bila wajah sharai qasam torne ka hukm
سوال
میں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا تھا کہ میں tiktok استعمال نہیں کروں گی۔ اب میں اسے استعمال کرنا چاہتی ہوں، مجھے کیا کرنا چاہیے؟
سائل: پوچھا گیا از Fatima | تاریخ 21/8/2026
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
قسم توڑنا گناہ ہے، اس کی اجازت صرف ان مقامات پر ہے جہاں شریعت توڑنے کا حکم دے؛ مثلاً والدین سے بات نہ کرنے پر قسم کھائی تو توڑنا لازم ہے، یہ حکم بعض اوقات واجب ہوتا ہے مثلاً: قسم گناہ کرنے پر اٹھائی ہو اور بعض اوقات مستحب ، مثلاً: قسم تو مباح بات پر تھی لیکن قسم توڑنے میں زیادہ خیر ہو۔البتہ بہر صورت قسم توڑنے پر کفارہ ضرور لازم ہوگا۔
ٹک ٹاک استعمال کرنے پر شریعت کی جانب سے کوئی التزام نہیں، بلکہ اس میں اکثر گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔ لہذا آپ کا قسم توڑنا اوّلاً جائز نہیں۔ اس کے باوجود ٹک ٹاک استعمال کرکے قسم توڑتی ہیں تو گنہگار ہونے کے ساتھ ساتھ آپ پر قسم کا کفارہ بھی لازم آئے گا، جس کے لیے 10 مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائیں، لباس دیں، یا 10 مسکینوں کو ایک ایک صدقہ فطر کی رقم الگ الگ دیں (یا کسی ایک ہی مسکین کو 10 مختلف دنوں میں روزانہ ایک صدقہ فطر کے برابر رقم دیں، کیونکہ ایک دن میں ایک مسکین کو ایک سے زائد رقم دینے سے صرف ایک دن کا کفارہ ادا ہوگا)، اور اگر مالی استطاعت بالکل نہ ہو تو لگاتار 3 دن کے روزے رکھیں۔
دلائل و جزئیات:
اہلِ خانہ کو تکلیف و ضرر پہنچانے کی قسم توڑنے کے وجوب اور اس پر کفارہ لازم ہونے کے بارے میں صحیح البخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: "والله، لأن يلج أحدكم بيمينه في أهله، آثم له عند الله من أن يعطي كفارته التي افترض الله عليه". ترجمہ: اللہ کی قسم! اگر کوئی شخص اپنے اہل کے متعلق اس کو اذیت دینے کی قسم پر قائم رہے تو یہ بات اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی ہے کہ وہ اس قسم کا کفارہ دے جو اللہ تعالی نے اس پر فرض فرمایا ہے۔ (صحيح البخاري، كتاب الأيمان والنذور، 8/131، رقم الحديث: 6625، دار طوق النجاة)
اس حدیثِ پاک کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی (المتوفی:1391ھ)رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’یعنی جو شخص اپنے گھر والوں میں سے کسی کا حق فوت (یعنی حق تلفی) کرنے پر قسم کھالے مثلاً یہ کہ میں اپنی ماں کی خدمت نہ کروں گا یا ماں باپ سے بات چیت نہ کروں گا، ایسی قسموں کا پورا کرنا گناہ ہے۔ اس پر واجب ہے کہ ایسی قسمیں توڑے اور گھر والوں کے حقوق ادا کرے، خیال رہے یہاں یہ مطلب نہیں کہ یہ قسم پوری نہ کرنا بھی گناہ مگر پوری کرنا زیادہ گناہ ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسی قسم پوری کرنا بہت بڑا گناہ ہے ،پوری نہ کرنا ثواب، کہ اگرچہ رب تعالی کے نام کی بے ادبی قسم توڑنے میں ہوتی ہے اسی لیے اس پر کفارہ واجب ہوتا ہے مگر یہاں قسم نہ توڑنا زیادہ گناہ کا موجب ہے‘‘۔(مرآة المناجيح، 5/198، نعیمی کتب خانہ)
علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں: "وإن كان على ترك الواجب أو على فعل معصية... فإنه يجب عليه... أن يحنث نفسه ويكون بالمال". ترجمہ: اور اگر قسم کسی واجب کو چھوڑنے یا کسی گناہ کا کام کرنے پر ہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ قسم کو توڑے اور مال (کفارہ) کے ذریعہ اس کا تدارک کرے۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، كتاب الأيمان، 3/17، دار الكتب العلمية)
