سوال
میری شادی 27/08/2017 کو حیدرا ٓباد میں ہوئی ،2023 میں شوہر نے والدین کے گھر کراچی بھیج دیا ۔اور 13/01/2025کو ایک خط موصول ہوا جو کہ طلاق نامہ تھا اور اس پر طلاق کی تاریخ 01/05/2024 لکھی ہوئی تھی مجھے معلوم کرنا ہے کہ میری طلاق کی عدت کب سے شروع ہو گی ؟
سائلہ: سیدہ رجاء کومل
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جس وقت شوہر نے طلاق نامہ پر دستخظ کیے اسی وقت سے عدت کی ابتداء ہو گی ۔اب یہ معلوم کروایا جائے کہ اس نے دستخظ کس تاریخ کو کیے، جس تاریخ کو طلاق نامہ بنوایا یا جس تاریخ کو طلاق نامہ ارسال کیا ۔
جزئیات :
جد الممتار میں ہے :اختلفوا فیما لو امر زوج بکتابۃ الصک بطلاقھا ،فقیل یقع وھو اقرار بہ وقیل ھو توکیل فلا یقع حتی یکتب وبہ یفتی وھو الصحیح فی زماننا کذا فی القنیۃ ۔ترجمہ: علمائے کرام کا اختلاف ہے کہ اگر شوہر طلاق نامہ لکھنے کا حکم دے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ بعض نے کہا کہ طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ یہ طلاق کا اقرار ہے، اور بعض نے کہا کہ یہ وکالت ہے، لہٰذا طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوگی جب تک طلاق نامہ تحریر نہ ہو جائے۔ اسی پر فتویٰ دیا جاتا ہے، اور ہمارے زمانے میں یہی صحیح ہےجیسا کہ 'القنیۃ' میں ہے۔(جد الممتار جلد 05،صفحہ57،دار اہل السنۃ )
امام اہلسنت امام احمد رضا خان اس مسئلہ کی مکمل تحقیق کے بعد لکھتے ہیں:ثم قد شاع فی بلادنا ان احدھم اذا اراد ان یطلق امراتہ،دعا الصکاک وامرہ ان یکتب طلاق امراتۃ ثلاثا مثلا فیغطہ الناس ویستنزلونہ عن الثلاث ،فیقول سمعا : اکتب طلاقین ۔۔۔ْوھکذا ، وکل ذالک دلیل قاطع علی انھم لایرون بالامر الا توکیل ولا یفہمون منہ الاقرار اصلا فوجب التعویل علی مافی القنیۃ والاشباہ وھو المصحح المفتی بہ ۔ترجمہ: پھر ہمارے ملک میں یہ عام رواج ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے تو وہ صکّ لکھنے والے کو بلاتا ہے اور اسے حکم دیتا ہے کہ اپنی بیوی کو تین طلاقیں لکھ دے ۔پھر لوگ اس پر دباؤ ڈالتے ہیں اور اسے تین طلاقوں سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، تو وہ کہتا ہے: 'ٹھیک ہے، دو طلاقیں لکھ دو۔'۔۔۔ اور اسی طرح ہوتا ہے۔ یہ تمام صورتحال قطعی دلیل ہے اس بات پر کہ وہ لوگ حکم کو وکالت ہی سمجھتے ہیں اور اسے اقرار ِ طلاق بالکل نہیں سمجھتے۔ لہٰذا، القنیہ اور الاشباہ میں جو بیان کیا گیا ہے، اس پر اعتماد کرنا واجب ہے، اور یہی تصحیح شدہ اور مفتیٰ بہ موقف ہے۔(جد الممتار جلد 05،صفحہ68،دار اہل السنۃ )
اس پر مستزاد یہ ہے کہ اب ہمارے عرف میں جب تک کسی پیپر پر دستخظ نہ کر دیے جائیں اس وقت تک اسے نامکمل تصور کیا جاتا ہے اور ایسی دستاویز ناقابلِ قبول ہوتی ہے لہذا یہی عرف طلاق نامہ میں بھی معتبر ہو گا کہ جب تک شوہر دستخظ نہ کر دے طلاق نہیں ہو گی اور جب دستخط کر دے تو پھر طلاق ہو گی اور اسی وقت سے عدت شمار کی جائے گی الا یہ کہ طلاق کو بیوی کے پاس پہنچنے پر معلق نہ کیا ہو ۔۔
فتح القدیر میں ہے: وإذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء) لقوله تعالى {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء} [البقرة: 228]۔ترجمہ: اور جب کسی مرد نے اپنی بیوی کو بائن یا رجعی طلاق دی، یا ان کے درمیان طلاق کے بغیر جدائی واقع ہوئی، اور وہ آزاد عورت ہو اسے حیض بھی آتا ہو، تو اس کی عدت تین حیض ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 'اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں (فتح القدیر كتاب الطلاق، باب العدة، جلد:4، صفحہ:307،مطبوعہ : دار الفكر)۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15الرجب المرجب1446 ھ/16جنوری2025ھ