آذان جمعہ کے وقت بیع کے احکام ومسائل
    تاریخ: 9 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 33
    حوالہ: 371

    سوال

    جمعہ کے روز اذان کے وقت کاروبار بند کرنے کا حکم ہے۔اس اذان سے مراد پہلی اذان ہے یا دوسری اذان ؟نیز اگر کسی نے کاروبار کی ا س پر کیا حکم لگے گا۔

    سائل:قاری خلیل الرحمن،گلشن اقبال کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جمعہ کی اذانِ اول سنتے ہی سعی واجب ہو جاتی ہے،یہاں تک کہ اس کے بعدہر قسم کی خرید و فروخت جو سعی کے منافی ہو یا نہ ہو ،جائز نہیں۔عوام الناس،خاص طور پر کاروباری حضرات اس حوالہ سے نہایت سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ،اذان جمعہ ہوجانے کے بعد بھی اپنے کاروباری مشاغل جاریرکھے ہوتے ہیں،جو کہ سرا سر اللہ تعالی کے حکم (جب نما زکے ليے جمعہ کے دن اذان دی جائے ،تو ذکر خدا کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو)کی خلاف ورزی ہے۔علامہ سید ابن عابدین شامی علیہالرحمہ نے تو نہر کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایسی بیع کا فسخ کرنا واجب ہے،چناچہ لکھتے ہیں : أَنَّ فَسْخَهُ وَاجِبٌ عَلَى كُلٍّ مِنْهُمَا أَيْضًا صَوْنًا لَهُمَا عَنْ الْمَحْظُورِ۔ترجمہ :لیکن نہر میں نہایہ کے حوالے سے ہے کہ اس بیع کا فسخ کرنا فریقین (بیع و مشتری )پر واجب ہےتا کہ وہ ممنوع سے بچ سکیں ۔(رد المحتار علی الدر المختار جلد05 صفحہ 101 دار الفکر بیروت) اورایسی خریدو فروخت سے حاصل شدہ کمائی صدقہ کی جائےگی۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے:ۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والوں!جب نما زکے ليے جمعہ کے دن اذان دی جائے ،تو ذکر خدا کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمھارے ليے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔(الجمعہ:06)

    یہاں پر آیت میں تین امور (سعی ،ذکر اور ندا) ہمارےمسئلہ سے متعلق ہیں ،چناچہذیل میں تینوں کے معانی ،اور پھر مختارمعنی بیان کیا جائےگا۔

    سعی:

    اس آیت میں مفسرین نے سعی کے چند معانی بیان کیے ہیں:(1)نیت کرنا یعنی دل سے کوئی کام کرنے کا ارادہکرنا(2) نماز کی طرف چل پڑنا،مگر بھاگتے ہوئے نہیں بلکہ وقار کے ساتھ ۔(3) عمل سے سعی کرنا یعنی اپنے عملسے سعی کرنا جس سے لگے کہ نمازِ جمعہ کے لیے کوشاں ہے مثلاً غسل کرنا،صاف کپڑے پہننا ،خوشبو لگانا وغیرہ ۔یہی قول جمہور علما ءکا ہے۔امام ابو الحسن ماوردی علیہ الرحمہ نے ایک اورمعنی بھی ذکر کیا ہے:اذان کی آواز پر لبیک کہنا ۔

    علامہ قرطبی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : أختلف في معنى السعي ها هنا عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْوَالٍ: أَوَّلُهَا: الْقَصْدُ. قَالَ الْحَسَنُ: وَاللَّهِ مَا هُوَ بِسَعْيٍ عَلَى الْأَقْدَامِ وَلَكِنَّهُ سَعْيٌ بِالْقُلُوبِ وَالنِّيَّةِ. الثَّانِي: أَنَّهُ الْعَمَلُ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: وَمَنْ أَرادَ الْآخِرَةَ وَسَعى لَها سَعْيَها وَهُوَ مُؤْمِنٌ [الاسراء: 19] وقوله: إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى ۔وَهَذَا قَوْلُ الْجُمْهُورِ.ترجمہ :آیت میں سعی کا معنی تین اقوال پر مشتمل ہے ۔پہلامعنی ہے ارادہ کرنا۔حضرت حسن سے مروی ہے اللہ کی قسم سعی سے مراد سعی بالاقدام نہیں بلکہ اس سے مراد دل سے ارادہ و نیت کرنا ہے ۔دوسرا معنی ہے عمل کرنا جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کااور جس نے آخرت کا ارادہ کیا اور آخرت کے لیے آخرت کا عمل کیا اور وہ ہو مومن۔اور اللہ تعالی کا فرمان :بے شک تمہارے کام مختلف ہیں ۔اور یہی جمہور کا قول ہے۔