قسم سے بہتر کام نظر آنے پر قسم توڑ کر بہتر کام کرنے کے استحباب پر صحیح مسلم کی روایت ہے: "من حلف على يمين، فرأى غيرها خيرا منها، فليأت الذي هو خير، وليترك يمينه". ترجمہ: جو شخص کسی کام پر قسم کھا لے، پھر اس کے علاوہ دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھے، تو اسے چاہیے کہ وہ کام کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے۔ (صحيح مسلم، كتاب الأيمان، 3/1271، رقم الحديث: 1651، دار إحياء التراث العربي)
قطعِ رحمی کی قسم توڑ کر صلہ رحمی کرنے اور کفارہ دینے کے حکمِ نبوی پر صحابیِ رسول حضرت ابو الاحوص کے والد عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنن نسائی میں روایت ہے: "أرأيت ابن عم لي أتيته أسأله فلا يعطيني ولا يصلني، ثم يحتاج إلي فيأتيني فيسألني، وقد حلفت أن لا أعطيه ولا أصله، «فأمرني أن آتي الذي هو خير، وأكفر عن يميني»". ترجمہ: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! فرمائیے کہ میں اپنے چچا زاد بھائی کے پاس کچھ مانگنے جاتا ہوں تو وہ مجھے نہیں دیتا اور نہ صلہ رحمی کرتا ہے، پھر اسے میری ضرورت پڑتی ہے تو وہ میرے پاس آتا ہے اور مانگتا ہے، جبکہ میں قسم کھا چکا ہوں کہ نہ اسے کچھ دوں گا اور نہ صلہ رحمی کروں گا۔ تو مجھے حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے حکم دیا کہ جو کام اچھا ہے وہ کروں اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں۔ (سنن النسائي، كتاب الأيمان والنذور، 7/61، رقم الحديث: 3788، مكتب المطبوعات الإسلامية)
مستحب کام چھوڑنے پر کھائی گئی قسم کو توڑنے کے استحباب پر علامہ کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وإن كان على ترك المندوب... فالأفضل له أن يفعل ويكفر عن يمينه". ترجمہ: اور اگر قسم کسی مستحب کام کو چھوڑنے پر ہو تو اس کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ (مستحب) کام کر لے (یعنی قسم توڑ دے) اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، كتاب الأيمان، 3/18، دار الكتب العلمية)
واجب کام کی ادائیگی یا فرض کی قسم کو پورا کرنے کے وجوب اور توڑنے کے حرمت و گناہ ہونے پر علامہ کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "فإن كان على فعل واجب... فإنه يجب عليه الوفاء به ولا يجوز له الامتناع عنه... ولو امتع يأنم". ترجمہ: پس اگر قسم کسی واجب کام کو کرنے پر ہو تو اس پر قسم کو پورا کرنا واجب ہے اور اس سے رکنا جائز نہیں اور اگر وہ رکا ( یعنی قسم توڑی) تو گنہگار ہوگا۔ (بدائع الصنائع ، 3/17)
خیر کے بغیر بلاوجہ قسم توڑنے کی حرمت اور شرعی عذر پر جواز کے بارے میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اگر خلاف کرنے میں شرعاً خیر دیکھے تو خلاف کرے اور کفارہ دے ورنہ بلاوجہ شرعی قسم توڑنا حرام ہے۔ قال اللہ تعالی: واعلموا أيمانكم۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ اپنی قسموں کو پورا کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من حلف على يمين فرأى غيرها خيرا منها فليأت الذي هو خير وليكفر عن يمينه یعنی جس نے کسی چیز کا حلف دیا اور اس کے خلاف سے بہتر محسوس کرے تو بہتر کو بجالائے اور قسم کا کفارہ دے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 13/507، رضا فاؤنڈیشن)
