بالغہ لڑکی کا خفیہ نکاح
    تاریخ: 22 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 73
    حوالہ: 21

    سوال

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں* : ایک لڑکی جس کی عمر تقریباً 18 سال ہے اور وہ میمن برادری سے تعلق رکھتی ہے، اُس نے اپنے گھر والوں سے چھپ کر ایک لڑکے سے نکاح کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لڑکا بھی تقریباً 18 سال کا ہے اور وہ سندھی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ دونوں کے خاندان، برادری اور رہن سہن میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ جب لڑکی نے اپنے گھر والوں کو یہ بات بتائی تو اُنہیں اس نکاح پر یقین نہیں ہوا، کیونکہ لڑکی نہ تو کسی نکاح خواں (مولوی صاحب) کا نام بتا رہی ہے اور نہ ہی کسی گواہ کا۔ صرف یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ہم دونوں نے آپس میں نکاح کر لیا ہے۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ: کیا اس طرح، جبکہ لڑکا اور لڑکی صرف نکاح کا دعویٰ کر رہے ہوں، اور نہ نکاح خواں کا نام بتا رہے ہوں، نہ گواہوں کے نام بتائے جا رہے ہوں، تو ایسی صورت میں شرعاً نکاح منعقد ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ کسی طرح نکاح کیا بھی گیا ہو، لیکن والدین اس نکاح پر راضی نہیں ہیں، تو کیا والدین کی اجازت کے بغیر اس نوعیت کا نکاح شرعاً درست اور معتبر شمار ہو گا یا نہیں؟

    سائل: *قادری جیلانی*

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر مذکورہ نکاح شرائطِ نکاح (یعنی ایجاب و قبول، گواہان اور دیگر شرائط کے ساتھ)کے ساتھ ہوا تو قضاءً یہ نکاح درست منعقد ہوگیا۔اس میں کسی کو اعتراض و بدگمانی کی گنجائش نہیں۔ محض یہ بات کہ لڑکی نکاح خواں اور گواہوں کا نام نہیں بتارہی نکاح کو باطل نہیں کرتی۔

    نیز والدین کی اجازت کے بغیر اگر بالغہ لڑکی کفو میں نکاح کرتی ہے تو بلا شبہ منعقد ہوتا ہے۔ البتہ اگر اولیاء ناراض ہوں تواس کا گناہ ضرور ہے۔لیکن اگر بالغہ لڑکی غیر کفو میں نکاح کرلے تو نکاح اصلاً نہیں ہوگا ، لیکن اگر اس نکاح سے پہلے ولی نے جانتے بوجھتے نکاح کی صراحتاً (واضح الفاظ میں) اجازت دے دی ہوتو یہ غیر کفو کا نکاح بھی جائز ہوگا۔ یاد رہے یہاں غیر کفو سے مراد مذہب یا نسب یا پیشے یامال یا کردار میں مرد عورت سے ایسا کم ہو کہ اس کے ساتھ ا س کا نکاح ہونا لڑکی کے اولیاء کیلئے عار و بدنامی ہو ۔محض قومیت مختلف ہونا غیر کفو ہونا نہیں کہ میمن اور سندھی اگرچہ ایک قوم نہیں لیکن صرف یہ وجہ غیر کفو ہونا ثابت نہیں کرتی۔ لہذا اگر لڑکا شرعی معنی میں تو کفو ہو (یعنی شوہر ایسا ہو کہ مذہب یا نسب یا پیشے یامال یا کردار میں مرد عورت سے ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ ا س کا نکاح ہونا لڑکی کے اولیاء کیلئے عار و بدنامی ہو) لیکن قومیت الگ ہو تو بلا شبہ بالغہ کا اولیاء کی اجازت کے بغیر یہ نکاح منعقد ہوگا۔