    تیسرا معنی بیان کرتےہوئے لکھتے ہیں:أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ السَّعْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ. وَذَلِكَ فَضْلٌ وليس بشرط.ترجمہ سعی سے مراد سعی بالاقدام ہے۔اور یہ فضیلت ہے ،شرط نہیں ۔(تفسير القرطبي جلد 18،صفحہ 101 دار هجر للطباعة والنشر والتوزيع والإعلان)

    اکثر مفسرین و فقہاء نے سعی سے مراد سعی بالعمل کا قول کیا ہے، جیسا کہ امام فخر الدین الرازی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : والسعي هاهنا هُوَ الْعَمَلُ عِنْدَ قَوْمٍ، وَهُوَ مَذْهَبُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، إِذِ السَّعْيُ فِي كِتَابِ اللَّه الْعَمَلُ۔ترجمہ:یہاں پر ایک جماعت کے نزدیک سعی سے مراد سعی بالعمل ہے ۔یہی امام مالک و شافعی کا مذہب ہے۔کیوں کہ کتاب اللہ میں بھی سعی عمل کے لیے واقع ہوئی ہے۔( مفاتيح الغيب، المعروف باالتفسير الكبير جلد30صفحہ 542)

    ذکر:

    اور ذکر اللہ کی تفسیر میں تین اقوال ہیں:(1)خطبہ میں امام کی نصیحت۔(2) نماز کا وقت۔(3) نماز۔اکثر علمائے تفسیر کے نزدیکذکر سے مراد خطبہ ہے ۔اس لیے کہ جمعہ کا اہم ترین مقصود خطبہ ہے۔چناچہ امام فخر الدین الرازی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: وَقَوْلُهُ: إِلى ذِكْرِ اللَّهِ الذِّكْرُ هُوَ الْخُطْبَةُ عِنْدَ الْأَكْثَرِ مِنْ أَهْلِ التَّفْسِيرِ ترجمہ :اور اللہ تعالی کا فرمان:الی ذکراللہ میں ذکر سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیکخطبہ ہے۔( مفاتيح الغيب، المعروف باالتفسير الكبير جلد30صفحہ 542 دار إحياء التراث العربي - بيروت)

    کس ندا پر سعی واجب ہو تی ہے اور خرید و فروخت حرام :

    آقا کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے دورِ پاک میں سب اذانوں کی طرح جمعہ کی بھی فقط ایک اذان ہوتی تھی جو کہ مسجدِ نبوی کے خارج میں ممبر کے سامنے دی جاتی تھی ،یہی عمل خلافتِ صدیقی و فاروقی میں جاری و ساری رہا ،تاہم عوام کی کثرت کی باعث فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جمعہ کے روز منادیوں کو بازارمیں بھیجتے کہ وہ لوگ کو خبردار کر یں کہ جمعہ کا وقت شروع ہو چکا ہے ۔لیکن رفتا رفتا آبادی کافی بڑھ گئی ،جس وجہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ جمعہ کا وقت شروع ہوتے وقت اذان ہونی چاہیے تا کہ لوگ جو اپنے کاموں میں مشغول ہیں،سب چھوڑ کر سعی الی الذکر کریں ۔ چناچہ آپ رضی اللہ مقامِ زوراء (بازارِ مدینہ میں ایک مقام )پر آذان دلواتے ۔جس پر کسی بھی صحابی نے انکار نہیں کیا تو یہ اگرچہ ایک نیا کام تھا لیکن اس پر اجماعِ صحابہ ہوا۔