مباح کام پر کھائی گئی قسم کی رعایت اور وجہ شرعی کے تحت توڑنے کے جواز پر علامہ کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وإن كان على مباح تركا أو فعلا... فالأفضل له البر وله أن يحنث نفسه". ترجمہ: اور اگر قسم کسی مباح کام کو کرنے یا چھوڑنے پر ہو تو اس کے لیے افضل یہ ہے کہ قسم کو پورا کرے، اور اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ قسم کو توڑ دے (جبکہ توڑنا بلا وجہ شرعی نہ ہو)۔ (بدائع الصنائع ، 3/18)
قسم کے تحفظ اور اس کی چاروں شرعی اقسام کی جامع تفصیل بیان کرتے ہوئے شمس الآئمہ محمد بن احمد السرخسی (المتوفی:483ھ) فرماتے ہیں: "وهي في وجوب الحفظ أربعة أنواع: نوع منها يجب إتمام البر فيها، وهو أن يعقد على أمر طاعة أمر به، أو الامتناع عن معصية، وذلك فرض عليه قبل اليمين وباليمين يزداد وكادة. ونوع لا يجوز حفظها وهو أن يحلف على ترك طاعة أو فعل معصية لقوله - صلى الله عليه وسلم -: «من حلف أن يطيع الله فليطعه، ومن حلف أن يعصي الله فلا يعصه». ونوع يتخير فيه بين البر والحنث، والحنث خير من البر فيندب فيه إلى الحنث لقوله - صلى الله عليه وسلم -: «من حلف على يمين ورأى غيرها خيرا منها فليأت الذي هو خير، وليكفر». وأدنى درجات الأمر الندب، ونوع يستوي فيه البر والحنث في الإباحة فيتخير بينهما، وحفظ اليمين أولى بظاهر قوله تعالى ﴿واحفظوا أيمانكم﴾. وحفظ اليمين يكون بالبر بعد وجودها فعرفنا أن المراد حفظ البر، ومن حنث في هذا اليمين فعليه الكفارة كما قال تعالى ﴿فكفارته إطعام عشرة مساكين﴾". ترجمہ: اور قسم کی حفاظت کے وجوب کے اعتبار سے چار قسمیں ہیں: ایک قسم وہ ہے جس میں قسم کو پورا کرنا واجب ہے، اور وہ یہ ہے کہ کسی ایسی طاعت کا عزم کرے جس کا حکم دیا گیا ہو یا کسی معصیت سے رکنے کی قسم کھائے، اور یہ بات قسم سے پہلے بھی اس پر فرض تھی اور قسم کے ذریعے اس کی تاکید میں اضافہ ہو گیا۔ دوسری قسم وہ ہے جس کی حفاظت جائز نہیں، اور وہ یہ ہے کہ طاعت کو چھوڑنے یا معصیت کو کرنے پر قسم کھائے، نبی علیہ السلام کے اس فرمان کی وجہ سے کہ ’’جس نے اللہ کی اطاعت کی قسم کھائی وہ اطاعت کرے اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی قسم کھائی وہ نافرمانی نہ کرے‘‘۔ تیسری قسم وہ ہے جس میں قسم پورا کرنے اور توڑنے کے درمیان اختیار ہوتا ہے جبکہ توڑنا پورا کرنے سے بہتر ہوتا ہے، لہذا اس میں قسم توڑنا مستحب ہے، نبی علیہ السلام کے اس فرمان کی وجہ سے کہ ’’جس نے کسی بات پر قسم کھائی پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر دیکھا تو وہ بہتر کام کر لے اور کفارہ دے‘‘۔ اور امر کا سب سے ادنیٰ درجہ استحباب ہے۔ اور چوتھی قسم وہ ہے جس میں قسم پورا کرنا اور توڑنا اباحت میں برابر ہیں، لہذا ان دونوں کے درمیان اختیار ہے، تاہم قرآنِ پاک کے ظاہر فرمان ﴿واحفظوا أيمانكم﴾ (اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو) کے تحت قسم کی حفاظت اولیٰ ہے۔ اور قسم کی حفاظت اس کے وجود میں آنے کے بعد اس کو پورا کرنے سے ہوتی ہے، پس ہمیں معلوم ہوا کہ مراد قسم کی حفاظت ہے، اور جس نے اس قسم میں حنث (قسم کا توڑنا) کیا تو اس پر کفارہ واجب ہوگا جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ﴿فكفارته إطعام عشرة مساكين﴾ (تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے)۔ (المبسوط للسرخسي، كتاب الأيمان، 8/126-127، دار المعرفة) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:3 ربیع الثانی 1448ھ/16 ستمبر 2026ء