    ہاں، وہ روایات جن میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی نفی کی گئی جیسے ’’لا نکاح الا بولی‘‘ (ولی کے بغیرنکاح نہیں ہے)، اس قسم کی روایات کا تعلق نابالغہ ، مجنون اور باندی سے ہے، یعنی ایسی عورتوں کا نکاح ان کے ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا۔اگر اس روایت کے ظاہری الفاظ کو لیں تو یہ روایت نفیِ کمال پر محمول ہوگی یعنی اصل نکاح تو منعقد ہوجائے گا، لیکن افضل اور بہتر یہ ہے کہ عورت ولی کی اجازت سے اپنا نکاح کرے۔پھر محدثین کرام نے بھی اِن روایات کی فنی حیثیت پر کلام ہے، کہ یہ روایات اس درجہ کی نہیں ہیں کہ انہیں امام اعظم رحمہ اللہ کے موقف کے مقابلے میں بطور دلیل اختیار کیا جا سکے۔جس کی تفصیل عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں موجود ہے۔

    لہذا یہاں یہ خیال درست نہیں کہ ہر لڑکی کا نکاح بغیر ولی کے نہیں ہوتااور اسکے نکاح میں ولی کا ہونا لازم ہے؛کیونکہ قرآن مجید میں اللہ رب العزّت نے نکاح کرنے کی نسبت عورت کی طرف کی نہ کہ ولی کی طرف۔چنانچہ ارشاد ہوا : حَتَّى تَنْكِحَ.یعنی حتی کہ وہ عورت نکاح کرے۔(البقرۃ:230) پھر صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ’’ایم‘‘)وہ عورت جس کا کوئی شوہر نہ ہو خواہ وہ باکرہ ہو یا نہ ہو)بالغہ اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے۔(صحیح مسلم: 1421) نیز غیر کفو میں بالغہ عورت کے نکاح کا باطل ہونا ان روایات کی بنیاد پر نہیں بلکہ فسادِ زمان کی وجہ سے ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    مرد و عورت کی باہمی تصدیق سے نکاح قضاء درست مانا جاتا ہے، فقیہ النفس امام حسن بن منصور قاضی خان(المتوفی:592ھ) فرماتے ہیں: "ولو وكل رجلاً ليزوجه امرأة فزوجه امرأة ثم اختلف الزوج والوكيل فقال الزوج زوجتني هذه وقال الوكيل بل زوجتك هذه الأخرى كان القول قول الزوج إذا صدقته المرأة في ذلك لأنهما تصادقا على النكاح فيثبت النكاح بتصادقهما وهذه المسئلة دليل على أن النكاح يثبت بالتصادق".ترجمہ: اور اگر کسی شخص نے ایک آدمی کو وکیل بنایا کہ وہ اس کا کسی عورت سے نکاح کروا دے، اور اس وکیل نے اس کا نکاح ایک عورت سے کر دیا، پھر شوہر اور وکیل میں اختلاف ہو گیا،شوہر نے کہا: تم نے میرا نکاح اس عورت سے کروایا تھا، جبکہ وکیل نے کہا: بلکہ میں نے تمہارا نکاح اس دوسری عورت سے کروایا تھا، تو شوہر کی بات قابل قبول ہوگی، بشرطیکہ وہ عورت بھی اس کی تصدیق کرے۔کیونکہ ان دونوں (مرد و عورت) نے نکاح پر باہمی تصدیق کر دی ہے، لہٰذا ان کے تصدیق کرنے سے نکاح ثابت ہو جائے گا۔ اور یہ مسئلہ اس بات کی دلیل ہے کہ نکاح باہمی تصدیق سے بھی ثابت ہو جاتا ہے۔ (فتاوی قاضی خان، کتاب النکاح، 1/305، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’فاقول وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الٰی اوج التحقیق (پس میں کہتا ہوں اللہ تعالٰی کی توفیق سے اور تحقیق کی بلندی تک پہنچنا اسی کی مدد سے ہے) اس میں شک نہیں کہ حکم قضا میں نکاح تصادق مرد وزن سے ثابت ہوجاتا ہے یعنی جب وہ دونوں اقرار کریں کہ ہم زوج وزوجہ ہیں یا باہم نکاح ہوگیا ہے یا اور الفاظ جو اس معنی کومودی ہوں تو بلاشبہہ انھیں زوج وزوجہ جانیں گے اور قضاءً تمام احکام زوجیت ثابت ہوں گے بلکہ عندالناس اس سے بھی کمتر امر ثبوت نکاح کو کافی ہے جب مرد وزن کو دیکھے مثل زن وشو ایک مکان میں رہتے اور باہم انبساط زن وشوئی رکھتے ہیں تو ان پر بدگمانی حرام، اوران کے زوج و زوجہ ہونے پر گواہی دینی جائز، اگرچہ عقدِنکاح کا معائنہ نہ کیا ہو... اسی طرح تسامع بھی سامعین کے نزدیک اثبات نکاح کو بس ہوتا ہے یعنی جب ان کا زوج وزوجہ ہونا لوگوں میں مشہور ہو تو انھیں یہی سمجھا جائے گا، اور زوجیت پر شہادت رواہوگی اگرچہ خود ان کی زبان سے اقرار نہ سنا ہو... تو ان کا باہم تصادق بدرجہ اولٰی مثبت نکاح،فی الشامیۃ عن ابی السعود عن العلامۃ الحانوتی صرحوا بان النکاح یثبت بالتصادق والمراد منہ ان القاضی یثبتہ بہ ویحکم بہ اھ ملخصا.ترجمہ: فتاوٰی شامی میں ہے ابی سعود کی علامہ حانوتی سے راویت ہے کہ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ مرد وعورت کی آپس میں خاوند بیوی ہونے کی تصدیق سے نکاح ثابت ہوجائے گا اس سے مراد یہ ہے کہ قاضی اس نکاح کو ثابت قرار دے گا اور اس کو نافذ رکھے گا۔ (رد المحتار، کتاب النکاح)۔ پس ایسی صورت میں واجب ہے کہ انھیں زوج وزوجہ ہی تصور کیا جائے گا جو خواہی نخواہی ان کی تکذیب کرے گا اور بدگمانی کے ساتھ پیش آئے گا مرتکب حرام قطعی ہوگا۔ باایں ہمہ حکم قضا اور ہے اور امر دیانت اور چیز، اگر وہ اپنے اظہار واخبار میں حقیقۃً سچے ہوں یعنی واقع میں ان کے باہم نکاح ہو لیا ہے تو عنداللہ بھی زوج و زوجہ ہیں ورنہ مجرد ان الفاظ سے جبکہ بطور اخبار بیان میں آئے ہوں نکاح منعقد نہ ہوگا وہ بدستور اجنبی و اجنبیہ رہیں گے، نکاح جن امور وافعال کو ثابت وحلال کرتا ہے دیانۃً ان کے لیے اصلاً ثابت وروا نہ ہوں گے کہ اس تقدیر پر یہ الفاظ کوئی عقد وانشا نہ تھے محض جھوٹی خبر تھی اور جھوٹی خبر دیانۃً باطل و بے اثر‘‘۔ (فتاوی رضویہ،رسالہ: عباب الانوار ان لا نکاح بمجرد الاقرار ، 11/122-123، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    بالغہ لڑکے کے نکاح سے متعلق صحیح مسلم میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: "الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا".ترجمہ: ایم اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے۔(صحیح مسلم،کتاب النکاح، باب استئذان الثيب في النكاح بالنطق،2/1037،رقم:1421،دار احیاء التراث العربی)

