بغیر قبضہ ملکیت کا حکم
    تاریخ: 3 مارچ، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 949

    سوال

    ایک خاتون کی دو بیٹیاں ہیں اس نے کسی وجہ سے دوسری شادی کی۔شوہر ثانی نے اپنے ذاتی پیسوں سے الگ جگہ خریدی اور سرکاری رجسٹریشن میں اس نے یہ پلاٹ اپنے اور اپنی اس زوجہ کے نام لکھوایا یعنی سرکاری کاغذات میں یہ پلاٹ دونوں میاں بیوی کے نام ہے ۔پھر شوہر نے اپنے ذاتی پیسوں سے اس پر مکان تعمیر کیا جس میں یہ دونوں میاں بیوی رہنے لگے۔اب یہ خاتون فوت ہوگئی ہیں۔سوال یہ ہے کہ اس مکان میں اس خاتون کی وراثت جاری ہوگی یا نہیں اور اگر ہوگی تو نفس پلاٹ میں ہوگی یا مکمل تعمیر شدہ مکان میں اور اگر صرف پلاٹ میں ہوگی تو مکمل پلاٹ میں یا صرف نصف پلاٹ میں،اس کی اس پلاٹ یا مکان والی میراث سے اس کی دوبیٹیوں کا کتنا حصہ ہوگا اور شوہر کا حصہ کتناہوگا؟

    نوٹ:فون پر اس بات کی وضاحت کی گئی کہ شوہر نے آدھاپلاٹ بیوی کے نام اس لیے کیا تھا تاکہ بیوی اور اسکی بیٹیوں کو شوہرکے ورثاء ضرر نہ پہنچائیں۔

    سائل :علامہ محمد شہباز ملک :سرگودھا


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پلاٹ وغیرہ کسی کے نام کرنا حکمِ ھبہ رکھتا ہے اور ھبہ میں قبضہ شرط ہے اگر شوہر نے یہ مکان محض کاغذات میں زوجہ کے نام کیا اور قبضہ نہ دیا تو یہ مکان شوہر کی ملکیت ہے ، خاتون کا اس میں کوئی شرعی حق نہیں ۔اور بالخصوص شوہر خود بھی اس میں رہتا رہا اور اپنا مال و اسباب بھی اسی میں رکھا اور کبھی تخلیہ کرکے زوجہ کو قبضہ نہ دیا حتٰی کہ زوجہ کا انتقال ہوگیا تو یہ ھبہ از سر باطل ہوگیا۔اب یہ مکان خاص ملکِ شوہر ہے بعد وفات شوہر اسکے ورثاء میں بحسبِ فرائض ورثاء منقسم ہوگا۔

    ھبہ سے متعلق تنویرالابصار میں ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)

    عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)

    الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل۔ترجمہ:''م'' سے مراد فریقین میں سے ایک کی موت بعد قبضہ ہے اور اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔(درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ،جلد 5ص701)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27محرم الحرام 1441 ھ/16ستمبر 2020 ء