barsi ki sharai haisiyat o hukum
سوال
ہمارے علاقے میں وفات پانے والے افراد کی برسی منانے کا رواج ہے جس میں قران خوانی، دعائیں اور بعض اوقات کھانا وغیرہ کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے، میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اسلام میں برسی منانا جائز ہے کیا یہ دین میں ثابت ہے یا بدعت کے زمرے میں آتا ہے؟
برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی فتوی عطا فرمائے تاکہ ہم صحیح اسلامی طریقہ کار اختیار کر سکے آپ کی رہنمائی ہمارے لیے باعث برکت ہوگی ۔
سائل:صہیب خان :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سوئم /تیجہ،دسواں، بیسواں، چالیسواں ، برسی وغیرہ سب ایصال ثواب کی صورتیں ہیں، ایصابِ ثواب کا مطلب ہے اپنے کسی نیک عمل کا ثواب کسی دوسرے مسلمان کو پہنچانا ۔ ان تمام چیزوں میں بھی یہی معنٰی بعینہ موجود ہے یعنی ان میں پسماندگان کی جانب سے قرآن مجید، درود شریف، کلمہ شریف، وغیرہ پڑھ کر اپنے مرحومین کو اسکا ثواب پہنچایا جاتا ہے۔ بلاشک و شبہ یہ سب امور شرعاً جائز بلکہ مستحب ہیں۔ قرآن مجید ،احادیث طیبہ وآثار وغیرہ کی رو سے ایصالِ ثواب ثابت ہے۔
اللہ تعالٰی کا فرمان ہے: وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۰)ترجمہ:اوران کے بعد آنے والے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کیلئے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، بہت رحمت والا ہے۔(سورۃ الحشر: آیت 10)
اس آیت میں واضح فرمایا کہ بعد والے پہلے والوں کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور ایصال ثواب کی محفل میں بھی اصل یہی ہوتا ہے۔
صحیح بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها: أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم: إن أمي افتلتت نفسها، وأظنها لو تكلمت تصدقت، فهل لها أجر إن تصدقت عنها؟ قال: نعم ۔ترجمہ :حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کی کہ میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اگر وہ کچھ کہتیں تو صدقے کا کہتیں پَس اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اُنہیں ثواب پہنچے گا فرمایا: ’’ہاں‘‘۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 1388)
مسلم شریف میں ہے: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة: إلا من صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعو له ۔ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے (وہ منقطع نہیں ہوتے) صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے۔(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1631)
یونہی سنن ابو داؤد میں ہے: عن سعد بن عبادة، أنه قال: يا رسول الله، إن أم سعد ماتت، فأي الصدقة أفضل؟، قال: «الماء» ، قال: فحفر بئرا، وقال: هذه لأم سعد۔ترجمہ:حضرت سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ اُنہوں نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی:یارسولَ اللّٰہ میری ماں کا انتقا ل ہو گیا ہے، اُ ن کے لیے کون سا صدقہ افضل ہے؟آپ نے ارشاد فرمایا: پانی، تو حضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ کنواں سعد کی ماں کے لیے ہے۔ یعنی اس کا ثواب ان کی روح کو ملے۔(ابو داود،کتاب الزکاة، باب فی فضل سقی الماءحدیث:1681)
