Bayanah Zabt Karne Ka Hukm
سوال
میں نے ایک انوسٹر کو ایک دوکان 90 لاکھ میں فروخت کی۔انوسٹرنے 20 لاکھ روپے بطور بیعانہ کے ادا کردیا ۔لیکن پھر مارکیٹ میں اس دوکان کے ویلیو کم ہوگئی ۔اور انوسٹر سودے سے پیچھے ہٹ گیا کہ اب مجھے یہ پراپرٹی نہیں خریدنی۔پھر میں نے یہ دوکان دوسری جگہ 70 لاکھ میں فروخت کی ۔اور میں نے 20 لاکھ روپے کی یہ رقم اس کی روکی ہوئی ہے ۔اور اس انوسٹر نے میرے علاوہ اور بھی بہت سارے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے اور باقی سب لوگوں نے بھی اس کی رقم روکی ہوئی ہے ۔کیا ہم اس رقم کو ضبط کرکے اپنا نقصان پورا کرسکتے ہیں برائے کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟
سائل:اسد:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں سوداکینسل ہونے کی وجہ سے آپ کو جتنا نقصان ہوا اتنی مقدار بیعانہ ضبط کرنا آپ کے لیے جائز ہے۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ بیعانہ کو عربون کہا جاتا ہے اوربیعانہ ضبط کرنے کو بیع عربون سے تعبیر کیا جاتا ہےاورمتقدمین فقہاء کے نزدیک یہ مطلقاً جائز نہیں ہے کیونکہ حدیث مبارک میں اس کی ممانعت آئی ہےچناچہ مشکوٰۃ المصابیح میں ہے: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ ترجمہ:نبی پاک ﷺ نے عربون کی بیع سے منع کیا ہے۔
اس حدیث کی شرح میں ملاعلی قاری لکھتے ہیں: هُوَ أَنْ يَشْتَرِيَ السِّلْعَةَ وَيَدْفَعَ إِلَى صَاحِبِهَا شَيْئًا عَلَى أَنَّهُ إِنْ أَمْضَى الْبَيْعَ حَسَبَ وَإِنْ لَمْ يُمْضِ الْبَيْعَ كَانَ لِصَاحِبِ السِّلْعَةِ وَلَمْ يَرْجِعْهُ الْمُشْتَرِي، وَهُوَ بَيْعٌ بَاطِلٌ عِنْدَ الْفُقَهَاءِ ترجمہ:بیع عربون یہ ہے کہ کوئی شخص سامان خریدےاور اپنے صاحب(فروخت کنندہ)کو ثمن میں سے کچھ دے اس شرط پر کہ اگر بیع تام ہوئی تو اسے ثمن تصور کیا جائے گا اور اگر بیع تام نہ ہوئی تو یہ رقم فروخت کنندہ کی ہوگی اور مشتری اسے واپس نہیں لے گا اور فقہاء کے نزدیک یہ بیع باطل ہے۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح،جلد:5،ص: 1936 ،رقم:2864،دارالفکر بیروت)
اسی طرح الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے: بيع العربون: هو أن يشتري الرجل شيئاً، فيدفع إلى البائع من ثمن المبيع درهماً، أو غيره مثلاً، على أنه إن نفذ البيع بينهما احتسب المدفوع من الثمن، وإن لم ينفذ، يجعل هبة من المشتري للبائعترجمہ:بیع عربون یہ ہے کہ انسان کچھ خریدے اور مبیع کا کچھ ثمن مثلاًایک درہم یا اسکی مثل کچھ بائع کو دے اس شرط پر کہ اگر بیع بائع و مشتری کے مابین نافذ ہوجائے تو مدفوع ثمن کا حصہ شمار کیا جائےگا ورنہ یعنی اگر نافذ نہ ہو تو یہ رقم مشتری کی طرف سے بائع کو ہبہ کر دی جائےگی۔
نیز اسی میں بیع عربون کے حکم کی بابت ہے: إنه بيع ممنوع غير صحيح، فاسد عند الحنفية ۔ترجمہ:بے شک بیع عربون ممنوع اور غیر صحیح اوراحناف کے نزدیک فاسد ہے۔(الفقہ الاسلامی وادلتہ،جلد:5،ص:119،دارالفکر صوریہ دمشق)
امام اہلسنت مجدددین وملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتےہیں: بیع نہ ہونے کی حالت میں بیعانہ ضبط کرلینا جیسا کہ جاہلوں میں رواج ہے ظلم صریح ہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:17،ص:94،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
