذا انیس شوکت سے لی گئی رقم واپس کرے اور شوکت انیس کو اجرت مثل دے یعنی وہ اجرت جو بازار میں اس جیسے کام کی مقرر ہو جو اس نے انجام دیا ہے۔
تنویرالابصار نع الدر المختار کتاب الاجارہ باب اجارۃ الفاسدہ ج6ص45 میں ہے:(وَحُكْمُ الْأَوَّلِ) وَهُوَ الْفَاسِدُ (وُجُوبُ أَجْرِ الْمِثْلِ بِالِاسْتِعْمَالِ) لَوْ الْمُسَمَّى مَعْلُومًا ابْنُ كَمَالٍ:ترجمہ:اور اجارہ فاسدہ کا حکم یہ ہے کہ استعمال کی وجہ سے اجرت مثل لازم ہوگی اگر چہ جو مقرر کیا ہے وہ معلوم ہو۔
خلاصہ یہ ہےکہ انیس نے جو رقم بروکری کی مد میں لی وہ اس کے لیے شرعا جائز ہے،اور جو رعایت کی مد میں لی وہ ناجائز لیکن اسکی اجرت مثل ضرور ملے گی جو شوکت پر لازم ہوگی۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی