عقیقہ کا شرعی حکم تفصیلا

    aqeeqa ka sharai hukm tafseelan

    تاریخ: 11 اگست، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1715

    سوال

    (1) سوال یہ ہے کہ عقیقے کا جو سنت طریقہ ہے وہ یہ ہے کہ ساتویں دن ہی کر دیا جائے اگر کسی شخص کے پاس اتنی طاقت نہیں ہے وہ ساتویں دن ہی کر دے تو اس کے علاوہ ساتویں دن کے بعد ہی اس کے پاس پیسے خرچہ وغیرہ آجاتا ہے تو پھر وہ کب کرے یا نہیں کرے گا کیسے کرے گا اس کا طریقہ بتا دیں ۔

    (2)سوال یہ ہے کہ حضور تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عقیقہ مبارک خود فرمایا ہے کہ نہیں، ان دو سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں ۔

    سائل:محمد اکرام


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    عقیقہ کا مقصد بچے کی پیدائش پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے۔ عقیقہ کرنا واجب نہیں، اس لیے اگر کوئی شخص عقیقہ نہ کرے تو وہ گناہ گار نہیں ہوتا۔ تاہم لڑکا ہو یا لڑکی، دونوں کا عقیقہ کرنا مستحب ہے۔ افضل یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے ساتویں دن اس کا نام رکھا جائے اور اسی دن اس کا عقیقہ بھی کیا جائے۔ اگر ساتویں دن عقیقہ کرنا ممکن نہ ہو تو بعد میں جب بھی کیا جائے، سنت ادا ہو جائے گی۔

    بعض علماءنے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر ساتویں دن ممکن نہ ہو تو چودہویں یا اکیسویں دن عقیقہ کرنا بہتر ہے، یعنی سات سات دن کا لحاظ رکھا جائے۔ساتویں دن کے حساب میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پیدائش کا دن شمار میں شامل ہوتا ہے، اس لیے ساتواں دن دراصل پیدائش کے دن سے ایک دن پہلے والا دن بنتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر بچہ جمعہ کے دن پیدا ہو تو ساتواں دن جمعرات ہوگا، اور اگر ہفتہ کو پیدا ہو تو ساتواں دن جمعہ شمار ہوگا۔ اس طریقے سے عقیقہ کرنے میں سات دن کی تعداد پوری ہو جاتی ہے اور ساتویں دن کی سنت بھی ادا ہو جاتی ہے۔

    اگر کسی شخص نے عقیقہ نہ کیا اور اسی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا تو وہ بھی گناہ گار نہیں ہوگا۔نیز یاد رکہا جائے کہ مردہ کی جانب سے عقیقہ نہیں ہوسکتا۔

    عقیقہ کا طریقہ:

    لڑکے کی طرف سے دو جانور (دو بکرے یا بکریاں) اور لڑکی کی طرف سے ایک ا جانور (ایک بکرا یا بکری) عقیقہ کرنا مستحب ہے۔ تاہم اگر لڑکے کے عقیقہ میں دو جانوروں کی استطاعت نہ ہو تو ایک جانور (ایک بکرا یا بکری) کرنے سے بھی عقیقہ ادا ہو جائے گا۔ اسی طرح بڑے جانور کی قربانی سے بھی عقیقہ درست ہو جاتا ہے۔ اگر ایک ساتھ کئی بچوں کا عقیقہ مقصود ہو تو بڑے جانور میں سات تک حصے کیے جا سکتے ہیں، اور ہر حصہ ایک جانور کے قائم مقام ہوگا۔ اس طرح بچی کے لیے ایک حصہ اور بچے کے لیے دو حصے مقرر کرنے سے مسنون عقیقہ ادا ہو جائے گا۔

    (2)جہاں تک بات ہے حضور علیہ السلام کا بذات خود اپنا عقیقہ کرنا،تو بعض روایات میں آیا تو ہے مگر محدثین کا ان پر کلام ہے۔

    حضور علیہ السلام نے عقیقہ کے بارے میں فرمایا:رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالعَمَلُ فِي العَقِيقَةِ عَلَى مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ «عَنِ الغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الجَارِيَةِ شَاةٌ» وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَيْضًا أَنَّهُ «عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ بِشَاةٍ» وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ إِلَى هَذَا الحَدِيثِ ترجمہ:حضرت عبید اللہ بن ابی رافع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے حضرت حسن بن علی کے کان میں اذان دی، جب سیدہ فاطمہ نے انہیں جنم دیا، نماز کی اذان دی۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔اور عقیقہ کے بارے میں عمل اسی پر ہے جو نبی ﷺ سے مختلف طرق سے روایت ہوا ہے کہ:لڑکے کی طرف سے دو برابر بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے۔اور نبی ﷺ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ میں ذبح کی۔اور بعض اہلِ علم نے اسی حدیث (ایک بکری والی روایت) کو اختیار کیا ہے۔(سنن ابی داود:باب الاذان فی اذن المولود،حدیث:1514،جلد:4،ص:94 ،مطبوعہ مصطفى البابي الحلبي مصر)