لیکن چونکہ اس دور میں دیانت داری مفقود ہے۔اور لوگ اپنے سودے کو پورا نہیں کرتے۔بالخصوص انوسٹر حضرات جو پراپرٹی وغیرہ میں انوسٹ کرتے ہیں ۔انکی مارکیٹ میں یہ عادت بن چکی ہے کہ وہ اپنے سودے پراپرٹی کے ریٹ کے مد نظر رکھتے ہوئے پورے کرتےہیں یعنی ایک ہی وقت میں کئی سارے سودے کرتے ہیں اور بطور ضمانت فروخت کنندہ کو بیعانہ کی رقم دے دیتے ہیں اور پھراگر پراپرٹی کی ویلیو کم ہوجاتی ہے اور انہیں اپنا نقصان ہوتا نظر آتا ہے تو سودے کینسل کر دیتے ہیں اور اس سے فروخت کنندہ کو نقصان اٹھانا پرتا ہے ۔
لہذا اس ضرورت کی بناء پرمتاخرین فقہاء نے بقدر نقصان فروخت کنندہ کو بیعانہ کی رقم ضبط کرنا جائز قرار دیا ہے تاکہ اس بددیانتی اور ضرر سے بچا جاسکے۔اور انوسٹر حضرات کو ایسا کرنے سے روکا جاسکے۔
چناچہ فقہ کا اصول ہے : الضرورات تبیح المحظورات ترجمہ:ضرورات محظورات کو جائز کردیتی ہیں ۔(الاشباہ والنظائرلابن نجیم،صفحہ:73،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)
اسی طرح حدیث مبارک میں ہے : عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ترجمہ:سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ نے مروی ہے ،نبی کریمﷺ نے حکم دیا:نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ نقصان پہنچاؤ۔ (سنن ابن ماجہ:2340)ا اور اس پر فقہ کا اصول ہے : الضرر یزال:نقصان کو دور کیا جاتا ہے۔(الاشباہ والنظائرلابن نجیم،صفحہ:72،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)
اس سلسلہ میں عصر حاضر کے محقق فقیہ العصر حضرت علامہ مفتی ڈاکٹر ابوبکر الشاذلی فرماتے ہیں :اصل فہم سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ عصر حاضر معاشیات کا زمانہ ہے اور افراط زر کی وجہ سے پیسے کی قیمت روز بروز گرتی چلی جارہی ہے ۔لہذا افراط زر کی صورت میں ہونے والے نقصان کا ازالہ صرف بیعانہ ہی کہ صورت میں ممکن ہے ۔اس کے علاوہ دیانتداری اس زمانے میں مفقود ہے ۔بہت کم ایسے افراد ملیں گےجو اپنے نقصان کی صورت میں بھی دیانتداری سے کام لیں(الفتاوی الشاذلیہ ،غیر مطبوعہ)
اسی طرح المعاییر الشرعیہ میں ہے:یجوز العربون فی عقود المعاوضات التی لایشترط لصحتھا تسلیم البدلین او احد ھما سواء کان المعقود علیہ معینا او موصوفا فی الذمۃ مثل البیع و الاستصناع و الاجارۃ المعینۃ والموصوفۃ فی الذمۃ ۔ترجمہ:عربون ان عقود میں جائز ہے جوایسے عقودِ معاوضہ ہوں جن کے صحیح ہونے کے لیے قیمت اور فروخت کردہ چیز دونوں پر یا ان میں سے کسی ایک پر قبضہ کرنا شرط نہ ہوخواہ جس چیز پر عقد ہوا ہے وہ کوئی متعین چیز ہو یا کوئی ایسی چیز ہو جس کی صفات متعین کردی گئی ہو ں مثلاً بیع، استصناع ،اجارہ معینہ اور اجارہ موصوف فی الذمہ۔(المعاییر الشرعیۃ ،ص:1258)
لیکن یہ بات ذہن نشین رہےکہ بیعانہ ضبط کرنے کا جواز صرف ضرورت کی بناء پراور ضرر سے بچنےکےلیےہوگا البتہ اگر خریدار مجبور ہے اورایسا کرنے کا عادی نہیں تو پھر بیعانہ ضبط کرنا کسی صورت جائز نہیں ہوگا،جیسا کہ اوپرذکر ہوا۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمداحمد امین قادری
تاريخ اجراء: 21صفر المظفر1443 ھ/29ستمبر 2021 ء