    اور ’’ایم‘‘ عورت سے متعلق علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"وَالْأَيِّمُ مَنْ لَا زَوْجَ لَهَا بِكْرًا أَوْ لَا".ترجمہ:الایم وہ عورت ہے جس کا کوئی شوہر نہ ہو خواہ وہ باکرہ ہو یا نہ ہو۔(رد المحتار،کتاب النکاح،باب الولی،3/56،دار الفکر)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’حدیث میں جو ارشاد ہوا "لا نكاح إلا بولي و شاهدي عدل" (ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں) نفی بمعنی نہی ہے اور منافی صحت نہیں بلکہ ہمارے نزدیک یہ نہی ارشادی ہے کہ بالغہ کے نکاح میں ولی بھی شرط نہیں، واللہ تعالی اعلم‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 11 /305،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فقیہ اعظم ہند مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (المتوفی:1421ھ)فرماتے ہیں:’’حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب یہی ہے کہ عورت خواہ کنواری ہویا ثیب،بالغ ہو یا نا بالغ بغیر ولی کی اجازت کے اگر وہ نکاح کرے تو نکاح نہ ہوگا۔یہی مذہب امام بخاری کا بھی ہے۔ اس کی دلیل میں ابو داؤد اور ترمذی کی وہ حدیث پیش کرتے ہیں جو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺنے فرمایا "لا نکاح الا بولی"بغیر ولی کے نکاح نہیں۔

    علامہ بدرالدین محمود عینی نے اس پر بہت کلام فرمایا ہے۔ پھر امام بخاری نے ان آیتوں سے استدلال فرمایا: پہلی آیت سورہ بقرہ کی ہے کہ فرمایا:وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ(البقرۃ:232) ترجمہ:جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو انہیں اپنے سابق شوہروں کے ساتھ نکاح کرنے سے نہ روکو ۔امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ اگر اولیاء کو نکاح کرنے کا حق نہ ہوتا تو روکنے کا حق بھی نہ ہوتا۔ ہمارا یہ کہنا ہے کہ اس آیت میں خطاب طلاق دینے والے سابق شوہروں سے ہے کہ جب تم اسے طلاق دے چکے تو تم کو یہ حق نہ رہا کہ اگر وہ کسی پسندیدہ شخص سے نکاح کرنا چاہیں تو انہیں روکو۔اور انہیں ازواج باعتبار مایؤل کے کہا گیا ہے۔یا خطاب اولیاء ہی سے جانا جائے تو اس کا حاصل یہ ہے کہ بعض دفعہ اولیاء عورتوں کو بلا استحقاق کے بھی اپنی خواہش کا پابند رکھنا چاہتے ہیں اور عرف میں شادی کے معاملے میں بلا اجازت شرع سارا حق اپنے لیے محفوظ رکھتے ہیں۔اب آیت کا مطلب یہ ہوا کہ تمہیں نکاح کرنے سے روکنے کا حق نہیں تم نے زبردستی یہ اپنا حق بنا لیا ہے یعنی لوگوں کی عادت کی بنا پر یہ حکم دیا گیا ہے۔اس طرح یہ آیت ہماری مؤید ہو جائے گی۔مطلب یہ ہوگا کہ تمہیں روکنے کا حق نہیں۔دوسری آیت یہ پیش کی ہے:وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْاؕ(البقرۃ:221)ترجمہ:اور مشرکین سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں۔ ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اس ارشاد سےوَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ(المآئدۃ:5)نیز ایسی صورت میں اولیاء کے لیے حق نکاح ثابت کرنا صحیح نہ ہو گا۔تیسری آیت یہ پیش کی ہے:وَاَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْؕ(البقرۃ:221)

    ترجمہ: اپنے میں سے بے شوہر عورتوں کا اور اپنے نیک غلاموں کا نکاح کرو۔اس کا جواب یہ ہےکہ ایم جس کی جمع ایامی ہے،اس عورت کو بھی کہتے ہیں جس کا شوہر نہ ہو اور اس مرد کو بھی کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو تو اگر وَاَنْكِحُواسے ولایت ِنکاح مراد لی جائے تو لازم آئے گا کہ مرد کا بھی نکاح بغیر ولی کے صحیح نہ ہو حالانکہ اس کا قائل کوئی نہیں ‘‘۔(نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری،کتاب النکاح،5/300،فرید بک اسٹال)

