عدت کے احکام و مسائل
    تاریخ: 24 فروری، 2026
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 868

    سوال

    1:میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے میری والدہ عدت میں ہیں ، انکی عمر 56 سال ہے ،عدت کے تقاضے کیا کیا ہیں ؟ کیا میں انہیں اپنے گھر لا سکتا ہوں یا وہ والد کے گھر میں ہی عدت گزاریں گی؟

    2:عدت میں کس کس سے پردہ لازم ہے؟ امی کے رشتے دار، دیور، جیٹھ، باقی دوسرے لوگوں سے مل سکتے ہیں یا نہیں؟

    سائل:سید عمیر : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: ہر وہ عورت جس کا شوہر انتقال کر جائے اس کی عدتِ وفات شوہر کے انتقال کے بعد سے پورے چار مہینے دس دن ہےجس میں پانچویں مہینے کے دس دن کے ساتھ دس راتیں بھی شمار ہونگی۔عدت کے احکام یہ ہیں :

    1:بلاضرورت گھر سے باہر جانا جائز نہیں ہے البتہ معاش کا کوئی ذریعہ نہ ہو تو دن میں روزگار کے سلسلے میں جانا جائز ہے لیکن رات شوہر کے گھر میں ہی گزار نا ہوگا ۔

    2: عدت کے دوران زیب و زینت کے تمام کا موں کا ترک کرنا ہے ،مثلا خوشبو لگانا ،بلا ضرورت سر میں تیل کا استعمال کرنا ، زیورات پہنا،بلاضرورت آنکھوں میں سرمہ لگانا اور زیب و زینت کے کپڑے پہننا وغیرہ جا ئز نہیں ہے ۔

    3: دوران عدت کہیں سفر کرنا چاہے محرم کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو جائز نہیں ہے ۔

    ان کے علاوہ گھر کے کام کاج اورگھر میں ہی رہتے ہو ئے دیگر مصروفیات کا عدت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

    المبسوط للسرخسی میں ملخصاًو متغیراًہے:فَأَمَّا عِدَّةُ الْوَفَاةِ فَإِنَّهَا لَا تَجِبُ إلَّا عَنْ نِكَاحٍ صَحِيحٍ فَعِدَّتُهَا مَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ }۔۔۔۔۔۔ أَنَّ عِدَّةَ الْوَفَاةِ مُعْتَبَرَةٌ مِنْ وَقْتِ الزَّوْجِ عِنْدَنَاوَأَمَّا الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَلَهَا أَنْ تَخْرُجَ بِالنَّهَارِ لِحَوَائِجِهَا وَلَكِنَّهَا لَا تَبِيتُ فِي غَيْرِ مَنْزِلِهَا ،وَلَا يَنْبَغِي لِلْمُعْتَدَّةِ أَنْ تَحُجَّ وَلَا تُسَافِرَ مَعَ مَحْرَمٍ وَغَيْرِ مَحْرَمٍ ،أَنَّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا يَلْزَمُهَا الْحِدَادُ فِي عِدَّتِهَا، وَهَذَا لِمَا رُوِيَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ۔۔۔۔۔«لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاَللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إلَّا عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»وَصِفَةُ الْحِدَادِ أَنْ لَا تَتَطَيَّبَ وَلَا تَدَّهِنَ وَلَا تَلْبَسَ الْحُلِيَّ وَلَا الثَّوْبَ الْمَصْبُوغَ بِالْعُصْفُرِ أَوْ الزَّعْفَرَانِ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ هَذَا كُلِّهِ التَّزَيُّنُ وَلَا تَدْهُنُ رَأْسَهَا لِزِينَةٍ فَإِنَّ الدُّهْنَ أَصْلُ الطِّيبِ وَإِنْ اسْتَعْمَلَتْ الدُّهْنَ عَلَى وَجْهِ التَّدَاوِي بِأَنْ اشْتَكَتْ رَأْسَهَا فَصَبَّتْ عَلَيْهِ الدُّهْنَ جَازَ لِأَنَّ الْعِدَّةَ لَا تَمْنَعُ التَّدَاوِي وَإِنَّمَا تَمْنَعُ مِنْ التَّزَيُّنِ. وَلَا تَكْتَحِلُ لِلزِّينَةِ أَيْضًا فَإِنْ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا فَلَا بَأْسَ بِأَنْ تَكْتَحِلَ بِالْكُحْلِ الْأَسْوَدِ ۔ ترجمہ:اور عدت وفات نکاح صحیح ہی کی وجہ سےواجب ہے ،اور اس کی عدت (وہی ہے )جو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا "اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو تم پر مُواخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔اور ہمارے نزدیک عدت وفات کی مدت شوہر کے انتقال کے وقت سے ہے اور بیوہ ا پنی ضروریات کے لئے دن میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے لیکن اپنے گھر کے علاوہ میں رات گزار نہیں سکتی۔اور عدت گزر نے والی عورت کے لیئے جا ئز نہیں ہے کہ وہ دوران عدت حج کرے اور کہیں سفر کرے چاہے کسی محرم کے ساتھ ہو یا محرم کے بغیر ۔عدت وفات گزر نے والی عورت کے لیئےدوران عدت سوگ لازم ہے ،اور یہ اس وجہ سے ہے کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنھا سے روایت کی گئی ہے (رسول اللہ ﷺنے فر مایا ہے کہ)کسی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺپر ایمان رکھنے والی عورت کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی بھی میت پر تین دن سے زائد سوگ کرے مگر اپنے شوہر پر چار مہینے اور دس دن تک (سوگ منانا لازم ہے )اور سوگ سے مراد یہ ہے کہ خوشبو ،تیل اور زیورات کا استعمال نہ کرے ،زعفران یا کسی اور رنگ سے رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے کیوں کہ ان سب سے مقصود زینت کا حصول ہوتا ہے ،اور زینت کے لئے سر پر تیل کا استعمال نہ کرے اس لیئے کہ تیل اصلا خوشبو ہے ،اور اگرعلاج کے طور پر استعمال کا کیا کہ سر میں درد وغیرہ تھا تیل لگا لیا تو جا ئز ہے اس لیئے کہ عدت میں علاج کرنا منع نہیں بلکہ زینت اختیار کرنا منع ہے،اور زینت کے لیئے سرمہ کا استعمال نہ کرے اور اگر آنکھ میں کوئی تکلیف ہے تو سیاہ سرمہ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔( المبسوط للسرخسی ،باب العدۃ ،ج:۶،ص:30تا 59،طبع:دارالمعرفۃ،بیروت)