    عقیقہ کے مقصد کے متعلق بہار ِشریعت میں ہے : بچہ پیدا ہونے کے شکریہ میں جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اس کو عقیقہ کہتے ہیں۔ حنفیہ کے نزدیک عقیقہ مباح و مستحب ہے۔ (بہار شریعت ،ج03،حصہ 15،ص355،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)

    بہارشریعت میں ہی ہے:عقیقہ کےلیے ساتواں دن بہتر ہے اور ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کر سکتے ہیں، سنت ادا ہو جائے گی۔ (بہار شریعت ،ج03،حصہ 15،ص356،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)

    عقیقہ ساتویں دن افضل ہے، دن گنتی میں پیدائش شامل ہوتی ہے۔ اگر ساتویں دن ممکن نہ ہو تو بعد میں کبھی بھی کیا جا سکتا ہے، اور 14ویں یا 21ویں دن کرنا بہتر ہے۔اس بارے میں ہے:عقیقہ کے لیے ساتواں دن بہتر ہے اور ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کرسکتے ہیں سنت ادا ہو جائے گی۔ بعض نے یہ کہا کہ ساتویں یا چودہویں یا اکیسویں دن یعنی سات دن کا لحاظ رکھا جائے یہ بہتر ہے اور یاد نہ رہے تو یہ کرے کہ جس دن بچہ پیدا ہو اوس دن کو یاد رکھیں اوس سے ایک دن پہلے والا دن جب آئے وہ ساتواں ہوگا مثلاًجمعہ کو پیدا ہوا تو جمعرات ساتویں دن ہے اور سنیچر کو پیدا ہوا تو ساتویں دن جمعہ ہوگا پہلی صورت میں جس جمعرات کو اور دوسری صورت میں جس جمعہ کو عقیقہ کریگا اوس (اُس) میں ساتویں کا حساب ضرور آئے گا۔(بہارِشریعت، ج3،ص356)

    مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے سوال ہوا کہ مردہ کی جانب سے ”عقیقہ“ جائز ہے،یا نہیں؟ تو آپ نے جواباً تحریر فرمایاہے:مردہ کا ”عقیقہ“ نہیں ہوسکتا کہ عقیقہ دم ِ شکر ہے اور یہ شکرانہ زندہ ہی کیلئے ہوسکتا ہے۔(فتاویٰ امجدیہ،ج 2،ص336)

    عقیقہ کے بارے میں افصل عمل لڑکے کے لیے دو اور لڑکی کے لیے ایک بکرے پر ہے،چنانچہ اس بارے میں سنن ابی داود میں ہے:عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالعَمَلُ فِي العَقِيقَةِ عَلَى مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ «عَنِ الغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الجَارِيَةِ شَاةٌ» وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَيْضًا أَنَّهُ «عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ بِشَاةٍ» وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ إِلَى هَذَا الحَدِيثِ ترجمہ:حضرت عبید اللہ بن ابی رافع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے حضرت حسن بن علی کے کان میں اذان دی، جب فاطمہ نے انہیں جنم دیا، نماز کی اذان دی۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔اور عقیقہ کے بارے میں عمل اسی پر ہے جو نبی ﷺ سے مختلف طرق سے روایت ہوا ہے کہ:لڑکے کی طرف سے دو برابر بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے۔اور نبی ﷺ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ میں ذبح کی۔اور بعض اہلِ علم نے اسی حدیث (ایک بکری والی روایت) کو اختیار کیا ہے۔(سنن ابی داود:باب الاذان فی اذن المولود،حدیث:1514،جلد:4،ص:94 ،مطبوعہ مصطفى البابي الحلبي – مصر)

