بیوی پر ظلم کا حکم
    تاریخ: 25 نومبر، 2025
    مشاہدات: 44
    حوالہ: 266

    سوال

    میرا اور میری بہن کا وٹہ سٹہ میں نکاح ہوا ہے ۔ میرے بہنوئی کی بہن سے کبھی بنتی ہے اور کبھی نہیں بنتی۔ اب ان کی آپس میں کافی معاملات کراب ہوچکے ہیں ۔ اور نوبت مارا ماری تک آچکی ہے ۔ اب میرے بھائی ،والد وغیرہ کا کہنا ہے جو کچھ تیری بہن کے ساتھ ہورہا ہے تم بھی اپنی بیوی کے ساتھ ایسا ہی کرو تاکہ انہیں احساس ہو۔حالانکہ میری زوجہ میرے ساتھ بالکل ٹھیک رہ رہی ہے ہماری لڑائی نہیں ہوئی کبھی۔اس سلسلے میں ہمارے گھر کا ماحول کافی خراب ہوچکا ہے اور میں کئی بار زخمی ہوچکاہوں۔اس صورتِ حال میں میرے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ برائے کرم شرعی رہنمائی فرمادیں۔ نوازش ہوگی۔

    سائل:غلام سرور: کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شریعت اسلامیہ میں ایک کے کیے کی سزا دوسرے شخص کو نہیں دی جاسکتی ۔ قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى۔ترجمہ کنزالایمان: کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی ۔(سورۃ النجم:آیت نمبر 38)

    تفسیر طبری میں اس آیت کے تحت ہے:لَا يُؤَاخَذُ أَحَدٌ بِذَنْبِ غَيْرِهِ ترجمہ:کسی شخص سے دوسرے کے گناہ کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔(جامع البيان عن تأويل آي القرآن، جلد 22 ص 72)

    تفسیربغوی میں ہے:أَيْ لَا تَحْمِلُ نَفْسٌ حَامِلَةٌ حِمْلَ أُخْرَى، وَمَعْنَاهُ: لَا تُؤْخَذُ نَفْسٌ بِإِثْمِ غَيْرِهَا،ترجمہ:ایک جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی یعنی ایک کے گناہ کی وجہ سے دوسرے سے بدلہ نہیں لیا جائے گا۔(معالم التنزيل في تفسير القرآن، جلد 4 ص 314)

    لہذا آپ کے والد اور بھائی کا یہ تقاضا کرنا کہ تم بھی اپنی زوجہ سے ایسا سلوک کرو جیسے وہ تمہاری بہن سے کرتا ہے جائز نہیں ہے۔کہ قرآن کی اس آیت کے منافی ہے ۔ کہ جب وہ اپنے شوہر سے راضی ہے اور اسکا شوہر اس سے راضی ہے اسکے باوجودبہن سےبہنوئی کے برتاؤ کی وجہ سے یہ تقاضا جہالت ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 شوال المکرم 1441 ھ/18 جون 2020 ء