    نیز جس عورت کا شوہر انتقال کرجائے اس پر اسی گھر میں عدت گزارنا لازم ہے ،جس گھر میں رہتی ہو،لہذا آپکی والدہ پر اسی مکان میں عدت لازم ہے آپ انہیں بلاضرورت اپنے گھر نہیں لے جاسکتے ۔

    تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:وَتَعْتَدَّانِ) أَيْ مُعْتَدَّةُ طَلَاقٍ وَمَوْتٍ (فِي بَيْتٍ وَجَبَتْ فِيهِ) وَلَا يَخْرُجَانِ مِنْهُ (إلَّا أَنْ تُخْرَجَ أَوْ يَتَهَدَّمَ الْمَنْزِلُ، أَوْ تَخَافُ) انْهِدَامَهُ، وَنَحْوَ ذَلِكَ مِنْ الضَّرُورَاتِ فَتَخْرُجُ لِأَقْرَبِ مَوْضِعٍ إلَيْهِ،ترجمہ:موت کی یا طلاق کی عدت گزارنے والی اسی گھر میں عدت گزاریں جس میں گزارنا واجب ہے اور اس گھر سے نہیں نکل سکتی الا یہ کہ اس کو اس گھر سے نکال دیا جائے ، یا گھر گرجائے اور گرنے کا خوف ہو ، اس طرح کی دیگر ضروریات کی وجہ سے نکل سکتی ہیں پس قریبی جگہ کی طرف جا سکتی ہیں ۔( تنویرالابصار مع الدر المختار،کتاب الطلاق ،فصل فی الحداد ،جلد 3ص 536)

    1۔2:جن جن لوگوں سے پہلے پردہ تھا اب بھی ہے ،اور جس طرح وہ لوگ پہلے نا محرم تھے اب بھی ہیں۔

    چناچہ ارشاد باری تعالی ہے :وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ۪-وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ' ترجمہ کنز الایمان :اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی مِلک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔(النور: 31)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:01 ذو الحج 1441 ھ/23 جولائی 2020 ء