    عقیقہ کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے: بعض کے نزدیک لڑکا اور لڑکی برابر ہیں (ہر ایک کی طرف سے ایک بکری)، بعض کے نزدیک لڑکے کے لیے دو اور لڑکی کے لیے ایک، اور راجح یہ ہے کہ لڑکی کے عقیقہ کی نفی درست نہیں اور لڑکے کے لیے ایک کم از کم اور دو افضل ہیں۔ اس بارے میں مرقاۃ المفاتیح میں مذکور ہے:(عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ - ﷺ -): أَيْ ذَبَحَ (عَنِ الْحَسَنِ بِشَاةٍ)، الْبَاءُ لِلتَّعْدِيَةِ أَوْ مَزِيدَةٌ. فِي شَرْحِ السُّنَّةِ: اخْتَلَفُوا فِي التَّسْوِيَةِ بَيْنَ الْغُلَامِ وَالْجَارِيَةِ، وَكَانَ الْحَسَنُ وَقَتَادَةُ لَا يَنْدُبَانِ عَلَى الْجَارِيَةِ عَقِيقَةٌ، وَذَهَبَ قَوْمٌ إِلَى التَّسْوِيَةِ بَيْنَهُمَا عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ بِشَاةٍ وَاحِدَةٍ لِهَذَا الْحَدِيثِ، وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : كَانَ يَعُقُّ عَنْ وَلَدِهِ بِشَاةٍ الذُّكُورَ وَالْإِنَاثَ، وَمِثْلُهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ. وَذَهَبَ جَمَاعَةٌ إِلَى أَنَّهُ يَذْبَحُ عَنِ الْغُلَامِ بِشَاتَيْنِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ بِشَاةٍ. قُلْتُ: أَمَّا نَفْيُ الْعَقِيقَةِ عَنِ الْجَارِيَةِ فَغَيْرُ مُسْتَفَادٍ مِنَ الْأَحَادِيثِ، وَأَمَّا الْغُلَامُ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَقَلُّ النَّدْبِ فِي حَقِّهِ عَقِيقَةً وَاحِدَةً وَكَمَالُهُ ثِنْتَانِ، وَالْحَدِيثُ يَحْتَمِلُ أَنَّهُ لِبَيَانِ الْجَوَازِ فِي الِاكْتِفَاءِ بِالْأَقَلِّ، أَوْ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَا يَلْزَمُ مِنْ ذَبْحِ الشَّاتَيْنِ أَنْ يَكُونَ فِي يَوْمِ السَّابِعِ، فَيُمْكِنُ أَنَّهُ ذَبَحَ عَنْهُ فِي يَوْمِ الْوِلَادَةِ كَبْشًا وَفِي السَّابِعِ كَبْشًا، وَبِهِ يَحْصُلُ الْجَمْعُ بَيْنَ الرِّوَايَاتِ، أَوْ عَقَّ النَّبِيُّ - ﷺ - مِنْ عِنْدِهِ كَبْشًا. وَأَمَرَ عَلِيًّا أَوْ فَاطِمَةَ بِكَبْشٍ آخَرَ، فَنُسِبَ إِلَيْهِ - ﷺ - أَنَّهُ عَقَّ كَبْشًا عَلَى الْحَقِيقَةِ وَكَبْشَيْنِ مَجَازًا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.ترجمہ:حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عقیقہ کیا،حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے ایک بکری ذبح کی۔ یہاں حرفِ باء تعدیہ کے لیے ہے یا زائدہ ہے۔شرح السنۃ میں ہے: غلام (لڑکے) اور جاریہ (لڑکی) کے درمیان برابری کے بارے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ حسن بصری اور قتادہ کے نزدیک لڑکی کی طرف سے عقیقہ مستحب نہیں ہے۔اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے برابری ہے، ہر ایک کی طرف سے ایک ایک بکری، اس حدیث کی بنا پر۔اور حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی اولاد کی طرف سے عقیقہ کرتے تھے، لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی طرف سے ایک ایک بکری۔ اسی طرح عروہ بن زبیر کا بھی قول ہے، اور یہی امام مالک کا قول ہے۔اور ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے۔میں کہتا ہوں:لڑکی سے عقیقہ کی نفی (انکار) احادیث سے ثابت نہیں ہوتی۔اور لڑکے کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ اس کے حق میں کم از کم مستحب ایک عقیقہ ہو، اور اس کی تکمیل دو سے ہوتی ہو۔اور حدیث اس بات کا احتمال رکھتی ہے کہ اس میں کم پر اکتفا کرنے کے جواز کو بیان کیا گیا ہو، یا اس بات کی دلیل ہو کہ دو بکریاں ذبح کرنا لازم نہیں کہ ساتویں دن ہی ہو۔پس ممکن ہے کہ نبی ﷺ نے اس کی ولادت کے دن ایک مینڈھا ذبح کیا ہو اور ساتویں دن ایک اور مینڈھا، اور اس طرح تمام روایات میں تطبیق ہو جاتی ہے۔یا یہ کہ نبی ﷺ نے اپنی طرف سے ایک مینڈھا ذبح کیا ہو، اورحضرت علی یاسیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما کو دوسرے مینڈھے کا حکم دیا ہو، تو نبی ﷺ کی طرف حقیقی طور پر ایک مینڈھا اور مجازی طور پر دو مینڈھوں کا عقیقہ منسوب کیا گیا ہو۔ اللہ سب سے بہتر جاننے والا ہے۔(مرقاۃ المفاتیح فی شرح مشکاۃ المصابیح:باب العقیقہ:حدیث:4154)

