وراثت کا مسئلہ دو بھائی ایک والدہ دو بہنیں

    warasat ka masla do bhai aik walida do behnein

    تاریخ: 18 مئی، 2026
    مشاہدات: 28
    حوالہ: 1370

    سوال

    ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ، ترکہ میں سات لاکھ روپے اور ایک مکان جس کی مالیت تقریباً 25لاکھ روپے تھی چھوڑاپھر ہم نے اس مکان کو مکمل گرا کر 7 لاکھ روپے کے ساتھ 30لاکھ روپے اور شامل کرکے تعمیر کیا۔جس میں صرف والدہ کی اور ہم دو بھائیوں کی اجازت شامل تھی ، ہم نے اپنی بہنوں سے اجازت نہیں لی۔

    اب اسکی مالیت اب تقریباً75لاکھ روپے ہے معلوم یہ کرنا ہے کہ ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا 7لاکھ اور25لاکھ روپے کے اعتبارسے یا 75لاکھ روپے کے اعتبار سے ہم دوبھائی ایک والدہ اور دوبہنیں ہیں۔شریعت کی روشنی جواب عنایت فرمائیں؟ورثاء میں ہماری والدہ ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ، دونوں بہنوں کی شادی ہوچکی ہے۔

    سائل:محمد شھباز: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جن ورثاء نے تعمیرات کی مد میں پیسے لگائےپہلے اتنی رقم(30 لاکھ)انہیں واپس کی جائے گی ۔ پھر جو بچے وہ تمام ورثاء میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت مکان کی مکمل قیمت کو 48 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے مرحوم کی زوجہ کو 6 حصے، ہر بیٹے کو 14 حصے اور ہر بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔

    نوٹ:رقم کی صورت میں تقسیم اس طرح ہوگی کہ 75 لاکھ مکان کی قیمت میں سےسب سے پہلے 30 لاکھ ان کے منھا کئے جائیں جنہوں نے تعمیرات کی ۔ اسکے بعد جو بچے(45 لاکھ) میں سےمرحوم کی زوجہ کو 5لاکھ 62ہزار 5سو، ، ہر بیٹے کو الگ الگ 13 لاکھ12ہزار،5سو روپے،جبکہ ہر بیٹی کو الگ الگ6لاکھ56 ہزار2سو50 روپے دیئے جائیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان :تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَجْنَبِيٌّ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ حَتَّى لَا يَجُوزَ لَهُ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِهِ۔ ترجمہ:ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی کی طرح ہے حتٰی کی ایک کو دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الشرکۃ جلد 3 ص 313)

    سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے گھر بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ گھر اس بانی کا ہوگا ۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ، جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

    تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:أَنْفَقَ بِلَا إذْنِ الْآخَرِ وَلَا أَمْرَ قَاضٍ، فَهُوَ مُتَبَرِّعٌ كَمَرَمَّةِ دَارٍ مُشْتَرَكَةٍ.ترجمہ:اگر کسی شریک نے دوسرے کی اجازت کے بغیر ، یونہی قاضی کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ کیا تو وہ متبرع ہے ،جیسا کہ مشترکہ مکان میں خرچ کرنا۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب المزارعۃ جلد 6 ص 284)

    یونہی فتاویٰ رضویہ میں ہے:فان من انفق فی امر غیرہ بغیر امرہ ولامضطرا الیہ فانہ یعد متبرعا فلایرجع بشئ۔ ترجمہ: کیونکہ جس نےغیر کےمعاملہ میں اس کےحکم اورکسی مجبوری کےبغیرخرچ کیاتووہ خرچہ بطورنیکی ہوگالہذااس خرچہ کی وصولی کےلئےرجوع نہ کرسکےگا۔(فتاوی رضویہ :ج18،ص178،رضافاؤنڈیشن لاہور)۔

    مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15ربیع الاول 1442 ھ/02 نومبر 2020 ء