    بالغہ لڑکے کے نکاح میں ولی کی شرط نہیں، علامہ ابوالحسین احمد بن محمدبن احمدالقدوری (المتوفی: 448ھ)فرماتے ہیں: "وينعقد نكاح المرأة الحرة البالغة العاقلة برضاها وإن لم يعقد عليها ولي عند أبي حنيفة بكر كانت أو ثيبا".ترجمہ: امام اعظم امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک، آزاد عاقلہ بالغہ عورت کنواری ہو ہا نہ ہو اس کا نکاح اس کی مرضی سے منعقد ہوجاتا ہے اگرچہ ولی نے نکاح نہ کروایا ہو۔ (مختصر القدوری، کتاب النکاح، ص: 146، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    بالغہ لڑکی کے از خود کئے نکاح سے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’بالغہ جو بے رضائے ولی بطور خود اپنا نکاح خفیہ خواہ اعلانیہ کرے، اس کے انعقاد وصحت کے لیے یہ شرط ہے کہ شوہر اس کا کفو ہویعنی مذہب یا نسب یا پیشے یامال یا چلن میں عورت سے ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ ا س کا نکاح ہونا اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار وبدنامی ہو، اگر ایساہے تو وہ نکاح نہ ہوگا... مال میں کفاءت کو صرف اس قدر كفايت کہ وہ شخص اگر پیشہ ور ہو تو روز کا روز اتنا کماتا ہو جو اس عورت غنیہ کے قابل کفایت روزانہ دے سکے، اور پیشہ ورنہیں تو ایک مہینہ کا نفقہ دے سکے، اور مہر جس قدر معجل ٹھہر ے اس کے ادا پر قدرت بہرحال درکار ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ ،11/214-215،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اور غیر کفو میں بالغہ کے نکاح سے متعلق آپ علیہ الرحمہ ہی فرماتے ہیں:’’شرع میں غیر کفو وہ ہے کہ نسب یا مذہب یا پیشے یا چال چلن میں ایسا کم ہو کہ اس کے ساتھ عورت کا نکاح اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار ہو، ایسے شخص سے اگر بالغہ بطورخودنکاح کرے گی نکاح ہوگا ہی نہیں اگرچہ نہ ولی نے منع کیا ہو نہ اس کے خلاف مرضی ہو۔ یہ نکاح اس صورت میں جائز ہوسکے گاکہ ولی نے پیش از نکاح اس غیر کفو بمعنٰی مذکور کی حالت مذکورہ پر مطلع ہوکر دیدہ ودانستہ صراحۃً بالغہ کو اس کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت دے دی ہو، ان میں سے ایک شرط بھی کم ہو تو بالغہ کا کیا ہوا وہ نکاح باطل محض ہوگا اور ولی کو اس کے فسخ کرنے یا اس کا فسخ چاہنے کی کیا حاجت کہ فسخ تو جب ہو کہ نکاح ہولیا ہو، یہ تو سرے سے ہوا ہی نہیں... ہاں عوام کے محاورہ میں غیر کفو اسے کہتے ہیں جو اپنا ہم قوم نہ ہو مثلا سید و شیخ یا شیخ اور پٹھان یا پٹھان اور مغل، ایسا غیر کفو اگر اس شرعی معنی پرغیر کفو نہ ہو تو بالغہ کا بے اذن ولی بلکہ بناراضی ولی اس سے نکاح کرلینا جائز ہے اور ولی کو اس پر کوئی حق اعتراض نہیں۔(فتاوی رضویہ ، 11 /280،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    والدین کو ناراض کرکے شادی کرنے پر امام اہلسنت رحمہ اللہ نے فرمایا:’’اگر کفو ہے تووالدین کو ناراض کرکے عورت کا بطور خود نکاح کرلینا خصوصاً وہ بھی اس طورپر جا کر عور ت کے لیے سخت محرومی وناراضی الہٰی کا باعث ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ، 11 /292،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:6 جمادی الاولی 1447ھ/29 أكتوبر 2025ء