    یہ روایت کہ نبی ﷺ نے بعثت کے بعد خود عقیقہ کیا، ضعیف اور منکر ہے، اور اہلِ علم نے اسے قبول نہیں کیا۔اس بارے میں نيل الأوطارشرح منتقی الاخبار (المؤلف: محمد بن علي بن محمد بن عبد الله الشوكاني اليمني (ت ١٢٥٠هـ) میں مذکور ہے :الْبَيْهَقِيُّ عَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - ﷺ - عَقَّ عَنْ نَفْسِهِ بَعْدَ الْبَعْثَةِ» وَلَكِنَّهُ قَالَ: إنَّهُ مُنْكَرٌ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَرَّرٍ بِمُهْمَلَاتٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا كَمَا قَالَ الْحَافِظُ: وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: إنَّمَا تَكَلَّمُوا فِيهِ لِأَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ الْبَيْهَقِيُّ: وَرُوِيَ مِنْ وَجْهِ آخَرَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ. وَأَخْرَجَهُ أَبُو الشَّيْخِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا ابْنُ أَيْمَنَ فِي مُصَنَّفِهِ، وَالْخَلَّالُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ بِهِ. وَقَالَ النَّوَوِيُّ فِي شَرْحِ الْمُهَذَّبِ: هَذَا حَدِيثٌ بَاطِلٌ وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا الطَّبَرِيُّ وَالضِّيَاءُ مِنْ طَرِيقٍ فِيهَا ضَعْفٌ ترجمہ:امام بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ نے بعثت کے بعد اپنی طرف سے خود عقیقہ کیا،لیکن امام بیہقی کہتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے، اور اس کی سند میں عبداللہ بن محرر (بغیر تشدید کے) ہیں، اور وہ بہت زیادہ ضعیف ہیں، جیسا کہ حافظ (ابن حجر) نے کہا ہے۔اور عبدالرزاق کہتے ہیں: اہلِ علم نے ان پر جرح اسی حدیث کی وجہ سے کی ہے۔امام بیہقی کہتے ہیں: یہ روایت ایک دوسرے طریق سے قتادہ کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی ہے، لیکن وہ بھی قابلِ اعتبار نہیں۔اور ابو الشیخ نے بھی ایک اور سند سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسے روایت کیا ہے،اور ابن ایمن نے اپنی مصنف میں،اور خلال نے عبداللہ بن المثنیٰ کے طریق سے ثمامہ بن عبداللہ، وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، وہ اپنے والد سے یہی روایت نقل کی ہے۔اور امام نووی نے شرح المهذب میں فرمایا: یہ حدیث باطل ہے۔اور اسے امام طبری اور ضیاء نے بھی ایسے طریق سے روایت کیا ہے جن میں ضعف پایا جاتا ہے۔(نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار:کتاب العقیقہ و سنۃ الولادۃ،جلد:5،ص:161 مطبوعہ دارالحدیث مصر)

    مزید اس بارےمیں ہے:عَنْ أَنَسٍ قَالَ عَقَّ النَّبِيُّ ﷺ عن نفسه بعد ما بُعِثَ بِالنُّبُوَّةِوَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَرَّرٍ لَيْسَ حَدِيثُهُ بِحُجَّةٍوَقَدْ قِيلَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِهِ ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے نبوت عطا کیے جانے کے بعد اپنی طرف سے عقیقہ کیااور عبد اللہ بن محرر ایسا راوی ہے کہ اس کی حدیث حجت نہیں ہے،اور قتادہ کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔(الاستذکار المؤلف: أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمري القرطبي (ت ٤٦٣هـ):باب العمل فی العقیقہ،جلد:5،ص:318 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: عبدالخالق بن محمد عیسیٰ

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:1447 ھ/31دسمبر 2025ء