سوال
1:۔کیا ایامِ حیض میں خواتین قرآن پاک کی مخصوص صورتوں یا آیات کی تلاوت کر سکتی ہیں ،نیز ایسی حالت میں دیگر ذکر اذکار مثلاً تسبیحِ فاطمہ،درود شریف وغیرہا کا کیا حکم ہے ؟نیز معلمہ کو ایسی حالت میں قرآن کی تعلیم دینی چاہیے کہ نہیں ۔
سائل:عباس علی ،اسلام آباد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
:۔خواتین کا مخصوص ایام میں تلاوتِ قرآن کرنا حرام ہے، تلاوت کرنا دیکھ کر ہو یا زبانی۔ اس لیے کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے:لاتقرء الحیض ولا الجنب شیئاً من القرآن ۔ترجمہ:حائضہ و جنبی(ناپاک شخص)قرآن میں سے کسی چیز کی تلاوت نہ کریں ۔(ابوداؤد رقم الحدیث:)
2:۔البتہ قرآن پاک کی وہ آیات جو ذکر ،ثنا ،مناجات اور دُعا پر مشتمل ہوں ،اگرچہ وہ مکمل آیات ہوں جیسے آیۃ الکرسی کہ یہ مکمل آیت ہے۔یا ایک سے زائد آیات ہوں جیسے سورہ حشر شریف کی آ خری تین آیات : ھو اللّٰہ الذی لاالٰہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃ سے سورت کے آخر تک پڑھنا جائز ہے ۔بلکہ امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا مؤقف یہ ہے کہ پوری سورت جیسے سورت فاتحہ ذکر ودعا کی نیت سے پڑھنا ،نہ کہ تلاوتِ قرآن کی غرض سے ،یہ جنبی (ناپاک شخص) حائضہ اور نفاس والی خواتین،ان سب لوگوں کے لیے جائز ہے ۔
آپ فرماتے ہیں :اسی لیے کھانے سے پہلے یا سبق پڑھنے کی ابتدا میں بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم پڑھ سکتے ہیں، اگرچہ یہ ایک مستقل آیت ہے کہ اس سے مقصود تبرک واستفتاح ہوتا ہے، نہ کہ تلاوت، اسی طرح حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل اور انّا اللّٰہ وانّا الیہ راجعون کہ کسی مہم یا مصیبت پر ذکر ودعا کی غرض سے اس کو پڑھا جاتا ہے ، نہ کہ تلاوتِ قرآن کے ارادے سے ۔(فتاوی رضویہ ،جلد02 صفحہ1077،رضا فاؤنڈیشن لاہور ملخصا)
تنبیہ: آیۃ الکرسی یا سورہ فاتحہ اور ان کے مثل ایسی قراء ت کہ سننے والا جسے قرآن سمجھے اُن عوام کے سامنے جن کو پڑھنے والے کا ناپاک ہونا معلوم ہو، آواز کے ساتھ بہ نیتِ ثنا و دعا بھی پڑھنا مناسب نہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ جنابت کی حالت میں تلاوت جائز نہ سمجھ لیں یا اس پر گناہ کی تہمت نہ لگا دیں ۔
3:۔مخصوص ایام میں معلمہ تعلیم دے سکتی ہے۔جس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھائے اور اسی طرح ہجے بھی کروا سکتی ہے ۔
علامہ ابن ہمام علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: إذَا حَاضَتْ الْمُعَلِّمَةُ تُعَلِّمُ كَلِمَةً كَلِمَةً وَتَقْطَعُ بَيْنَ الْكَلِمَتَيْنِ ترجمہ:جب معلمہ حیض سے ہو توایک ایک کلمہ کر کے پڑھائے،اور دو کلموں کے درمیان فاصلہ کرے۔(فتح القدیر،کتاب الحیض جلد 1،صفحہ 171،رشیدیہ کوئٹہ)
4:۔قرآن کے علاوہ دیگر مسنون دعاؤں ،تسبیحات ، ذکر و اذکار درود شریف پرھنے میں بالاتفاق کوئی حرج نہیں۔درج بالا جن چیزوں کے پڑھنے کی اجازت ہے ،اس میں افضل یہ ہے کہ انہیں باوضو پڑھا جائے۔
دُرمختار میں ہے: (وَلَا بَأْسَ) لِحَائِضٍ وَجُنُبٍ (بِقِرَاءَةِ أَدْعِيَةٍ وَمَسِّهَا وَحَمْلِهَا وَذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى، وَتَسْبِيحٍ) ترجمہ: حائضہ اور جنبی کے لئے دُعاؤں کے پڑھنے ،انہیں چھونے،اٹھانے میں کوئی حرج نہیں،اور ذکر اللہ اور تسبیح پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔(الدرالمختار، باب الحیض،جلد01 صفحہ293 دار الفکر بیروت)
امام اہلسنت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :حالتِ حیض میں صرف قرآن عظیم کی تلاوت ممنوع ہے کلمے پانچوں پڑھ سکتی ہے کہ اگرچہ اُن میں بعض کلماتِ قرآن ہیں مگر ذکر وثنا ہیں اور کلمہ پڑھنے میں نیتِ ذکر ہی ہے نہ نیتِ تلاوت، تو جواز یقینی ہے۔ کماصرحوا بہ قاطبۃ (جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے۔(فتاوی رضویہ جلد 04صفحہ 365 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:05ذی الحج 1443 ھ/16 جولائی 2021ء