bai ke aik muahiday ka hukum
سوال
اگر کسی شخص یا کسی ادارہ سے ایک چیز طے کی جاتی ہے اور وہ اس معاہدہ کے خلاف ورزی کرتا ہے تو شریعت میں اسکا کیا حکم ہے، جائز ہے یا ناجائز ؟ مثلا ایک شخص کوئی چیز پھینک رہا ہوتا ہے ، اور دوسرا کہتا ہے کہ اسکو پھینکو مت میں آپکو اسکی قیمت دیتا ہوں اور ان کے درمیان ایک قیمت طے ہوجاتی ہے ۔ اور یہ طے ہوتا ہے کہ دن میں دو دفعہ مال اٹھانا ہے ایک صبح اور دوسرا شام میں ، اورپہلا شخص دوسرے کو اس کی قیمت جو طے ہوئی ہوتی ہے دے دیتا ہے اس دن کی بھی اور اس سے اگلے دن کی بھی ۔ پھر وہ دوسرا شخص پہلے دن صبح مال تو دیتا ہے لیکن پھر نہ شام کو مال دیتا ہے اور نہ اس سے اگلے دن مال دیتا ہے۔اور کہتا ہے کہ اب میرے پاس مال نہیں ہے کیونکہ میں نے مال کسی اور کو بیچ دیا ہے ۔ ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
سائل: محمد سلیم قریشی: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھے گئے سوال میں وہ چیز جس کا سودا کیا گیا اگر موجود تھی اور سودا اس طرح طے ہوا کہ پہلا شخص قیمت پر اور دوسرا مال لینے پر راضی ہوگیا اور پھر سودے میں طے ہونے کے بعد بائع یعنی بیچنے والے نے ایڈوانس قیمت بھی وصول کر لی تو اس پر لازم تھا کہ وہ چیز اس شخص کے حوالے کرتا جس سے سودا ہوا تھا، کیونکہ بیع ایجاب و قبول سے تام ہو جاتی ہے ۔اسکے بعد بائع (بیچنے والا)پر لازم کہ وہ مبیع (وہ چیز جو بیچی گئی ہے)مشتری (خریدار) کو دے دے اور مشتری پر لازم کہ وہ ثمن (قیمت ) بائع کو دے دے۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:وَحُكْمُهُ ثُبُوتُ الْمِلْكِ ای وجوب تسلیم المبیع للمشتری والثمن للبائع ترجمہ: اور بیع کا حکم یہ ہے کہ ملکیت ثابت ہوجاتی ہے یعنی خریدار پر قیمت اور بیچنے والے پر مبیع حوالے کرنا لازم ہے۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب البیوع جلد 7ص16)
اس تمام معاملے کے بعد اگربائع سے مبیع ہلاک ہوجائے یا بائع کی طرف سے خریدار کے حوالے نہ کیا جائے تو جتنا دے چکا اس کے علاوہ میں بیع باطل ہوجائے گی اور خریدار کو بقیہ رقم واپس کرنا ضروری ہوگا۔
الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:وإن كان الهلاك بفعل البائع فيبطل البيع بقدره، ويسقط عن المشتري حصة الهالك من الثمن، ترجمہ: اور جب مبیع بائع کے فعل سے ہلاک ہوجائے تو جتنا ہلاک ہوا اتنی مقدار میں بیع باطل ہوجائے گی، اور مشتری سے اتنی قیمت ساقط ہوجائے گی۔( الفقہ الاسلامی وادلتہ کتاب البیوع حکم ہلاک المبیع اوالثمن جلد 5ص3378)
اور وہ چیز جس کا سودا کیا گیا اگر موجودنہ تھی اور سودا طے ہوگیا تو یہ معدوم کی بیع ہے جتنی موجود اسکی بیع ہوگئی اور جتنی موجود نہیں اسکی بیع جائز نہیں ۔شامی میں ہےذَكَرَ فِي الْبَحْرِ أَنَّ مِنْ شَرَائِطِ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ أَنْ يَكُونَ مَوْجُودًا، فَلَمْ يَنْعَقِدْ بَيْعُ الْمَعْدُومِ ترجمہ:بحر میں مذکور ہے کہ معقود علیہ (جس کا سودا کیا گیا ہے) کی شرط یہ ہے کہ وہ موجود ہو لہذا معدوم کی بیع منعقد نہیں ہوگی۔( شامی کتاب البیوع جلد 5ص 30)
اس تمام کے باوجود یہ بائع کی جانب سے وعدہ خلافی بھی ہے جوکہ ایک گناہ ہے قال اللہ تعالیٰ :وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا ۔ ترجمہ: اور وعدہ پورا کرو بیشک وعدے سے متعلق سوال ہونا ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:07جمادی الاول 1442 ھ/23 دسمبر 2020 ء