امام بیھقی شعب الایمان میں روایت کرتے ہیں: عن عبد الله بن عباس قال: قال النبي ﷺ:«ما الميت في القبر إلا كالغريق المتغوث ينتظر دعوة تلحقه من أب أو أم أو أخ أو صديق فإذا لحقته كان أحب إليه من الدنيا وما فيها وإن الله ليدخل على أهل القبور من دعاء أهل الأرض أمثال الجبال وإن هدية الأحياء إلى الأموات الإستغفار لهم۔ ترجمہ: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میت قبر میں ، ڈوبتے ہوئے فریاد کرنے والے کی طرح ہے، وہ باپ یا ماں یا بھائی یا دوست کی طرف سے پہنچنے والی دعا کی منتظر رہتی ہے، جب وہ اسے پہنچ جاتی ہے تو وہ اس کے لیے دنیا و مافیہا سے بہتر ہوتی ہے، اور بے شک اللہ تعالیٰ دنیاوالوں کی دعاؤں سے اہل قبور پر پہاڑوں جتنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور زندوں کا مردوں کے لئے تحفہ ان کے لئے استغفار کرنا ہے۔(شعب الایمان ، حدیث نمبر 7527)
علامہ عینی رحمہ اللہ نے اس مسئلے پر بخاری شریف کی شرح میں مفصل بحث فرمائی ہےاور اسکے جواز پر قرآن و حدیث سے دلائل نقل فرمائے ہیں چناچہ لکھتے ہیں: أجمع الْعلمَاء على أَن الدُّعَاء يَنْفَعهُمْ ويصلهم ثَوَابه، لقَوْله تَعَالَى: {وَالَّذين جَاءُوا من بعدهمْ يَقُولُونَ رَبنَا اغْفِر لنا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذين سبقُونَا بالايمان} (الْحَشْر: 59) وَغير ذَلِك من الْآيَات، وبالاحاديث الْمَشْهُورَة مِنْهَا: قَوْله، صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: (اللَّهُمَّ اغْفِر لأهل بَقِيع الْغَرْقَد) ، وَمِنْهَا قَوْله، صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: (اللَّهُمَّ اغْفِر لحينا وميتنا) ، وَغير ذَلِك. فان قلت: هَل يبلغ ثَوَاب الصَّوْم أَو الصَّدَقَة أَو الْعتْق؟ قلت: روى أَبُو بكر النجار فِي كتاب (السّنَن) من حَدِيث عَمْرو بن شُعَيْب عَن أَبِيه عَن جده: (أَنه سَأَلَ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، فَقَالَ: يَا رَسُول الله، إِن الْعَاصِ بن وَائِل كَانَ نذر فِي الْجَاهِلِيَّة أَن ينْحَر مائَة بَدَنَة، وَإِن هِشَام بن الْعَاصِ نحر حِصَّته خمسين، أفيجزىء عَنهُ؟ فَقَالَ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: إِن أَبَاك لَو كَانَ أقرّ بِالتَّوْحِيدِ فَصمت عَنهُ أَو تَصَدَّقت عَنهُ أَو أعتقت عَنهُ بلغه ذَلِك) . وروى الدَّارَقُطْنِيّ: (قَالَ رجل: يَا رَسُول الله كَيفَ أبر أَبَوي بعد مَوْتهمَا؟ فَقَالَ: إِن من الْبر بعد الْمَوْت أَن تصلي لَهما مَعَ صَلَاتك، وَأَن تَصُوم لَهما مَعَ صيامك، وَأَن تصدق عَنْهُمَا مَعَ صدقتك) . وَفِي كتاب القَاضِي الإِمَام أبي الْحُسَيْن بن الْفراء، عَن أنس، رَضِي الله تَعَالَى عَنهُ: (أَنه سَأَلَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، فَقَالَ: يَا رَسُول الله إِذا نتصدق عَن مَوتَانا ونحج عَنْهُم وندعو لَهُم فَهَل يصل ذَلِك اليهم؟ قَالَ: نعم، ويفرحون بِهِ كَمَا يفرح أحدكُم بالطبق إِذا أهدي إِلَيْهِ) . وَعَن سعد: (أَنه قَالَ: يَا رَسُول الله إِن أبي مَاتَ، أفاعتق عَنهُ؟ قَالَ: نعم) . وَعَن ابي جَعْفَر مُحَمَّد بن عَليّ بن حُسَيْن: (أَن الْحسن وَالْحُسَيْن، رَضِي الله عَنْهُمَا، كَانَا يعتقان عَن عَليّ، رَضِي الله تَعَالَى عَنهُ) . وَفِي (الصَّحِيح) (قَالَ رجل: يَا رَسُول الله إِن أُمِّي توفيت، أينفعها أَن أَتصدق عَنْهَا؟ قَالَ: نعم) ۔ترجمہ: تمام علما کا اتفاق ہے کہ دعا مردوں کو فائدہ پہنچاتی ہے اور اس کا ثواب ان تک پہنچتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اور جو لوگ ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں: ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے بھائیوں کو معاف فرما جو ایمان لانے میں ہم سے پہلے تھے} (الحشر: 59) اور اس کے علاوہ دیگر آیات میں بھی اسی مضمون کی تائید کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مشہور احادیث میں سے ہے: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: "اللہ! بقیع الغرقد کے لوگوں کو معاف فرما"، اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: "اللہ! ہمارے زندوں اور مردوں کو معاف فرما۔ اگر آپ یہ سوال کریں کہ کیا روزہ، صدقہ یا عتق کا ثواب مردوں تک پہنچتا ہے؟ تو اس کا جواب ہے: ابو بکر النجار نے کتاب "السّنن" میں عمرو بن شعیب کے حوالے سے ایک حدیث روایت کی ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: "یا رسول اللہ! حضرت عاص بن وائل نے جہالت کے دور میں سو اونٹ ذبح کرنے کا نذر کیا تھا، اور ہشام بن عاص نے اس کا نصف یعنی پچاس اونٹ ذبح کیے، کیا اس کا ان کے لئے فائدہ ہوگا؟" تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر تمہارے والدین نے توحید کا اقرار کیا ہوتا تو تم ان کی طرف سے روزہ رکھ سکتے ہو، صدقہ دے سکتے ہو، یا انہیں آزاد کر سکتے ہو، اور اس کا ثواب ان تک پہنچتا۔اور دارقطنی کی روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: "یا رسول اللہ، میں اپنے والدین کی وفات کے بعد کس طرح ان کے ساتھ حسن سلوک کر سکتا ہوں؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وفات کے بعد حسن سلوک میں یہ ہے کہ تم ان کی طرف سے نماز پڑھو، ان کی طرف سے روزہ رکھو، اور ان کے لیے صدقہ دو۔اسی طرح قاضی امام ابو الحسین بن الفراء نے کتاب میں بیان کیا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: "یا رسول اللہ! اگر ہم اپنے فوت شدہ عزیزوں کی طرف سے صدقہ دیں، حج کریں اور ان کے لیے دعا کریں، کیا یہ ان تک پہنچے گا؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں، یہ ان تک پہنچتا ہے اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں جیسے تم میں سے کوئی شخص کسی کو کھانا تحفے میں دے تو خوش ہوتا ہے۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: "یا رسول اللہ! میرے والد کی وفات ہو گئی، کیا میں ان کی طرف سے آزاد کر سکتا ہوں؟" تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔اسی طرح ابو جعفر محمد بن علی بن حسین سے روایت ہے کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما اپنے والد علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے غلام آزاد کرتے تھے۔صحیح مسلم میں ایک اور حدیث ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: "یا رسول اللہ! میری والدہ وفات پا چکی ہیں، کیا اس کے لیے صدقہ دینے سے فائدہ ہو گا؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں، یہ اس کے لیے فائدہ مند ہوگا۔(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد 3 ص 119)
روحیں ایصال ثواب پر خوش ہوتی ہیں چناچہ حضرت انس سے ایک واضح حدیث مردی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :«مَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَمُوتُ مِنْهُمْ مَيِّتٌ فَيَتَصَدَّقُونَ عَنْهُ بَعْدَ مَوْتِهِ، إِلَّا أَهْدَاهَا إِلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى طَبَقٍ مِنْ نُورٍ، ثُمَّ يَقِفُ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، فَيَقُولُ: يَا صَاحِبَ الْقَبْرِ الْعَمِيقِ، هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَاهَا إِلَيْكَ أَهْلُكَ فَاقْبَلْهَا، فَيَدْخُلُ عَلَيْهِ، فَيَفُرَحُ بِهَا وَيَسْتَبْشِرُ، وَيَحْزَنُ جِيرَانُهُ الَّذِينَ لَا يُهْدَى إِلَيْهِمْ بِشَيْءٍ»ترجمہ: جب گھر والوں میں سے کوئی ایک وفات پا جاتا ہے پھر گھر والے اس فوت شدہ کی طرف سے ایصال ثواب کرتے ہیں تو اس کے اس ثواب کا تحفہ جبریل ایک خوبصورت تھال میں رکھ کر اس قبر والے کے سرہانے جاکر پیش کرتے ہیں کہ تیرے فلاں عزیز نے یہ ثواب کا تحفہ بھیجا ہے ، تم اسے قبول کرو ،وہ میت اس تحفہ کو قبول کرلیتی ہے اور اس پر خوش ہوتی ہے ،اور دوسری میتوں کو خوشخبری سناتی ہے پھر اس میت کے وہ پڑوسی جن کو اس قسم کا تحفہ نہ ملا ہووہ اس پر غمگین ہوتے ہیں۔(المعجم الاوسط للطبرانی ، جلد 6ص 314 حدیث نمبر 6504)
حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما سےرِوایت ہے:مؤمنین کی رُوحیں روزِعید، روزِعاشورا( 10 مُحرَّمُ الْحَرَام)،رَجَب کے
مہینے کے پہلے جُمُعَۃُالمُبارک اور شبِِ بَرأ ت کو اپنے گھر آکر باہر کھڑی رہتی ہیں اور کہتی ہیں:آج کی رات (ہمارےایصالِ ثواب کی نیَّت سے)صَدَقہ کرکے ہم پر مہر بانی کرو! اگرچہ ایک روٹی ہی سَہی،کیونکہ ہم اِس کے محتاج ہیں۔اگر گھر والے اِیصالِ ثواب نہ کریں تو وہ حسرت کے ساتھ لوٹ جاتی ہیں۔(الجنۃ والنار و فقد الاولاد،ص33)
مراقی الفلاح میں ہے: فلإنسان أن يجعل ثواب عمله بغيره عند أهل السنة والجماعة صلاة أو صوما أو حجا أو صدقة أو قراءة قرآن أو الأذكار أو غير ذلك من أنواع البر ويصل ذلك إلى الميت وينفعه۔ ترجمہ : اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک انسان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے عملِ صالح کا ثواب کسی دوسرے کو پہنچا دے، خواہ وہ نماز ہو، روزہ ہو، حج ہو، صدقہ ہو، تلاوتِ قرآن ہو، اذکار ہوں یا دیگر نیک اعمال۔ یہ سب امور میت کو پہنچتے ہیں اور اس کے لیے نفع بخش ہوتے ہیں۔ (مراقي الفلاح شرح متن نور الإيضاح،كتاب الصلاة، باب أحكام الجنائز، فصل في زيارة القبور،ص:229،المكتبة العصرية)
امام اہلسنت امام احمدرضا خان فرماتے ہیں: مسلمان مُردوں کو ثواب پہنچانا اور اجر ہدیہ کرنا ایک پسندیدہ اور شریعت میں مندوب امرہےجس پر تمام اہلسنت وجماعت کا اجماع ہے، اس عمل کاانکار وہی کرے گا جو بے وقوف جاہل یا گمراہ صاحبِ باطل ہو۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 9 صفحہ 570)
یاد رہے سوئم دسواں چالیسواں برسی کے سلسلے میں یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ اہلسنت کا بلکل یہ عقیدہ نہیں کہ ان دنوں کی تعیین واجب ہے بلکہ لوگوں کی آسانی کیلئے یہ دن رکھے جاتے ہیں کہ معروف ہیں یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات تیجے کا ختم دوسرے دن بھی دلایا جاتا ہے یونہی چالیسویں کا ختم ایک ہفتے یا پندرہ دن بعد بھی رکھ دیا جاتا ہے بلکہ بعض حضرات تو تیسرے دن ہی چالیسویں کا ختم دلوادیتے ہیں اور کوئی بھی اہلسنت کا مفتی ناجائز نہیں کہتا۔
ایصالِ ثواب کے لئے نہ کسی وقت کو معیّن کرنا ضروری ہے نہ کسی عمل کو ۔بغیر کسی قید کے جب بھی چاہیں ، کو ئی نیک عمل کرکے میّت کو ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں، چاہے کوئی صدقہ کرے یا مدرسہ ومسجد بنا دے، میّت کی طرف سے حج کرے ، قرآنِ پاک کی تلاوت کرکے ثواب پہنچائے یہی کام کسی دن کو معیّن کرکے کئے جائیں اس میں بھی حرج نہیں کہ دن معیّن کرنے سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگ جمع ہوجائیں اور اہتمام کے ساتھ عملِ خیر کیا جائے تعیین شرعاً منع نہیں ہے جیساکہ نمازِ باجماعت میں لوگوں کی آسانی کے لئے ایک وقت مُقرّر کردینا ، کسی دینی اجتماع مَحافل یا شادی بیاہ وغیرہ کے لئے دن و تاریخ معیّن کردینا جائز ہے ۔ہاں البتہ اسی تعیین کو ضروری سمجھنا کہ اس کے بغیر ایصالِ ثواب نہ ہو گا یہ درست نہیں جاہلانہ خیال ہے اس سے باز رہنا ضروری ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: شعبان المعظم 1446ھ/ 27 فروری 2024 ء