سوال
عورتوں اور مردوں کی باہمی مشابہت سے کیا مراد ہے اسکی وضاحت فرمادیں کہ کیا یہ مطلق منع ہے یا اسکی بعض صورتیں منع اور بعض اجازت کی ہیں؟ جیساکہ آج کل سردیوں میں گھر کی عورتیں سردی کے سبب مرد افراد کا گرم لباس پہن لیتی ہیں کیا ان پر بحکمِ حدیث لعنت آئی ہے یا نہیں؟ بالخصوص اس صورت میں کیا حکم ہوگا کہ بعض ایسے سوئیٹر یا جیکٹس ہوتی ہیں جو مرد و عورت سب کے لئے یکساں ہوتےہیں ان میں تخصیص نساء و رجال نہیں ہوتی ۔ نیز آج کل گھروں کے واش رومز میں ایک جوڑا چپل رکھا جاتا ہے جو عموماً مردانہ ہوتا ہے اور گھر کے سب افراد مرد و عورت اسے استعمال کرتے ہیں کیا عورتوں کے حق میں یہ بھی مردوں سے مشابہت میں داخل ہے یا نہیں اور یہ بحکمِ حدیث ملعونہ ٹھہرے گی یا نہیں؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل: مولانا ارسلان سعیدی : دوڑ ،نواب شاہ ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یہاں تین چیزیں ہیں :
1: مشابہت کا معنٰی اور اسکا اطلاق۔
2: عورتوں کاسردیوں میں مردانہ وضع کے گرم کپڑے پہننا۔
3: باتھ روم میں عورت کامردانہ چپل استعمال کرنا۔
1: مشابہت کا معنٰی اور اسکا اطلاق۔
عورتوں اور مردوں کی باہمی مشابہت سے مراد یہ ہے مرد عورت یا عورت مرد کے ساتھ لباس ، وضع، چال ڈھال یا رفع صوت وغیرہ میں مماثلت و مشابہت اختیار کرلیں یعنی جو چیزیں ایک صنف کے ساتھ خاص ہوں تو دوسری صنف کے لیے ان چیزوں کابالقصد و بالادارہ استعمال اور ان چیزوں میں مشابہت بحکمِ حدیثِ پاک منع ہے۔ اور یہ مشابہت مطلق ہے یعنی تمام صورتوں میں ہے ، جیساکہ سیدی اعلٰی حضرت، امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فرماتے ہیں: مرد کو عورت ، عورت کو مرد سے کسی لباس وضع، چال ڈھال میں بھی تشبہ حرام نہ کہ خاص صورت وبدن میں ۔ (فتاوی رضویہ ، جلد22، صفحہ 664، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: بات یہ ہے کہ عورت کے رحم میں دو خانے ہیں دہنا خانہ لڑکے کے لئے اور بایاں لڑکی کے واسطے، اور نطفہ مرد کا غالب آئے تولڑکا بنتاہے اور عورت کا غالب پڑا تو لڑکی بتنی ہے پھر اگر مردکا نطفہ غالب آیا اور رحم کے سیدھے خانے میں میں پڑا تو لڑکی ہوگی، ظاہر وباطن عورت اور اگر نطفہ مرد کا غالب آیا اور رحم کے بائیں خانے میں گر ا تو ہوگا صورت میں لڑکا، مگر دل میں زنانہ، اسے داڑھی منڈانے گہنا پہننے، ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانے، عورتوں کے سے بال بڑھا کر چوٹی گندھوانے یا جوڑا باندھنے یا بکھرے ہوئے رکھنے، کلیوں دار غرارہ دار پائچہ پہننے، سرخ نیفہ ڈالنے وغیرہ وغیرہ کسی زنانی وضع کا شوق ہوگا اوراس حالت میں مرد کا نطفہ خفیف غالب تھا تو بالکل زنانہ زنخہ بن جائے گا اور اگر نطفہ عورت کاغالب آیا اور رحم کے دہنے خانے میں گرا ہو تو ہوگی صورت میں لڑکی مگر دل میں مردانی، اسے انکر کھا پہننے، ٹوپی رکھنے، عمامہ باندھنے، گھوڑے پر چڑھنے، تلوار اٹھانے، تیرا ندازی کرنے، مردانہ جوتا پہننے وغیرہ وغیرہ کسی مردانی وضع کا ذوق ہوگا بہر حال یہ دونوں خانے بہکے ہوئے اللہ ورسول کے ملعون ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : لعن اﷲ المتشبھات من النساء بالرجال والمتشبھین من الرجال بالنساء، رواہ احمد والبخاری ابواداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ اللہ کی لعنت ان عورتوں پر کہ مردوں کی وضع بنائیں اور ان مردوں پر کہ عورتوں کی وضع اختیار کریں۔ (مسند احمد، بخاری، ابوداؤد ، ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی سند سے اس کو روایت کیا ہے۔(فتاوی رضویہ ، جلد21، صفحہ 600، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)
2: عورتوں کاسردیوں میں مردانہ وضع کے گرم کپڑے پہننا :
اگر یہ گرم لباس اس نوعیت کا ہے جو خاص مرد پہنتے ہیں عورتیں نہیں پہنتیں، تو بلاشبہ عورت کا ایسے گرم کپڑے پہننا ممانعتِ مشابہت میں ضرور داخل ہے، یہی احادیث طیبہ سے مستفاد ہےاور یہی صحیح ہے جیساکہ ابوداؤد شریف میں ہے: عن أبي هريرة، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجل يلبس لبسة المرأة، والمرأة تلبس لبسة الرجل۔ ترجمہ: ترجمہ : اللہ تعالی اس مرد پر لعنت کرے جو عورت جیسا لباس پہنے اور عورت پر بھی لعنت کرے جو مر دجیسا لباس پہنے۔ (ابو داؤد شریف، حدیث نمبر 4098)
علامہ عینی حدیث ِ مشابہت کی شرح میں لکھتے ہیں: أي: هذا باب في بيان ذم الرجال المتشبهين بالنساء وبيان ذم النساء المتشبهات بالرجال، ويدل على ذلك ذكر اللعن في حديث الباب وتشبه الرجال بالنساء في اللباس والزينة التي تختص بالنساء مثل لبس المقانع والقلائد والمخانق والأسورة والخلاخل والقرط ونحو ذلك مما ليس للرجال لبسه، وتشبه النساء بالرجال مثل لبس النعال الرقاق والمشي بها في محافل الرجال ولبس الأردية والطيالسة والعمائم ونحو ذلك مما ليس لهن استعماله، وكذلك لا يحل للرجال التشبه بهن في الأفعال التي هي مخصوصة بهن كالانخناث في الأجسام والتأنيث في الكلام والمشي، وأما من كان ذلك في أصل خلقته فإنه يؤمر بتكلف تركه والإدمان على ذلك بالتدريج، فإن لم يفعل وتمادى دخله الذم ولا سيما إذا بدا منه ما يدل على الرضا۔ترجمہ:یعنی یہ باب مردوں اور عورتوں کی باہمی مشابہت کی مذمت کے حوالے سے ہے،اور اس کی مذمت پر اسی باب کی حدیث دلالت کرتی ہے جس میں لعنت کا ذکر ہے مردوں کی عورتوں سے مشابہت ایسے لباس اور ایسی زینت اختیار کرنے میں ہے جو عورتوں کے ساتھ خاص ہو جیسے نقاب، ہار، کنگن، مالا، چوڑیاں، پازیب، بالی وغیرہ جو کہ مردوں کو پہننا منع ہیں ۔ یونہی عورتوں کا مردوں کے ساتھ لباس میں مشابہت جیسے مردانہ چپل پہننا اور مردوں کی محفل میں پہن کر چلنا، مردانہ چادر،ٹوپی، عمامہ وغیرہ جن کا استعمال عورتوں کے لئے منع ہے۔ اور یونہی مردوں کو ان افعال میں مشابہت منع ہے جو عورتوں کے ساتھ خاص ہیں جیساکہ جسم میں زنانہ پن، اور بصیغہ مؤنث کلام کرنا، عورتوں کی طرح چلنا۔ البتہ جس مرد میں یہ چیزیں پیدائشی طور پر ہوں، تواسے یہ عادتیں بتکلف ترک کرنے کا حکم دیا جائےاور اس پر بالتدریج پابندی کروائی جائے گی پھر اگر وہ ایسا نہ کرے اور سرکشی اختیار کئے رکھے تو وہ حکم مذمت میں داخل ہےبالخصوص جبکہ اس سے کوئی ایسی چیزظاہر ہو جو ان عادات پر رضامندی پر بھی دلالت کرتی ہو۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد 22ص 41)
