بیوی طلاق کا اقرار کرے اور شوہر انکار کرے
    تاریخ: 15 جنوری، 2026
    مشاہدات: 31
    حوالہ: 599

    سوال

    عرض یہ ہے کہ میری شادی کو 3 سال ہوچکے ہیں ، ایک سال پہلے میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تھی اور تین بار ایک ساتھ کہا طلاق دی،طلاق دی طلاق دی۔اور پھر تین بار دوبارہ کہا مطلب چھ بار کہا پھر میں اپنی امی کے گھر آگئی ایک سال سے امی کے گھر ہی ہوں ۔ لیکن اب ایک سال بعد وہ مکر گیا کہ میں نے کوئی طلاق نہیں دی وہ بول رہا ہے کہ کوئی گواہ نہیں تھے اس وقت پر اس نے اس رات 3 یا 4 لوگو ں کو فون کرکے بتایا تھا کہ میں نے اسکو (مجھے) طلاق دے دی ہے۔لیکن اب مکر رہا ہے اور عدالت بھی کہہ رہی ہے کہ قانونی طور پر اس طرح طلاق نہیں ہوتی ، پر میرا دل سکون میں نہیں ہے ۔ کیونکہ اس نے مجھے خود طلاق دی ہے۔میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے ۔ اب آپ مجھے بتائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں ؟

    سائلہ: ثناء خان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آپ کا سوال بہت مبہم ہے۔آئندہ جب بھی کوئی سوال کریں تو ساتھ میں رابطہ نمبر ضرور بھیجیں تاکہ کسی بھی طرح کی معلومات درکار ہونے کی صورت میں آپ سے رابطہ کیا جا سکے ۔

    بہر حال اگر آپ کے شوہر نے آپکی طرف اشارہ کرکے یا آپکا نام لے کر یا آپکو مخاطب کرکے طلاق دی تو اس سے آپ پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں طلاق دینے کے لیے نہ گواہ کی ضرورت ہے اور نہ ہی بیوی کے سامنے دینا لازم ہے طلاق ہر حال میں واقع ہوجاتی ہے،سنن ابی داود ، رقم:2194 میں ہے " ثَلَاثٌ جَدُّهُنَّ جَدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جَدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ" ترجمہ:تین چیزیں ایسی ہیں کی سنجید گی بھی حقیقت ہےاور جن کا مذاق بھی حقیقت ہے (یعنی )نکاح ،طلاق اوررجوع۔(یعنی طلاق ہر حال میں واقع ہوجاتی ہے)اب آپ ان پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئیں ہیں ۔

    فتاوی عالمگیری ج1ص390میں ہے ۔''اذا قال لامراتہ : انت طالق و طالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا ''ترجمہ: جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اور طلاق ہے،اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا ،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں۔

    اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ،ارشاد باری تعالی ہے،فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ:'' ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے

    ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیث ہیں جنہیں بےان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''،( البقرہ 230)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں ،'' حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے ےا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سےنکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ ( فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص 84)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:05ذوالحجہ 1439 ھ/08اگست 2018 ء