سوال
عرض یہ ہے کہ آپ شب جمعہ جو ختم قادریہ اور قصیدہ بردہ کا ورد کرواتے ہیں اس میں خواتین بھی شرکت کر تی ہیں حالانکہ مغرب کے بعد عورت کا گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے تو کیا اس میں شرکت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرما ئیں۔
سائلین:معلمات
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
عام حالات میں خواتین کا گھر سے نکلنا شرعا جائز نہیں ہے قال اللہ تعالیٰ :وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى.ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو، پہلے دورِ جاہلیت کی طرح غیروں کے سامنے اظہار زینت مت کرو۔(الأحزاب: 33)
یہ حکم اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کیلیے ہے لیکن تمام مومنوں کی بیویاں بھی اس حکم میں ان کے ماتحت ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو مخاطب اس لیے کیا ہے کہ ان کی شان اور قدر و منزلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے بہت بلند ہے اور تمام امہات المؤمنین دیگر مومنوں کی بیویوں کیلیے نمونہ ہیں۔
چناچہ ترمذی حدیث نمبر 1173 میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «المَرْأَةُ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ» .ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،خاتون چھپانے کی چیز ہے، جب خاتون گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے تاڑتا ہے۔
البتہ ضرورت کے موقعوں پر عورتوں کو چند شرائط کی پابندی کے ساتھ گھر سے نکلنے کی اجازت ہے،چناچہ آج سے صدیوں قبل ہی امام اعظم ابو حنیفہ نے بوڑھی عورتوں کو فجر وعشاء میں شرکت کی اجازت دی جبکہ صاحبین نے بوڑھی عورتوں کی حاضری کو مطلقا (خواہ فجر و عشاء ہو یا اسکے علاوہ)مباح قرار دیا ۔
چناچہ ہدایہ باب الامامۃ جلد 1ص 58 پر ہے:ويكره لهن حضور الجماعات " يعني الشواب منهن لما فيه من خوف الفتنة " ولا بأس للعجوز أن تخرج في الفجر والمغرب والعشاء " وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله " وقالا يخرجن في الصلوات كلها " لأنه لا فتنة لقلة الرغبة إليها.ترجمہ:اور جوان عورتوں کو جماعت میں شریک ہونا مکروہ ہے کیونکہ انکی شرکت میں فتنے کاخوف ہے ، جبکہ بوڑھی عورت کے لیے جبکہ بوڑھی عورت کے لیے فجر و عشاء میں نکلنے میں حرج نہیں ہے یہ امام اعظم ابو حنیفہ کا مذہب ہے جبکہ صاحبین نے کہا کہ بوڑھی عورتیں ہر نماز میں نکلیں، کیونکہ انکی طرف رغبت کم ہوتی ہے لہذا فتنے کا اندیشہ نہیں ہے۔
مگر آج کے دور میں جب کہ حال یہ ہے کہ آج عورت ہی سب سے زیادہ آزاد اور خود مختار ہے ۔ہروہ کام جو مرد کرتے ہیں عورتیں بھی کررہی ہیں،کمپنیوں میں ملازمت کرتی ہیں،گھر کے سودے سامان کے لیے باہر جاتی ہیں ،ٹی وی شوز میں شرکت کرتی ہیں ، کرکٹ ،ہاکی ،فٹبال کھیلتی ہیں،اپنے بناؤ سنگھار کے لیے بیوٹی پارلر جاتی ہیں، شادیوں میں جہاں مخلوط اجتماع ہوتا ہے بلا پردہ شرعی شریک ہوتی ہیں،مردوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر سارا جہاں گھومتی پھرتی ہیں،ان تمام حالات میں اگر چند خدا ترس اور متقی عورتیں شرعی پردہ کے ساتھ مساجد میں آئیں جبکہ انکی نشست ،مقام اور راستے مردوں کے راستے سے جدا ہوں تو ہماری رائے میں اسکی اجازت ہے کہ اس بہانے کچھ قرآن و حدیث سے وعظ و نصیحت تو سنیں گی۔
چناچہ سیدی اعلیٰ حضرت سے سوال کیا گیا کہ عورت میلاد وغیرہ کی محفل میں جاسکتی ہے،آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں
''واعظ یا میلاد خواں اگر عالم سنی صحیح العقیدہ ہو اور اس کا وعظ وبیان صحیح ومطابق شرع ہو اور جانے میں پوری احتیاط اور کامل پردہ ہو اور کوئی احتمال فتنہ نہ ہو اور مجلس رجال سے دور ان کی نشست ہو تو حرج نہیں''(فتاویٰ رضویہ کتاب الحظر والاباحۃ جلد 22 ص 239 رضا فاؤنڈیشن لاہور )
اور الحمد للہ ہمارے یہاں ہونے والا ختم قادریہ ،یا ختم قصیدہ بردہ کروایا جاتا ہے اس میں خواتین کی ایک کثیر تعداد شرکت کرتی ہے ، اور یہاں مکمل شرعی انتظامات اور شرعی احتیاطوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے ، عورتوں کے آنے جانے کا راستہ مردوں کے راستے سے
جدا اور الگ ہے،عورتوں کے بیٹھنے کی جگہ مردوں کو جگہ سے بالکل الگ ہے، اور آنے والی تمام خواتین مکمل باپردہ ہوکر آتی ہیں ، لہذا ایسے اجتماعات میں جہاں امور شرعیہ کی مکمل پاسداری کی جاتی ہو عورتوں کو ضرور شرکت کرنی چاہیے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني
تاريخ اجراء: 27ذوالقعدہ 1439 ھ/09اگست 2018 ء