فیض القدیر للمناوی میں ہے: تتشبه بالرجال في زيهم أو مشيهم أو رفع صوتهم أو غير ذلك۔ترجمہ :جو عورت مردوں سے ان کی وضع ، چلنے، آواز بلند کرنے وغیرہ میں مشابہت اختیار کرے ۔(فیض القدیر ، حرف اللام ، جلد5، صفحہ 343، دار الکتب العلمیہ ، بیروت )
البتہ اگر گرم لباس ایسا ہو کہ جو مرد و عورتوں میں یکساں طور پر مستعمل ہوتا اور لوگ ایسے لباسوں میں مرد و عورتوں کی تمیز نہ کرتے ہوں تو بلاشبہ ایسا گرم لباس ممانعت میں داخل نہ ہوگاجبکہ خلافِ جنس کا لباس پہننے کا قصد و ارادہ نہ کرے وگرنہ اس کے قصد و اردے کے سبب ممانعت ہوگی اور بحکمِ حدیث ملعون ٹھہریں گے ۔ جیساکہ ہمارے عرف میں لیدر کی جیکٹس ، یا اَپَر جیکٹس کی وضع ایسی ہوتی ہے کہ انہیں مردوعورتیں یکساں استعمال کرتے ہیں ، لہذااگر کوئی مرد،ایسی لیدر جیکٹ یا اپر جیکٹ وغیرہ استعمال کرے تو لوگ اس کے بارے میں یہ نہیں کہتے کہ یہ خاص زنانہ ہے اور یونہی برعکس معاملہ ہو یعنی کوئی عورت، لیدر جیکٹ وغیرہ استعمال کرے تو بھی لوگ اعتراض سے باز رہتے ہیں تو ایسا لباس پہننے والایا والی بحکمِ حدیث لعنت زدہ نہیں ہیں البتہ طریقِ احتیاط یہی ہے کہ اس سے بھی بچا جائے۔
اسی شرحِ عینی میں ہے:وهيئة اللباس قد تختلف باختلاف عادة كل بلد فربما قوم لا يفترق زي نسائهم من رجالهم، لكن تمتاز النساء بالاحتجاب والاستتار۔ترجمہ: اور لباس کی ہیئت ہر شہر کی عادت کے مختلف ہونے سے مختلف ہوتی ہے پس کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی قوم میں مردوں اور عورتوں کا طریقہ(لباس وغیرہ ) الگ نہیں ہوتا، لیکن عورتوں کی تخصیص پردہ و حجاب سے ہوتی ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد 22ص 41)
الموسوعۃ الفقھیۃ میں ہے: إن العبرة في لباس وزي كل من النوعين حتى يحرم التشبه به فيه بعرف كل ناحية۔ترجمہ: دونوں نوعوں (مرد و عورت)کے لباس و عادت میں ہر جگہ کے عرف کا اعتبار ہے حتٰی کہ وہاں کے عرف کے اعتبار سے ان چیزوں میں تشبیہ حرام ہوگی۔(الموسوعۃ الفقھیہ الکویتیہ، جلد 12 ص 12، بیروت لبنان)
3: باتھ روم میں عورت کامردانہ چپل استعمال کرنا۔
عورتوں کو ایسے جوتے پہننا اور پہن کر مجلسِ رجال و نساء میں جانا منع ہے جو خاص مردوں کے لئے موضوع ہوں ،جیسا کہ ایڑی والے آفس شوز یا فوجی شوزکہ اس میں معنٰی مشابہت بعینہ موجود ہے کہ عورت کا یہ جوتے پہن کر مجلسِ رجال و نساء میں جانے سے مقصود چال ڈھال میں مردوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے اور ایسی عورت پر حدیث میں لعنت آئی کہ جو مرادنہ جوتا پہنتی ہو۔
چناچہ سنن ابو داؤد میں ہے:عن ابن أبي مليكة قال قيل لعائشة رضي الله عنها إن امرأة تلبس النعل فقالت لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجلة من النساء۔ ترجمہ: ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی گئی کیا ایک عورت (مردانہ ) جوتا پہنتی ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردانہ وضع اختیار کر نے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔(سنن ابو داؤد ، کتاب اللباس ، باب فی لباس النساء ،حدیث نمبر 4099، بیروت )
سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا :ایڑی والی جوتی یعنی مثل جوتی مردوں کے عورت پہن لے تو درست ہے یانہیں ؟ مردانی جوتی عورت نمازی کے واسطے پاؤں کو ناپاکی سے بچانے کے لئے بہت خوب ہے۔ خیر جیساشریعت میں حکم ہو ۔
آپ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا :ناجائز ہے،رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لعن ﷲ المتشبھات من النساء بالرجال والمتشبھین من الرجال بالنساء رواہ الائمۃ احمد والبخاری وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی ﷲ تعالی عنھما۔ترجمہ :اللہ کی لعنت ان عورتوں پرجو مردوں سے مشابہت اختیار کریں اور ان مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت اختیار کریں ۔ اسے ائمہ کرام مثلا امام احمد ، امام بخاری ، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ نےحضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔(فتاوی رضویہ ، جلد22، صفحہ 173، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)
البتہ واش رومز کے استعمال کے لئے جو چپل رکھے جاتے ہیں ، اولاً تو ان کے استعمال سےمشابہت مقصود نہیں ہوتی بلکہ احتراز عن النجاست مقصود ہوتاہے کہ واش روم محلِ نجاست ہے وہاں ننگے پاؤں جانا عرفاً بدتہذیبی گردانی جاتی ہے پھر شرع شریف میں بھی بتاکید نجاست و محل نجاست سے احتراز کا حکم موجود ہے، اور واش روم میں بلاچپل جانا خود کو تلویثِ نجاست میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے ۔اسی مقصد کے حصول کے لئے چپل استعمال کئے جاتے ہیں تو جب یہاں مشابہت ہی مفقود تو کیونکر یہاں حکمِ منع ہوگا؟
اور ثانیاً یہاں مشابہت کا معنٰی بھی مفقود ہے کہ واش روم کے چپل کوئی بھی عورت اس لئے نہیں پہنتی کہ اسے پہن کر لوگوں کے درمیان جائے گی اور مردوں کی سی چال ڈھال اختیار کرے گی ، اور نہ ہی کوئی دیکھنے والے دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ اس نے یہ جوتے قصدِ مشابہت سے پہنے ہیں بلکہ مقصود وہی کہ بلاجوتے واش روم میں جانا شرعاً و عرفاً معیوب ہے۔ لہذا اب بھی وجہِ ممانعت باقی نہ رہی کہ اس پر حکم لعنت بحکمِ حدیث پاک ہو۔
اور ثالثاً اس صورت کو ، صورت لباس (امرِ دوم ) میں بھی داخل کرنا ممکن ہے بایں طور کہ کہا جائے اب یہ چپل(جو واش رومز کے لئے متعین ہوں) عرفاً مردوں کے ساتھ خاص نہ رہے بلکہ تمام گھروں میں مرد و عورتوں میں یکساں طور پر مستعمل ہوتے ہیں لہذااب بھی ممانعت سے محفوظ رہے۔
سو ان وجوہات کی بناء پر کہ جب ان چپلوں کے استعمالِ معہود کی اجازت موجود ہے تو مطلقاً حکم ِ گناہ اور حکمِ لعنت دینا نامناسب ہے کہ یہ عامۃ الناس کی تفسیق ہے اور ایسے مواقع پر تو فقہاءنصوصِ فقہیہ میں بھی تخفیف فرماتے ہیں نہ کہ عامۃ الناس پر حکمِ گناہ لگاکر انہیں موجبِ لعنت گردانتے ہیں۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:03 رجب المرجب 1444 ھ/26 جنوری 2023 ء