سوال
1:۔ ہمارے علاقے میں ایک مسجد ہے جو تقریبا 1927 سے قائم ہے ،اس کے ساتھ متصل ناظرہ کا مدرسہ ہے ،مسجد اور مدرسہ گورنمنٹ کی جگہ پر ہے،اس وقت سے کافی عرصہ تک اس مسجد کا کوئی متولی بھی نہیں تھا، بس لوگ آتے تھے نماز پڑھنے اور کوئی بھی نماز پڑھادیتا تھا اب چند سال قبل 5 سال پہلے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو مسجد کے معاملات دیکھے گی ، اب کمیٹی کے لوگ اس مسجد کو دوبارہ تعمیر کرکے اسے کشادہ کرنا چاہتے ہیں ، اور مدرسہ کو مسجد میں شامل کرنا چاہتے ہیں کیا مدرسہ کو مسجد میں شامل کرنا جائز ہے یا نہیں؟
2:۔ اگر داخل کردیں تو مدرسہ مسجد ہوجائے گا یا نہیں؟
3:۔ اس سے متصل مدرسے میں اذان کے لیئے کمرہ بنا سکتے ہیں یا نہیں لائبریری بنا سکتے یا نہیں؟لائبریری کی جگہ مدرسے سے لے سکتے ہیں یا نہیں ؟ کتابیں کوئی مخیر حضرات دے گا صرف جگہ مدرسے کی چاہیے۔ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
4:۔ اور متصل مدرسہ فنائے مسجد میں آئے گا یا نہیں ؟مسجد اور مدرسہ کی چار دیواری ایک ہے۔
5:۔ معتکف مدرسہ میں جا سکتا ہے یا نہیں؟
سائل:مولانامحمد جاوید اقبال قادری : وہاڑی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:۔مسلمان گورنمنٹ کی کسی جگہ کو مسجد بنا لیں تو مسجد ہوجاتی ہے ، یونہی مدرسہ بنالیں تو وہ بھی مدرسہ ہوجاتا ہے ۔مفتی جلال الدین امجدی؎ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :''صورت مسئولہ میں جب کہ چالیس سال سے مذکورہ زمین مدرسہ کے قبضے میں ہے،اور جاڑے کے موسم میں بچے اس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ،اور مدرسے کا سالانہ جلسہ بھی وہیں ہوتا ہے،تو وہ زمین مدرسہ کے لیے وقف ہوگئی ''۔( فتاویٰ فقیہ ملت جلد 2 ص 136)
اور جو چیز جس کے لیے وقف ہوجائے اسکو اس کے علاوہ سے بدلنا جائز نہیں ہے لہذا اب مدرسہ کو اس مسجد میں شامل نہیں کرسکتے ، کیونکہ وقف میں تغییر کرنا جائز نہیں ہے۔عالمگیری میں ہے:وَلَا يَجُوزُ تَغْيِيرُ الْوَقْفِ عَنْ هَيْئَتِهِ :ترجمہ:۔ اور وقف کو اسکی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے ۔(عالمگیری کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات جلد 2ص 365)
یونہی شامی میں ہے : الْوَاجِبَ إبْقَاءُ الْوَقْفِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ :ترجمہ: وقف کو اسی حالت پر رکھنا واجب ہے جس حالت پر وہ فی الحال موجود ہے۔( شامی کتاب الوقف مطلب فی استبدال الوقف وشروطہ 4ص388)
ہاں اگر نمازی زیادہ ہوں تو صفیں متصل ہونے کی صورت میں نمازی اس مدرسہ میں بھی کھڑے ہوسکتے ہیں۔ البتہ اگر اس میں صفیں بنانا مشکل ہو اور مسجد تنگ ہو، سب اہلِ محلہ اس میں نہیں سما سکتے ہوں ، اور قریب میں کوئی دوسری مسجد بھی نہ ہو تواس صورت میں مذکورہ مدرسہ کو مسجد میں شامل کرنے کی گنجائش ہے، شامی کتاب الوقف میں ہے:فِي الْفَتْحِ: وَلَوْ ضَاقَ الْمَسْجِدُ وَبِجَنْبِهِ أَرْضُ وَقْفٍ عَلَيْهِ أَوْ حَانُوتٌ جَازَ أَنْ يُؤْخَذَ وَيُدْخَلَ فِيهِ اهـ زَادَ فِي الْبَحْرِ عَنْ الْخَانِيَّةِ بِأَمْرِ الْقَاضِي وَتَقْيِيدِهِ بِقَوْلِهِ: وَقْفٌ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى الْمَسْجِدِ يُفِيدُ أَنَّهَا لَوْ كَانَتْ وَقْفًا عَلَى غَيْرِهِ لَمْ يَجُزْ لَكِنَّ جَوَازَ أَخْذِ الْمَمْلُوكَةِ كُرْهًا يُفِيدُ الْجَوَازَ الْأَوْلَى؛ لِأَنَّ الْمَسْجِدَ لِلَّهِ تَعَالَى، وَالْوَقْفُ كَذَلِكَ :ترجمہ:فتح القدیر میں ہے کہ اگر مسجد تنگ ہوجائے اور اس مسجد کے پہلو میں زمین ہو جو مسجد پر ہی وقف ہو یا دوکان ہو تو اس کو مسجد میں داخل کرنا جائز ہے ،اور بحر میں خانیہ سے یہ بات بھی زائد کی گئی کہ قاضی کی اجازت سے داخل کی جائے، اور ان کا یہ کہنا کہ (زمین یا دوکان)مسجد پر ہی وقف ہو اس بات کا فائدہ دے رہا ہے کہ اگر مسجد کے علاوہ کسی اور چیز پر وقف ہو تو اب اسکو مسجد میں داخل کرنا جائز نہیں ہے،لیکن مملوکہ زمین کو جبراََ لینے کا جواز اس بات کا مشعر ہے کہ اس زمین کو(جو مسجد کے علاوہ کسی اور چیز پر وقف ہو)بھی مسجد میں داخل کرنا بدرجہ اولیٰ جائز ہے،کیونکہ مسجد اللہ کے لیے ہوتی ہے اور اسی طرح وقف بھی۔(شامی کتاب الوقف مطلب فی الوقف اذا خرب جلد 6ص 576،577)
2:۔ اگر بشرائط مذکورہ مدرسے کو مسجد میں داخل کردیا تو مدرسہ مسجد ہوجائے گا ۔
3:۔ اذان کے لیے کمرہ بنانا مصالح مسجد سے ہے ، لہذا اذان کے لیے کمرہ مسجد میں ہی بنایا جائے مذکورہ مدرسے میں بنانا جائز نہیں ہے۔ہاں اگر لائبریری مدرسے کی ضروریات سے ہے،تو لائبریری بنا سکتے ہیں۔بدائع الصنائع میں ہے:وَالْوَاجِبُ أَنْ یُبْدَأَ بِصَرْفِ الْفَرْعِ إلَى مَصَالِحِ الْوَقْفِ مِنْ عِمَارَتِهِ وَإِصْلَاحِ مَا َهِيَ مِنْ بِنَائِهِ وَسَائِرِ مُؤْنَاتِهِ الَّتِي لَا بُدَّ مِنْهَا،ترجمہ:اور ضروری ہے کہ فنڈ خرچ کرنے میں ابتداء وقف کے مصالح سے کی جائے مثلا وقف کی عمارت ،یا عمارت کی اصلاح اور وہ تمام چیزیں جو اس وقف کے لیے ضروری ہیں۔( بدائع الصنائع جلد 6 ص221)
4:۔ جی ہاں مدرسہ فنائے مسجد میں داخل ہوگا، کیونکہ فنائے مسجد کہتے ہیں اس جگہ کو جو مسجدنہ ہو لیکن مسجد کی چار دیواری میں مسجد کی ضروریات کے لیے مثلا جوتا اتارنے کی جگہ یا وضو خانہ یا استنجاء خانہ ہو یا وہ جگہ جو مسجد سے ملحق ہو درمیان میں راستہ بطور فاصل نہ ہو۔غنیۃ المستملی میں ہے: فناء المسجد ھوالمکان المتصل بہ لیس بینہ طریق۔ترجمہ:فنائے مسجد وہ مکان ہے جو مسجد کے متصل ہو اور درمیان میں راستہ نہ ہو۔
( غنیۃ المستملی فصل فی احکام المسجد مکتبہ نعمان کوئٹہ ص529)
5:۔جی ہاں جاسکتا ہے ، سیدی اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں :بلکہ جب وہ مدارس متعلق مسجد، حدودمسجد کے اندرہیں اُن میں اور مسجد میں راستہ فاصل نہیں صرف ایک فصیل سے صحنوں کاامتیاز کردیاہے تو ان میں جانا مسجد سے باہر جاناہی نہیں یہاں تک کہ ایسی جگہ معتکف کوجاناجائز کہ وہ گویا مسجد ہی کا ایک قطعہ ہے۔( فتاویٰ رضویہ جلد 7 ص 453)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
تاریخ اجراء:28ذوالقعدہ 1439 ھ/11اگست 2018 ء