    بخاری شریف میں ہے:عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: «كَانَ النِّدَاءُ يَوْمَ الجُمُعَةِ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الإِمَامُ عَلَى المِنْبَرِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: " الزَّوْرَاءُ: مَوْضِعٌ بِالسُّوقِ بِالْمَدِينَةِ "ترجمہ:حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے فرماتے ہیں:نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام اور شیخین کریمین کے دور پاک میں جمعہ کے دن پہلی ندا اس وقت ہوتی جب امام ممبر پر بیٹھ جاتا۔پھر جب عثمان غنی رضی اللہ عنہ(کا دور) آیا تو آپ نے مقام زوراءپر تیسری نداء کا اضافہ فرمایا ۔ابوعبد اللہ کہتے ہیں :زوراء مدینہ کے بازار میں ایک جگہ کا نام ہے ۔(بخاری ،رقم الحدیث:912)

    اذان اول ہی مختار وقول اصح ہے:

    آیت مبارکہ میں وقتِ ندا سعی الی الذکر اور ترکِ بیع و شرا کا حکم ہے۔اورجب صحابہ کرام علیہھم الرضوان کا جمعہ کی پہلی اذان کی مشروعیت پر اجماع ہو چکاہے تو اب سعیاور ترکِ بیع و شراء کا حکم پہل یاذان سے ہی ہو گا۔یہی فقہائے احناف کا اصح قول ہے۔اوراور یہی قول ہمارے زمانہ کے لائق اور محافظ علی العبادت ہے،اس لیے بھی کہ عبادات میں قول محتاط ہی مرجح ہوتا ہے۔عبادات کے معاملہ میں عوام الناس کی سستی و غفلت بلکل واضح ہے، ایک تعداد ہے جو عربی خطبہ کے وقت پہنچتی ہے ۔اگر اذان ثانی والے قول کو اختیار کیا جائے تو پھر اکثر اوقات سنت قبلیہ اور خطبہ جمعہ چھوٹ جائےگا بلکہ تکبیر تحریمہ یا رکعت تک بھی چلے جانے کا غالب امکان ہے۔ علامہ ابن نجیم مصری نے تو جمعہ تک کے فوت ہونے کے خدشہ کا اظہار کیا ہے،لکھتے ہیں : أَنَّهُ لَوْ اُعْتُبِرَ فِي وُجُوبِ السَّعْيِ لَمْ يَتَمَكَّنُ مِنْ السُّنَّةِ الْقَبْلِيَّةَ وَمِنْ الِاسْتِمَاعِ بَلْ رُبَّمَا يُخْشَى عَلَيْهِ فَوَاتُ الْجُمُعَةِ۔ترجمہ:اگر سعی کے وجوب میں دوسری اذان کا اعتبار کیا جائے تو پھر سنتِ قبلیہ کا ادا کرنا اور خطبہ کا سننا ممکن نہیں رہے گا ۔بلکہ بہت مرتبہ تو ایسی صورت میں جمعہ فوت ہونے کا بھی خدشہ ہے۔(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،جلد 2،صفحہ 168 ، دار الكتاب الإسلامي)

    ملا احمد جیون علیہ الرحمہ اذانودی کی تفسیر میں لکھتے ہیں :انما ھو النداء الاول الذی ثبت باجماع العلماء لاالنداء الثانی الذی یتصل بقراءۃالخطبۃ فالسعی لذکر اللہ وترک البیع یجبان بالاذان الاول وھو القول الاصح من مذہب ابی حنیفۃ ترجمہ:بے شکیہ ندائے اول ہے جو کہ اجماعِ علماء سے ثابت ہے ،نہ کہ ندائے ثانی جو قراءت خطبہ سے متصل ہے۔پس سعی الی ذکر اللہ اور ترکِ بیع اذانِ اول سے واجب ہو گا ،یہی مذہب حنفیہ کا اصح قول ہے۔(تفسیرات احمدیہ،صفحہ705،مکتبہ رشیدیہ)

