Biwi ko tum meri maan lagti ho kehne ka hukm
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرے ایک مسئلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔ ایک شوہر کی اپنی بیوی سے لڑائی ہوئی۔ غصے کی حالت میں اس نے بیوی سے یہ الفاظ کہے: "تم لگتی میری ماں ہو اگر میں نے تمہاری بہن کو شکایت نہ لگائی" شوہر کی مراد یہ تھی کہ جب بیوی کی بہن کا فون آئے گا تو وہ اس سے بیوی کی شکایت ضرور کرے گا۔ اگلے دن بیوی کی بہن کے فون آتے رہے لیکن بیوی فون بند کر دیتی تھی، اس لیے شوہر کو بات کرنے کا موقع نہ ملا۔ پھر اس کے اگلے دن شوہر کو موقع مل گیا اور اس نے بیوی کی بہن سے بیوی کی شکایت کر دی۔ سوال نمبر 1: کیا مذکورہ الفاظ سے ظہار واقع ہوا یا نہیں؟ اور جب شوہر نے بعد میں واقعی شکایت کر دی تو اس کا کیا حکم ہے؟ سوال نمبر 2: بعد میں بیوی اپنی بہن کے سامنے بار بار یہ کہتی رہی کہ "میں تو تیری ماں ہوں۔" اس پر شوہر جواب میں کبھی "ہاں، ٹھیک کہا تھا"، کبھی "ٹھیک ہے" اور کبھی جیسے الفاظ کہتا رہا۔ سوال نمبر 3: اس دوسری صورت میں ظہار کا کوئی حکم ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟ براہ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بیوی کو ماں ، بہن یا بیٹی جیسے الفاظ سے پکارنا ناجائز و گناہ ہے، جس پر توبہ لازم ہے البتہ اس سے نکاح پر کچھ اثر نہ ہوگا اور نہ ہی یہ ظہار شمار ہوگا ، کیونکہ ظہارِ صریح کے لئے ضروری ہے کہ بیوی کو اپنی محرمات ابدیہ میں سے کسی ایک کے ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کی طرف نگاہ حرام ہو مثلا کہے کہ تو مجھ پہ میری ماں کی کمر یا پیٹ کی طرح ہے وغیرہ ذلک۔
ہاں اگر یہ کہے کہ تو میری ماں کی طرح ہے یا ماں کی مثل ہے تو اس صورت میں شوہر کی نیت کا اعتبار ہے ، اس جملے سے اگر شوہر کی مراد عزت و تکریم میں ماں کی طرح ہونا ہے تو کچھ لازم نہیں نہ طلاق، نہ ظہار ، نہ ایلاء وغیرہ۔ لیکن اگر مراد طلاق ہے تو اس جملے سے طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہوگا اور تحریم (بیوی خود پہ حرام کرنے )کی نیت ہے تو ایلاء ہوگا اور اگر کچھ نیت نہیں تو اس صورت میں یہ جملہ لغو و باطل قرار پائے گا تا ہم ایسا کہنا جائز نہیں ہوگا۔
صورتِ مستفسرہ کی کسی صورت میں ظہار وغیرہ ثابت نہیں ، البتہ شوہرو بیوی دونوں پر توبہ لازم ہے ، شوہر پر اس لئے کہ اس نے یہ جملہ ادا کیا اور بیوی پر اس لئے کہ اس نے اسکے بعد بارہا شوہر کو اس بات پر اکسایا۔
سیدی امام اہلسنت اعلی ٰ حضرت علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہیں:زوجہ کو ماں بہن کہنا خواہ یوں کہ اسے ماں بہن کہہ کر پکارے ، یا یوں کہے تو میری ماںمیری بہن ہے سخت گناہ و ناجائز ہے ، مگر اس سے نہ نکاح میں کوئی خلل آئے نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہو ۔۔۔۔۔۔ ہاں اگر یوں کہا ہو کہ تو مثل یا مانند یا بجائے ماں بہن کے ہے تو اگر بہ نیت طلاق کہا تو ایک طلاق بائن ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی اور بہ نیت ظہار یا تحریم کہا یعنی یہ مراد ہے کہ مثل ماں بہن کے مجھ پر حرام ہے تو ظہار ہوگیا اب جب تک کفارہ نہ دے لے عورت سے جماع کرنا یا شہوت کے ساتھ اس کا بوسہ لینا یا بنظر شہوت اس کے کسی بدن کو چھونا یا بنگاہِ شہوت اس کی شرمگاہ دیکھنا سب حرام ہوگیا،اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ جماع سے پہلے ایک غلام آزاد کرے، اسکی طاقت نہ ہوتو لگاتار دو مہینہ کے روزے رکھے، اس کی بھی قوت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی طرح اناج یا کھانا دے۔( فتاویٰ رضویہ جدید جلد13 صفحہ280 مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہو ر )
بہارشریعت میں ہے :عورت سے کہا تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے تو نیت دریافت کی جائے اگر اُس کے اِعزاز کے ليے کہا تو کچھ نہیں اور طلاق کی نیت ہے تو بائن طلاق واقع ہوگی اور ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اور تحریم کی نیت ہے تو ایلا ہے اور کچھ نیت نہ ہو تو کچھ نہیں۔ (بہارشریعت، حصہ 8،صفحہ 207،مکتبہ المدینہ )۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
الجـــــواب صحــــیـح : ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی کتبـــــــــــــــــــــــــــہ : محمد زوہیب رضا قادری
16 محرم الحرام1448ھ/ 02 جولائی 2026 ء