    امامِ اہلسنت احمد رضا خان علیہ الرحمہ بحر العلوم علامہ عبد العلی فرنگی محلی سے ایک نقل پیش کرتے ہیں :(ای یحرم البیع ویجب السعی الی الجمعۃ بعد سماع الندأ) ثم ان البیع قد یطول الکلام فیہ فیفوت الخطبۃ اوالجمعۃ لان التجار یترکون صفقا تھم فی ھذا الزمان ولذامنع من النداء الاول فالبیع والشراء فی المصر ظاہر ترجمہ:مولٰنا بحرالعلوم '' ارکان الاسلام'' میں اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی '' اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے ندادی جائے تو اﷲ کے ذکر کی طرف دوڑ کر آؤ اور بیع ترک کردو'' کے تحت لکھتے ہیں یعنی اذان کے بعد بیع حرام ہے اور جمعہ کی طرف سعی لازم ہے پھر بیع میں گفتگو طویل ہوجانے کی وجہ سے جمعہ اور خطبہ فوت ہوجاتا ہے کیونکہ ایسے وقت تاجر سودا ختم نہیں کرتے اور اسی لئے ندا اوّل کے وقت ہی سے اس سے منع کردیاگیا پس بیع وشراء کا شہر میں ہونا ظاہر ہے ۔(رسائل الارکان فصل فی الجمعۃ صفحہ118، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ)

    در مختار میں ہے:وَوَجَبَ سَعْيٌ إلَيْهَا وَتَرْكُ الْبَيْعِ) (بِالْأَذَانِ الْأَوَّلِ) فِي الْأَصَحِّ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي زَمَنِ الرَّسُولِ بَلْ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ. اور جمعہ کی طرف سعی اور بیع کو ترک کرنا اذانِ اول سے واجب ہے اصح قول کے مطابق ۔اگرچہ یہ رسول اللہ کے زمانہ میں نہ تھی ،حضرت عثمان کے دور میں ہوئی ۔صاحب بحر نے بحر میں حرمت کا اطلاق مکروہ تحریمی پر رکھتے ہوئے (بیع کی)صحت کا فائدہ دیا۔(الدر المختار علی تنویر الابصار ،جلد 2صفحہ 161،باب الجمعہ،دار الفکر بیروت)

    علامہ شامی علیہ الرحمہ اس کی شرح میں لکھتے ہیں :وحاصلہ ان السعی نفسہ فرض والواجب کونۃ فی وقت الاذانالاول ۔ترجمہ (ماتن کی عبارت )کا حاصل یہ ہے کہ فی نفسی سعی فرض ہے اور اس کا اذانِ اول کے وقت میں ہونا واجب ہے۔(الدر المختار علی تنویر الابصار ،جلد 2صفحہ 161،باب الجمعہ،دار الفکر بیروت)

    علامہ حصکی علیہ الرحمہ نے اذان کےبعد بیع کو مکروہ تحریمی قراردیا ہے: کرہ تحریما مع صحۃ البیع عند الاذان الاول۔ترجمہ :اذانِ اول کے وقت بیع مکروہ تحریمی ہے اگرچہ یہ بیع صحیح ہے۔لیکن سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے فتاوی رضویہاور جد الممتار میں اس مؤقف پر نقضوارد کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بیع مکروہ تحریمی نہیں بلکہ حرام ہے۔کیوں کہ بیع کی ممانعت امر خارجی (جمعہ) کی وجہ سے ہے۔ لیکن یہ ممانعت ظنی نہیں بلکہ قطعی ہے۔لہذا اس کے لیے حکم بھی قطعی یعنی (حرام) ہونا چاہیے ۔

    امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:قلت وعبر فی الھدایۃ بالحرمۃ واعترضہ الاتقانی بان البیع جائزلکنہ یکرہ کما صرح بہ فی شرح الطحطاوی لان المنع لغیرہ لایعدم المشروعیۃ واشار فی الدر الٰی جوابہ بقولہ افاد فی البحر صحۃ اطلاق الحرمۃ علی المکروہ تحریما وانا اقول: الصحۃ اذا لم تناف المنع لغیرہ لم تناف الحرمۃ ایضا کذٰلک فان المنع ولو لغیرہ لیشمل المنع ظنا فیکرہ وقطعا فیحرم ولاشک ان النھی ھٰھنا قطعی فلاادری ما احوجھم الی تأویل الحرمۃ بالکراھۃ۔ ترجمہ :میں کہتاہوں اس کراہت کو ہدایہ میں حرمت سے تعبیر کیا ہے اور اس پر اتقانی نے اعتراض کیاکہ بیع صحیح لیکن مکروہ ہے جیسا کہ شرح طحطاوی میں یہ تصریح ہے، اس لئے کہ منع لغیرہٖ مشروعیت کو ختم نہیں کرتی اور درمختار میں اس اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ کیاہے کہ بحرالرائق نے افادہ کیا ہے کہ مکروہ تحریمی پرحرمت کا اطلاق صحیح ہے۔اقول:(میں کہتاہوں کہ)جس طرح صحت منع لغیرہ کے منافی نہیں اسی طرح وہ حرمت کے منافی بھی نہیں ہے کیونکہ منع اگرچہ لغیرہ ہو وہ منع ظنی اور قطعی دونوں کو شامل ہے منع ظنی ہو تو مکروہ ہے اگر قطعی ہو تو حرام ہے اور بیشک یہاں نہی قطعی ہے تو مجھے معلوم نہیں کہ حرمت کو کراہت سے ان کو تاویل کی کیاحاجت ہوئی۔(فتاوی رضویہ جلد 23،صفحہ 142،رسالہ خیر الآمال فی حکم الکسب والسوال رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    یسی بیع و شرا سے حاصل شدہ کمائی صدقہ کی جائے گی ،اس بابت شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے:قال أبو جعفر:(فإن باعه: جاز بيعه، وتصدَّق بثمن ما باعه)۔ترجمہ:امام جعفر طحاوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتےہیں:پس اگراسے(قربانی کے جانور میں سے کوئی چیزجیسے کھال،گوشت وغیرہ)کوئی فروخت کردے اس کی بیع جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی کو صدقہ کیا جائے گا۔

    اس کے تحت علامہ ابو بکر جصاص علیہ الرحمہ لکھتےہیں:وإنما جاز بيعه؛ لأنه في ملكه، جائزُ التصرف فيه، ألا ترى أنه يجوز هبته وصدقته، ولأن النهي لم يتناول معنى في نفس العقد، فصار كالبيع عند أذان الجمعة، وكالنهي عن تلقي الجلب، وبيع حاضر لباد، والنهي عن بيع الطعام في دار الحرب، كل ذلك قد ورد فيه نهي، ولم يمنع جواز العقد، إذ لم يتناول النهي معنى في العقد.وإنما أمر بأن يتصدق بثمن ما باع؛ لأنه لما كان منهيًا عن بيعه، وأخذ ثمنه، حصل ذلك له من وجه محظور، فأمر بالصدقة به ترجمہ: اور اس کی بیع اس لیے جائز ہےکہ وہ اس کی ملکیت میں ہے،وہ اس میں تصرف کا مجاز ہے ۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ بے شک اس کا ہبہ اور صدقہ کرنا جائز ہے۔اور اس لیے کہ نہی نفسِ عقد میں کسی معنی کو شامل نہیں ہے ۔تو یہ ایسے ہی ہے جیسے جمعہ کی اذان کے وقت بیع کرنا،اور جیسے تلقی جلب کی ممانعت،جیسے شہری کا دیہاتی سے بیع کرنا،اور جیسے دارالحرب میں کھانے بیچنے کی ممانعت اور اسی طرح ہر وہ جس میں ممانعت وارد ہوئی ہو ،لیکن عقد کا جائز ہونا ممنوع نہ ہو۔اس لیے کہ نہی عقد میں کسی معنی کو شامل نہیں ہے۔اور بیچنے کے سبب حاصل ہونے والی کمائی کو صدقہ کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہےکیونکہ جب بیع سے ممانعت ہے اور اس نےاس کا ثمن حاصل کیا۔یہ ثمن اسےممانعت کے طورپر حاصل ہوا پس اسے صدقہ کرنے کا حکم دیاجائے گا۔(شرح مختصرالطحاوی للجصاص،جلد:7،ص:341،دارالبشائر الاسلامیۃ)

    خلاصہ کلام:

    اذان ثانی کے وقت سعی اور ترک ِبیع کے حکم میں تمام مذاہب کا اتفاق ہے کہ اس کے بعد سعی اور ترک ِ بیعفرض ہے،یعنی اس کے بعد جو(مکلف جمعہ)بیع و شرا کرے گا ،حرام کا مرتکب ہو گا ۔لیکن احناف کا اس حوالہ سے اصح قول یہ ہے کہ سعی اور ترک بیع کا حکم اذان ِ اول سے ہو گا ۔ لہذا اذان اول کےسنتے ہی کاروبار بند کر دیا جائے ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجواب الصحیح :ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:17ربیع الثانی 1443 ھ/23 نومبر2021ء